Home / Uncategorized / انڈیا کا بیلاسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم
انڈیا کا بیلاسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم

انڈیا کا بیلاسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم

15مئی 2016ء کو انڈیا نے ایک ایسے میزائل کا تجربہ کیا جو جنوبی ایشیا کے اس خطے میں اپنے اثرات اور کارکردگی کے لحاظ سے ایک واٹرشیڈ سمجھنا چاہیے۔ یعنی فضائی دفاع کا یہ ایک ایسا نظام ہے جو آنے والے برسوں میں نہ صرف پاکستان اور ایران بلکہ بھارت کے دوسرے ہمسایہ ممالک کو بھی چاروناچار ڈویلپ کرنا پڑے گا۔۔۔ آیئے پہلے اس میزائل کے داغے جانے اور موثر ہونے کا مختصر ذکر کرتے ہیں۔
یہ میزائل سپرسانک انٹرسیپٹر میزائل ہے یعنی اس کی رفتار، آواز کی رفتار سے تیز تر ہے اور یہ فضا میں موجود کسی بھی میزائل پر فائر کیا جائے تو حملہ آور میزائل اپنے ہدف پر لگنے سے پہلے ہی اس انٹرسیپٹر میزائل کا نشانہ بن جائے گا اور دونوں فضا ہی میں گرکر تباہ ہو جائیں گے۔
بھارت کے نقشے پر نگاہ ڈالیں تو اس کے مشرقی ساحل پر اڑیسہ نام کی ایک ریاست واقع ہے جس کے نزدیک ہی ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جس کا نام کچھ عرصہ پہلے تک وہیلر آئی لینڈ (Wheeler Island) تھا لیکن گزشتہ برس اس نام کو تبدیل کرکے اس کا نام بھارت کے نامور ایٹمی سائنس دان، میزائل ٹیکنالوجی کے معروف ماہر اور صدر بھارت کے نام پر عبدالکلام آئی لینڈ رکھ دیا گیا ہے۔ 15مئی کو تقریباً صبح گیارہ بجے اسی جزیرے سے یہ سپرسانک میزائل داغا گیا۔ اس کا ہدف وہ بھارتی پرتھوی میزائل تھا جو تقریباً اسی وقت خلیج بنگال میں موجود ایک بھارتی بحری جہاز سے فائر کیا گیا تھا۔ پرتھوی میزائل بھارت کے اولین میزائلوں میں سے ایک ہے۔ فضا سے فضا ، فضا سے زمین اور سمندر سے زمین پر فائر ہونے والے اس کے کئی ورشن ہیں۔ پرتھوی میزائل کا یہ ورشن نیول ورشن تھا یعنی وہ بحری جہاز سے فائر ہو کر بھارت کی طرف خشکی کے کسی ہدف پر فائر کیا گیا تھا۔ اس پرتھوی میزائل کو حریف اور حملہ آور میزائل جان کر عبدالکلام جزیرے سے یہ سپرسانک انٹرسیپٹر میزائل فائر کیا گیا جس نے کامیابی سے اپنے ہی پرتھوی کو فضا ہی میں تباہ کر دیا!۔۔۔
انڈیا کی طرف سے یوٹیوب پر اس فائرنگ کی جو ویڈیو کلب جاری کی گئی تھی اس میں اس انٹرسیپٹر میزائل کو جزیرے سے فائر ہوتے، فضا میں بلند ہوتے، پھر بلندی سے نشیب کی طرف گرتے اور پرتھوی کو فضا ہی میں برباد کرتے دکھایا گیا تھا۔ اگرچہ بحری جہاز سے پرتھوی کی لانچنگ نہیں دکھائی گئی اور نہ ہی اس کی حریفانہ اڑان لائن (Trajectory) دکھائی گئی لیکن انٹرسیپٹر کا پرتھوی سے فضائی تصادم ضرور دکھایا گیا۔ دونوں میزائل آپس میں ٹکراتے ہیں اور فضا میں ایک مہیب آتشیں گولہ نظر آتا ہے اور ساتھ ہی دونوں میزائلوں کے ٹکڑے خلیج بنگال کے پانیوں میں گرتے بھی نظر آتے ہیں۔۔۔ خدا جانے یہ وڈیو کلپ اصلی بھی ہے یا نقلی ہے۔ بھارت قبل ازیں اس سسٹم کے 10ناکام تجربات کر چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ گیارہواں تجربہ تھا۔
