Home / Uncategorized / امریکا میں لٹنے والے پاکستانی نژاد ڈاکٹروں کیلئے امید کی کرن
امریکا میں لٹنے والے پاکستانی نژاد ڈاکٹروں کیلئے امید کی کرن

امریکا میں لٹنے والے پاکستانی نژاد ڈاکٹروں کیلئے امید کی کرن

اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی احتساب بیورو کی جانب سے سال بھر کی جانے والی تحقیقات کے بعد امریکا میں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں کے لئے امید کی کرن پیدا ہو گئی ہے جنہیں ایک پاکستانی ساتھی ڈاکٹر نے ان کی محنت کی کمائی سے محروم کیا اور واپس پاکستان آ کر اسلام آباد میں ایک بڑا ہسپتال قائم کر لیا۔ مذکورہ ڈاکٹر نے سرمایہ کاری کے نام پر امریکا میں سیکڑوں پاکستانی ڈاکٹروں سے اربوں روپے بٹورے۔ نیب کی جانب سے تحقیقات کے نتیجے میں دھوکہ دہی کے مرتکب ڈاکٹر نیب سے رجوع کرنے والے ڈاکٹروں کو ان سے حاصل کردہ رقوم واپس کرنے پر آمادہ ہے۔

روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق قائداعظم انٹرنیشنل ہسپتال اینڈ گلوبل ہیلتھ سائنسز کے ڈاکٹر شوکت بنگش کے خلاف اب تک39 کروڑ روپے کے دعوے نیب کو موصول ہوئے ہیں۔ نیب کے ترجمان نوازش علی عاصم نے تصدیق کی کہ ڈاکٹر شوکت بنگش نے امریکا میں شکایت کنندہ ڈاکٹروں سے لی گئی رقوم کی واپسی کے لئے نیب کو درخواست دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر بنگش کے مطابق ان کے خلاف ایک ایسا ہی کیس امریکا میں بھی دائر ہے لہٰذا انہیں دہرے مقدمہ بازی کا سامنا ہے۔ اس وقت مقدمہ تحقیقات کے مرحلے میں ہے اور رقوم کی وصولیوں کا معاملہ زیرغور ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی جن کی زیرنگرانی مقدمہ زیرتفتیش ہے، ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر بنگش نے پیسے واپس کرنے کی درخواست کئی ہفتوں قبل دے دی تھی لیکن اس معاملے میں اصل رکاوٹ امریکا میں دائر مقدمہ ہے۔ رابطہ کرنے پر ڈاکٹر شوکت بنگش کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ ایسی صورت میں وہ کسی کو پیسے واپس کیوں کریں تاہم انہوں نے اس حوالے سے نیب میں زیرسماعت کیس پر کچھ کہنے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ نیب کے افسران کیا کہہ رہے ہیں۔ امریکا میں ایک شکایت کنندہ ڈاکٹر نثار اکبر نے بتایا کہ دس امریکی شہریوں نے مشی گن میں شوکت بنگش کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے جس پر شوکت بنگش نے بھی مشی گن میں سول کیس دائر کیا جس میں مذکورہ دس مدعیوں کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کی گئی ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والا مقدمہ امریکی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ اس کے برخلاف اب شوکت بنگش نیب سے درخواست کر رہے ہیں چونکہ مقدمہ امریکا میں زیرسماعت ہے لہٰذا وہ پاکستان میں اس کیس کو مسترد کر دے۔

Comments are closed.

Scroll To Top