Home / Uncategorized / اسحاق ڈار کے بچے دبئی میں کیا کاروبار کرتے ہیں؟ تفصیلات جان کر آپ کے پیروں تلے زمین نکل جائے گی
اسحاق ڈار کے بچے دبئی میں کیا کاروبار کرتے ہیں؟ تفصیلات جان کر آپ کے پیروں تلے زمین نکل جائے گی

اسحاق ڈار کے بچے دبئی میں کیا کاروبار کرتے ہیں؟ تفصیلات جان کر آپ کے پیروں تلے زمین نکل جائے گی

13162148_1690324021222294_22496136_n

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی مبشر لقمان نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار اور حسنین ڈار دبئی میں کئی کاروبار چلا رہے ہیں اور اتنے امیر ہیں کہ عربی شہزادوں کی طرح انہیں بھی اگر کچھ پسند آ جائے تو اسے فوراً خرید لیتے ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام ”کھرا سچ“ میں دبئی میں کاروبار سے متعلق انکشافات کرتے ہوئے مبشر لقمان نے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بچے علی ڈار اور حسنین ڈار بظاہر تو بڑے معصوم نظر آتے ہیں مگر ان کے بڑے کاروبار ہیں۔ اگرچہ شکلوں سے یہ بچے لگتے ہیں مگر اربوں روپے کے مالک ہیں، یہ اتنے امیر ہیں کہ اربوں کی طرح انہیں بھی جو پسند آتا ہے فوری خرید لیتے ہیں، چاہے وہ کوئی پینٹنگ ہو یا کوئی مہنگی گاڑی۔ اس کی ایک مثال تو یہ ہے کہ 2014ءمیں سکاٹش آرٹسٹ نے گلف میں اپنی پینٹنگز کی نمائش کی تو علی ڈار نے یہ پینٹنگز پتہ نہیں کتنے ہزار پاﺅنڈ میں خرید لی۔
حسنین ڈار اور علی ڈار دبئی میں ایچ ڈی ایس گروپ کے مالک ہیں (جس کا مطلب اسحاق ڈار اینڈ سنز ہے) اور اس گروپ کا مین بزنس رئیل سٹیٹ ہے تاہم اس کے علاوہ دوسرے بزنس بھی چلا رہا ہے جن میں مہنگی ترین گاڑیوں پر مشتمل رینٹ اے کار، دبئی میں سٹیل اور نیا کاروبار شروع کرنے کیلئے سروسز، فوڈ اینڈ بیوریجز، بزنس رجسٹر یشن سروسز اور ڈیلی بینکنگ ضروریات کی لائسنسنگ کا بزنس، پرسنل کسٹمر ریلیشن سروسز، پرسنل گرومنگ سروسز، کلیننگ اینڈ کنسرٹس سروس ہیں۔
ایچ ڈی ایس ایک 39 منزلہ کمرشل رینٹل پراجیکٹ ہے جو 2008ءمیں مکمل ہوا اور یہ دی جمیرا لیکس ٹاور کے اندر موجود ہے، اور اس میں تین بیسمنٹ ہیں اور اس کے 300 یونٹ مالکان ہیں جبکہ اس کی ذمہ داری ایچ ڈی ایس اونرز ایسوسی ایشن مینجمنٹ لمیٹڈ کی ہے۔ اس کے علاوہ ایچ ڈی ایس بزنس سینٹر ہے اور یہ بھی جمیرا لیک ٹاورز میں موجود ہے جو2011ءمیں مکمل ہوا، 41 منزلہ اس عمارت میں 3 بیسمنٹ ہیں اور اس کے 250 یونٹ مالکان ہیں جبکہ اس کا 90 فیصد حصہ الحمد اللہ بک چکا ہے۔
اس کے علاوہ سن سٹار نامی10 منزلہ رہائشی بلڈنگ ہے جس میں 120 اپارٹمنٹس ہے اور یہ سی بی ڈی یعنی انٹرنیشنل سٹی دبئی میں واقع ہے جسے 2012ءمیں مکمل کیا گیا۔ اس میں ایک ہیلتھ سنٹر بھی موجود ہے کیونکہ اس کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پھر ایچ ڈی ایس سن سٹار 2 دبئی میں موجود اعلیٰ بلڈنگ میں سے ایک شمار ہوتی ہے، اس کے 140 اپارٹمنٹس ہیں جن کی ماربل گرے نائٹ اور ڈارک ووڈ سے آرائش کی گئی ہے، اس کے ٹاپ فلور پر سوئمنگ پول بھی موجود ہے اور اس کے ساتھ جمنیزیم بھی ہے۔
اس کے بعد سوبا آئیوری ون اینڈ ٹو ہیں۔ یہ دونوں عمارتیں دبئی میں پرائم بزنس ایریاز میں موجود ہے اور اس جگہ تک رسائی آسانی سے شیخ زید سٹریٹ سے کی جا سکتی ہے جو بزنس کے حوالے سے دبئی میں کام کرنے والوں کیلئے سب سے اہمیت کا حامل ہے ۔ 2009ءمیں مکمل ہونے والی اس 12 منزلہ عمارت کے 2 بیسمنٹ اور 3 پوڈیمز ہیں اور اس کے 110 یونٹ مالکان ہیں۔
اس کے بعد ”ٹیک اے بریک“ نامی کافی شاپ ہے اور یہ ایچ ڈی ایس ٹاور میں موجود ہے جسے 2011ءمیں شروع کیا گیا تھا۔ ایچ ڈی ایس لٹل گالف کلب کو 2013 ءمیں شروع کیا گیا جس میں مہمان خصوصی کے طور پر احمد بن سلیمان کو بلایا گیا۔ اس گالف کلب میں ایسی آسائشیں موجود ہیں جو کسی کیلئے بھی پرلطف زندگی گزارنے کیلئے بہت ہیں۔ پھر ایچ ڈی ایس رینٹ اے کار آتا ہے جس میں دنیا کی مہنگی ترین لگژری گاڑیاں رینٹ پر دی جاتی ہیں۔ علی اور حسنین ڈار نے اپنا شوق پورا کرنے کیلئے پیسوں سے خوب عیش کی اور لگژری گاڑیوں کا رینٹ اے کار شروع کیا جنہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ کسی شاہی خاندان کے شہزادے کی گاڑیاں ہیں، ان کے بیڑے میں دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں شامل ہیں۔
علی ڈار اور حسنین ڈار کی عمر تو کچھ نہیں لیکن ان کے اثاثے والدین کے ظاہر کردہ اثاثوں سے بہت بڑے ہیں، اور کئی امیروں کے اثاثے اتنے کم عرصے میں کیسے بڑھ گئے، اسے نہ تو کوئی کمیشن ثابت کر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی انکوائری ثابت کر سکتی ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top