یہ سپرسانک میزائل بھارت کا خانہ ساز (Indigenous) میزائل ہے جسے بھارت کی ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپ آرگنائزیشن (DRDO) نے تیار کیا ہے۔ بھارت کی میزائل سازی کی صنعت میں DRDO کا جو رول رہا ہے، وہ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے سارے قارئین کو معلوم ہوگا۔ اس انٹرسیپٹر میزائل کی لمبائی ساڑھے سات میٹر ہے۔ یہ سنگل سٹج میزائل ہے۔ اس کو داغنے کے لئے ٹھوس (بمقابلہ مائع) بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے۔ یہ گائڈڈ میزائل ہے یعنی اس کی نوک پر ایسے آلات لگے ہوئے ہیں جو ہدف پر جا لگنے میں میزائل کی رہنمائی کرتے ہیں۔ اس میں جدید ترین نیوی گیشن آلات اور جدید ہائی ٹیک کمپیوٹر لگا ہوا ہے جو حملہ آور میزائل کی لانچنگ کے ٹائم، اس کی اُڑان لائن، اس کی رفتار، سمت، بلندی اور فاصلے وغیرہ کا خودبخود تعین کرتا اور انٹرسیپٹر میزائل کو اپنے ہدف تک پہنچاتا ہے۔
بہت سے قارئین شائد نہ جانتے ہوں کہ بھارت کا یہ تجربہ ایک نہایت کارگر اور کامیاب تجربہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلے کے ایک نئے دور کے آغاز کی طرف بھی اشارہ ہے۔ پاکستان کئی بار کہہ چکا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ اسلحہ کی دوڑ میں شریک نہیں ہوگا۔ اور سچی بات یہ ہے کہ ہم اس کے متحمل بھی نہیں ہو سکتے۔ بھارت ایک بڑا ملک ہے، اس کی اکانومی بڑھتی اور پھلتی پھولتی ہوئی اکانومی ہے، اسے مغربی ممالک کی تائید اور بالخصوص امریکہ کی ٹیکنالوجیکل امداد حاصل ہے اور وہ ان تمام ملکوں سے (بشمول اسرائیل)جدید اسلحہ بھی درآمد کرتا رہا ہے اور مزید برآں مودی صاحب جب سے آئے ہیں، انہوں نے ’’میک اِن انڈیا‘‘ (Make In India)کا غلغلہ بھی بلند کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں ماضی میں بھی اور آج بھی پاکستان کا موقف یہی رہا ہے کہ ہم اسلحے کی دوڑ میں شریک نہ ہونے کے باوجود بھارت کے مقابلے میں اپنا کم سے کم ڈیٹرنس ضرور تیار رکھیں گے ۔۔۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا ہم اس بلاسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم (BMDS) کا بھی کوئی توڑ کریں گے یا نہیں؟۔۔۔ اس سوال کا جواب وہی ہے جو آپ کے اور میرے دل کی آرزو بھی ہے اور عزم بھی۔۔۔ یعنی پاکستان کو مجبوراً ہی سہی ،اس سسٹم کا توڑ دریافت کرنا پڑے گا!
