Home / Uncategorized / امریکی شہر میں اسلام مخالف بل بورڈ، ایسی بات لکھ دی گئی کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو غصہ چڑھادیا، اسے ہٹانے کیلئے آپ بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں، مگر کیسے؟ جانئے
امریکی شہر میں اسلام مخالف بل بورڈ، ایسی بات لکھ دی گئی کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو غصہ چڑھادیا، اسے ہٹانے کیلئے آپ بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں، مگر کیسے؟ جانئے

امریکی شہر میں اسلام مخالف بل بورڈ، ایسی بات لکھ دی گئی کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو غصہ چڑھادیا، اسے ہٹانے کیلئے آپ بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں، مگر کیسے؟ جانئے

12980585_1717395071849377_1719329462_n

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)دہشت گردی کے ناسور نے اگرچہ پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے مگر اس کا سب سے بڑا نشانہ اب تک عالم اسلام ہی بن رہا ہے۔ مغرب میں دہشت گردی کی چند گنتی کی وارداتیں ہوئی ہیں۔اس حقیقت کے باوجود اہل مغرب پھر بھی دہشت گردی کو اسلام سے نتھی کرنے سے باز نہیں آتے اور اکثراوقات اسلام کے خلاف زہراگلتے رہتے ہیں۔ اب امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سینٹ آگسٹن میں اہل مغرب اسلام دشمنی کی تمام حدیں ہی پھلانگ گئے ہیں۔ سینٹ آگسٹن کی ہائی وے اے ون اے پر ایک شخص نے ایک بل بورڈ لگا دیا ہے جس پر اسلام کے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ لکھے گئے ہیں۔اس گستاخانہ بل بورڈکی تنصیب پر تمام عالم اسلام غیض و غضب سے بھر گیا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق اس 14فٹ بلند بل بورڈ پراسلام کے خلاف انتہائی غیر مناسب لفظوں میں زہر اگلا گیا ہے اور نعوذ باللہ اسے فساد کی وجہ کہا گیا ہے۔یہ بل بورڈ کسی آرگنائزیشن یا چرچ کی طرف سے نہیں بلکہ کسی بدبخت شخص کی طرف سے لگایا گیا ہے۔

ایک اور ممتاز قادری منظر عام پر اور وہ بھی ایک اےسے ملک میں جس کا کسی نے سوچا بھی نہ تھا
اس بدطینت شخص کی کمینگی پر عالم اسلام ہی نہیں بلکہ اہل مغرب کے کچھ اچھی فطرت کے لوگ بھی سراپا احتجاج ہیں۔ سینٹ آگسٹن کی رہائشی ایک خاتون بیکے ویلیمز نے اس بل بورڈ کو اتارنے کے لیے ایک آن لائن پٹیشن دائر کر دی ہے جس پراب تک پاکستان، بھارت، برطانیہ، فرانس اور نائیجیریا سے 23ہزار سے زائد افراد دستخط کرچکے ہیں۔ آپ بھی اس پٹیشن پر دستخط کرکے اس بل بورڈ کو ہٹانے کی تحریک میں حصہ لے سکتے ہیں۔بیکے ویلیمز کا کہنا ہے کہ ”ہمیں معاشرے میں نفرت اور عدم برداشت پھیلانے والے کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہیے۔ ہمیں اس شخص کے اس عمل پر غصے کا اظہار کرنا چاہیے تاکہ ہم ثابت کر سکیں کہ ایسے بل بورڈز ہمارے پورے معاشرے کی عکاسی نہیں کرتے۔ ہمیں ایسے ہر پیغام یا اقدام کے خلاف بولنا چاہیے جو ہمارے ہی شہر میں رہنے والے مسلمانوں کو ہم سے الگ اور خوفزدہ کرے اور انہیں غصہ دلائے۔“ رپورٹ کے مطابق جہاں بیکے ویلیمز جیسے کچھ اہل مغرب اس بل بورڈ کے خلاف بول رہے ہیں وہیں کچھ غلیظ سوچ کے حامل افراد اس کی حمایت میں بھی سامنے آ رہے ہیں اور بل بورڈ آویزاں کرنے والے شخص کا دفاع کر رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top