Home / Uncategorized / ’ابھی جتنا سونا خرید سکتے ہو خرید لو کیونکہ۔۔۔‘ اسامہ بن لادن کا اپنے ساتھیوں کو لکھا گیا خط منظر عام پر، سونا خریدنے کی تلقین کیوں کی؟ آپ بھی وجہ جانئے
’ابھی جتنا سونا خرید سکتے ہو خرید لو کیونکہ۔۔۔‘ اسامہ بن لادن کا اپنے ساتھیوں کو لکھا گیا خط منظر عام پر، سونا خریدنے کی تلقین کیوں کی؟ آپ بھی وجہ جانئے

’ابھی جتنا سونا خرید سکتے ہو خرید لو کیونکہ۔۔۔‘ اسامہ بن لادن کا اپنے ساتھیوں کو لکھا گیا خط منظر عام پر، سونا خریدنے کی تلقین کیوں کی؟ آپ بھی وجہ جانئے

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن بنیادی طور پر ایک کاروباری شخص تھے اور ان کی اس کاروباری ذہنیت کا اندازہ ان کے گزشتہ دنوں منظرعام پر آنے والے ایک خط سے لگایا جا سکتا ہے جو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو 2008ءمیں لکھا تھا۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن کو مستقبل میں سونے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی توقع تھی اور انہوں نے اس خط میں اپنے ساتھیوں کو لکھا کہ ”ابھی جتنا سونا خرید سکتے ہو خرید لو۔ اپنی تمام رقم کو سونے میں تبدیل کر لو کیونکہ مستقبل میں سونے کی قیمت بہت زیادہ ہونے والی ہے۔“
رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن نے خط میں پیش گوئی کی تھی کہ سونے کی فی اونس قیمت دوگنا ہو کر 3ہزارڈالر(تقریباً3لاکھ روپے)تک جائے گی۔جن دنوں انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ خط لکھا تھا ان دنوں سونے کی فی اونس قیمت 1ہزار414ڈالر(تقریباً1لاکھ 41ہزار روپے) کی سطح پر تھی اور ان کی پیش گوئی کے برعکس اس وقت سونے کی قیمت کم ہو کر 1ہزار 320ڈالر(تقریباً1لاکھ 31ہزار روپے) کی سطح پر آ گئی ہے۔ ان کے کمپاﺅنڈ سے ملنے والے اس خط میں انہوں نے القاعدہ کے جنرل منیجر عطیہ عبدالرحمن کو لکھا تھا کہ پاکستانی کرنسی خریدنے سے گریز کیا جائے کیونکہ اس کی قدر میں کمی آ رہی ہے۔ اور چونکہ امریکہ کو وہ اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے تھے لہٰذا انہوں نے ڈالر خریدنے کی بجائے سونے کو ترجیح دی۔
انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ ”اگرچہ سونے کی قیمت میں اتارچڑھاﺅ آتا رہے گا مگر آئندہ چند سالوں میں اس کی قیمت 3ہزار ڈالر فی اونس تک چلی جائے گی۔“انہوں نے نصیحت کی کہ ”سونا سکوںیا 10تولے کی سلاخوں کی صورت میں خریدا جائے۔اور باقی بچ جانے والی رقم یورو، کویتی دینار اور چینی ین میں تبدیل کر لی جائے۔ یہ رقم پہلے خرچ کی جائے اور اس کے بعد سونے کواستعمال میں لایا جائے۔“واضح رہے کہ ان دنوں القاعدہ نے افغان حکومت سے ان کے سفیروں کی رہائی کے بدلے 50لاکھ ڈالر (تقریباً50کروڑ روپے) تاوان لیا تھا اور اسی رقم کو بروئے کار لانے کے حوالے سے یہ خط لکھا گیا تھا۔

Comments are closed.

Scroll To Top