ویسے دیکھا جائے تو یہ تجربہ بھارت کا اس نوع کا پہلا کامیاب تجربہ ہے۔لیکن معلوم نہیں اس کی منادی کرنے کی بھارتیوں کو کیا ضرورت پڑی تھی۔ آج کل تو سیٹلائٹ سروے لینس کا دور ہے اور کوئی زمینی تجربہ، آسمانی آنکھوں سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ اگر بھارت یہ ویڈیو کلپ جاری نہ بھی کرتا تو اس کے حریف جاری کر دیتے کہ ہر فرعون کے لئے ہر دور میں اللہ کریم نے کم از کم ایک موسیٰ تو پیدا کیا ہی ہوتا ہے!
ابھی اس سپر سانک انٹرسیپٹر میزائل کے مزید کئی تجربے ہوں گے۔ ان سے حاصل شدہ کئی اعداد و شمار (Data) کا ٹیکنیکل تجزیہ کیا جائے گا۔ اس کی روشنی میں کئی ترامیم اور کئی تصیحات کی جائیں گی۔ پھر اس میزائل کی سیریل پروڈکشن شروع ہو گی، اس کی بیٹریاں بنائی جائیں گی ا ور پھر باقاعدہ انڈکشن کی جائے گی۔ فوج میں کوئی بھی نیا ہتھیار یا سازوسامان ایکدم ’’داخل‘‘ یا ’’خارج‘‘ نہیں کیا جاتا اور جام سے لب تک آتے آتے وقت درکار ہوتا ہے۔۔۔اور اسی وقت / وقفے کے دوران ہمیں اس کا توڑ کرلینا چاہیے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) اشرف سلیم پاک فوج کی ایئر ڈیفنس کمانڈ کے کمانڈر کے طور پر ریٹائر ہوئے اور پھر نائیجیریا میں پاکستان کے سفیر بھی رہے۔ ابھی حال ہی میں وہاں سے فارغ ہوئے ہیں۔ میرے احباب میں سے ہیں۔ سر تا پا پروفیشنل سولجر ہیں۔ ان کی (انگریزی)تحریر میں بلا کا اختصار ، پیشہ واریت، فضائی دفاع کے موضوع پر مکمل گرفت اور ایک فاضلانہ شان پائی جاتی ہے۔ بلاسٹک میزائل ڈیفنس کے سلسلے میں بھارت کے اس میزائل کے تجربے کے بعد ان کا ایک مضمون کسی انگریزی اخبار میں شائع ہوا جس کی کاپی مجھے بھی بھیجی گئی۔ اس میں جنرل صاحب نے بڑی وضاحت اور صراحت سے اس سسٹم (BMDS) کی ڈویلپ منٹ کی پوری تاریخ بیان کی ہے جو کارگل وار کے بعد سے لے کر اس میزائل کی فائرنگ تک کے حالات کا بڑی خوبی سے احاطہ کرتی ہے۔ انہوں نے بھارت کے اس تجربے کے بعد پاکستان کے لئے جو آپشن بیان کی ہیں وہ یہ ہیں:
-1 پاکستان کو اپنے میزائلوں اور نیو کلیئر وار ہیڈز کی تعداد میں اضافہ کرنا پڑے گا۔
-2 ہمیں اپنا جوابی بلاسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم قائم کرنا پڑے گا تاکہ اپنے شہروں اور دیگر کلیدی اہداف کی حفاظت کر سکیں۔
-3پاکستان کو دنیا کی طاقتور قوتوں اور علاقائی پاورز سے رابطہ کر کے ان کو اس بات پر آمادہ کرنا ہوگا کہ وہ بھارت کو سمجھائیں کہ وہ جنوبی ایشیاء میں خواہ مخواہ ایک نئی اسلحی دوڑ کا پنگا نہ لے اور ان حرکات سے باز رہے جن کے نتائج نہ صرف اس خطے کے لئے بلکہ دنیا بھر کے لئے تباہ کن ہو سکتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک جوہری بموں اور میزائلوں سے لیس ہیں۔
-4اگر پاکستان اس سلسلے میں کسی کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکے یا انڈیا کے بعض ’’دوست‘‘اسے غلط راستے پر ڈالنے کی روک تھام کے حق میں نہ ہوں تو ایسی صورت میں چین اور روس کو مل کر پاکستان کو اینٹی بلاسٹک میزائل (ABM) چھتری فراہم کرنی چاہئے۔
-5 بھارت کے ساتھ اس موضوع پر جامع مذاکرات کا آغاز کرنا چاہئے۔
بھارتی فضائی دفاع کا یہ سسٹم اس اعتبار سے بھی پاکستان کے لئے چیلنج ہے کہ پاکستان نے اب تک جتنے بھی بلاسٹک میزائل بنا رکھے ہیں ان کے توڑ کرنے (Neutralise) کے امکانات سامنے نظر آ رہے ہیں ۔چونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی جغرافیائی دوری نہیں اس لئے اگر پاکستان اپنی میزائل یونٹوں کو پاک بھارت سرحد کے اوپر صف بند (Deploy) کر دیتا ہے تو اگر پاکستانی میزائل اس سرحدسے بھارت کے کسی ہدف پر فائر کئے گئے اور بھارتی BMDS نے ان کو انٹرسیپٹ بھی کر لیا تو دونوں کا ملبہ بھارتی علاقوں اور شہروں کے اوپر ہی گرے گا(اور اگر پاکستانی میزائلوں پر جوہری بم بھی لدے ہوں گے تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ صورتِ حال کیا ہو جائے گی) علاوہ ازیں اگر پاکستان ملٹی بیرل بیڑیوں سے یہ میزائل فائر کرے تو ان کثیر التعداد میزائلوں کو انٹرسیپٹ کرنا بھی بھارت کے لئے مشکل ہو جائے گا۔ یعنی اگر کسی پاکستانی بیڑی سے بیک وقت 20 میزائل بھی فائر کئے جائیں تو بھارتی انٹرسیپٹر میزائل کتنے میزائلوں کو انٹرسیپٹ کرلے گا؟ جغرافیائی عمق (Depth) نہ ہونے کی وجہ سے یہ سسٹم اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اس کو بھی ملٹی بیرل بیٹریوں سے نہ داغا جائے۔یعنی اگر پاکستان 20میزائل بیک وقت داغتا ہے تو بھارت کو بھی 20انٹرسیپٹرمیزائل ڈاغنے پڑیں گے۔
اور جیسا کہ جنرل اشرف سلیم نے وضاحت کی ہے پاکستان اپنی جغرافیائی لوکیشن کے طفیل نہ صرف یہ کہ ایک تاریخی سنگم پر واقع ہے بلکہ یہ جنوبی و وسطی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ کے دو راہے پر بھی کھڑا ہے۔ مستقبل میں اس کی یہ لوکیشن سٹریٹیجک توازن و تقابل کے تناظر میں اہم ترین رول ادا کرے گی۔ اس حقیقت سے پاکستان کے لئے کوئی مفر نہیں۔ اگر ہم نے زندہ اور قائم رہنا ہے تو ان تمام انواع و اقسام کے چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونا ہمارے مقدر میں لکھا جا چکا ہے۔ اس لئے جتنی جلد ہو سکے پاکستان کو اقتصادی اور عسکری اعتبار سے اپنے آپ کو مستحکم بنانا ہے۔ چار روز پہلے جس بجٹ کا اعلان ہوا اس میں ہماری اقتصادی شرح نمو (پچھلے مالی سال میں) مقررہ ہدف حاصل نہ کر سکی۔ اس کی وجوہات پنڈورا باکس کھول دیں گی۔ تاہم کوشش کرنی چاہئے کہ اس برس یہ شرح 7% تک ہو جائے۔ ہمارے بعض میڈیا ہاؤسز دفاعی بجٹ کے حجم پر تنقید کے آوازے کس رہے ہیں لیکن گزشتہ تین برسوں سے اس بجٹ میں اضافے کا رجحان یکساں (11فیصد) سطح پر جا رہا ہے۔ آئندہ سال (2016-17) میں بھی یہی رجحان ہوگا حالانکہ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ہم اپنی قومی سلامتی اور ملکی دفاع کے کن کن مشکل تقاضوں سے نبرد آزما رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے۔ ایسے میں 860 ارب روپوں کا دفاعی بجٹ قوم کے کاندھوں پر کوئی ایسا نا قابلِ برداشت بوجھ نہیں۔ اپنے ازلی دشمن کے مقابلے میں دفاعی میدان میں ذرا سی بھی غفلت پاکستان کو پاک بھارت دفاعی مساوات میں بہت دور اور بہت پیچھے لے جا سکتی ہے!
ایک اور اہم تر سلسلۂ سوالات جو میرے ذہن کے کسی گوشے سے سر اٹھا رہا ہے وہ یہ ہے کہ سرد جنگ کے زمانے میں کیا ناٹو اور وارسا پیکٹ ممالک جوہری کیل کانٹے سے لیس نہیں تھے؟ کیا ان دونوں فریقین کے پاس ہزاروں ایٹمی اور ہائیڈروجن بم نہیں تھے؟ کیا دونوں سپر پاورز کے پاس سینکڑوں انٹر کانٹی نینٹل بلاسٹک میزائل نہیں تھے؟ کیا دونوں نے یہ ڈیفنس سسٹم ڈویلپ نہیں کرلئے تھے؟ کیا انڈیا نے یہ کوئی انوکھا تجربہ کیا ہے؟ کیا یہ ’’صرف وابستہ بہ پاکستان‘‘ (Pakistan Specific) تجربہ ہے؟ کیا سیکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل اراکین نے ایک دوسرے کے خلاف کبھی اتنا شور شرابہ مچایا ہے جتنا انڈیا اور پاکستان مچا رہے ہیں؟ کیا انڈیا اور پاکستان دونوں کی آبادیاں دماغ کی بجائے دل کی زیادہ اسیر نہیں ہیں؟ کیا دونوں کے حکمران اور عوام اس جذباتی ہیجان کا شکار نہیں جو دوسرے پانچوں جوہری ممالک (سلامتی کونسل کے مستقل اراکین) میں ڈھونڈے سے بھی نہیں پایا جاتا؟۔۔۔
اگر قارئین اس سلسلہء سوالات کا جواب تلاش کرنا چاہیں گے تو ان پر شائد یہ راز آشکار ہو جائے کہ یہ پانچ بڑی جوہری قوتیں چاہتی ہیں کہ اس بلاسٹک میزائل ڈیفنس کے تجربے پاکستان اور بھارت ہی کریں! ان دونوں کے باشندوں کا حال بھی وہی ہو جو 1945ء میں ہیرو شیما اور ناگا ساکی کے جاپانیوں کا ہوا تھا بلکہ ان سے بھی ہزار گنا زیادہ خوفناک ہو!
ذرا مزید غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ہم دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) اس قابل نہیں تھے کہ ہمارے ہاتھ قیامت سے پہلے قیامت برپا کر دینے کی یہ چابی ہاتھ آ جاتی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جنوبی ایشیا کا یہ خطہ جس میں پاکستان بھارت اور ہمارے ہمسایہ ملک شامل ہیں زہرہ، مریخ یا زحل کا کوئی حصہ بن کر رہ جائیں۔ اور باقی رہ جانے والے یورپی ،امریکی اور شاید چند مشرقی خطے ایک نئی دنیا کا آغاز کریں اور ان کی آنے والی نسلیں پانچ براعظموں کی جگہ صرف دو اڑھائی براعظموں تک کی تاریخ اور جغرافیہ پڑھنے تک محدود ہو جائیں!

Comments are closed.

Scroll To Top