Home / Uncategorized / ایمپائر کا غلط فیصلہ، سری لنکن کھلاڑیوں نے لارڈز کے تاریخی میدان میں ایسا کام کر دیا کہ نئی تاریخ رقم کر دی، گوروں کو ان کے دیس میں ہی آئینہ دکھا دیا
ایمپائر کا غلط فیصلہ، سری لنکن کھلاڑیوں نے لارڈز کے تاریخی میدان میں ایسا کام کر دیا کہ نئی تاریخ رقم کر دی، گوروں کو ان کے دیس میں ہی آئینہ دکھا دیا

ایمپائر کا غلط فیصلہ، سری لنکن کھلاڑیوں نے لارڈز کے تاریخی میدان میں ایسا کام کر دیا کہ نئی تاریخ رقم کر دی، گوروں کو ان کے دیس میں ہی آئینہ دکھا دیا

لارڈز (مانیٹرنگ ڈیسک) کسی بھی قوم کیلئے اس کے ملک کا وقار سب سے پہلے ہوتا ہے اور اگر کسی ملک کی کرکٹ ٹیم یہ سمجھے کہ کھیل کے میدان میں اس کیساتھ ظلم ہو رہا ہے تو اسے بھی ملک کی توہین کے طور پر ہی لیا جا سکتا ہے لیکن کرکٹ شرفاءکا کھیل ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس میں احتجاج بھی شریفوں والا ہی ہونا چاہئے۔ سری لنکا اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز کے میدان میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میچ میںایمپائر کے ایک غلط فیصلے کے خلاف سری لنکن کھلاڑیوں نے کمال ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتہائی انوکھا، پرسکون مگر تاریخی احتجاج کر کے گوروں کو ان کے دیس میں ہی آئینہ دکھا دیا۔

ایمپائر نے سری لنکن باﺅلر نوان پردیپ کی اس گیند کو نو بال قرار دیدیا جس پر انہوں نے انگلینڈ کے بلے باز ایلکس ہیلز کو کلین بولڈ کیا تھا تاہم جب ری پلے دیکھا گیا تو اس میں واضح طور پر یہ نظر آیا کہ ان کا پاﺅں لائن کے اندر ہی تھا اور وہ گیند کسی بھی صورت نو بال نہ تھی۔ چونکہ کھلاڑی نوبال سے متعلق ایمپائر کے فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتے ہیں اس لئے انہیں مجبوراً یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا اور نتیجے کے طور پر58 کے انفرادی سکور پر موجود ایلکس ہیلز نے 94 رنز بنا ڈالے اور سری لنکا کو میچ جیتنے کیلئے 362 رنز کا ہدف دینے میں اہم کردار ادا کر گئے۔

سری لنکن کھلاڑی ایمپائر کے خلاف احتجاج تو نہ کرسکے لیکن ڈریسنگ روم میں بیٹھے دیگرکھلاڑیوں نے انوکھا احتجاج ریکارڈ کرا ڈالا۔ انہوں نے ڈریسنگ روم کی بالکونی پر اپنے ملک کا پرچم لٹکا دیا جو تقریباً 45 منٹ تک وہاں موجود رہااور اس طرح انہوں نے کھیل کے میدان میں موجود اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کیساتھ ساتھ دنیائے کرکٹ کو بھی تاریخی پیغام دیدیا۔ کرکٹ کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے اور اس معاملے میں فکرمند لوگوں کیلئے پیغام بھی ہے کہ ایسی بھول چوک بالکل بھی برداشت نہیں کی جائے گی۔
سری لنکن کھلاڑیوں کے اس اقدام کے مستقبل میں کیا اثرات ہوں گے ؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اس اقدام نے کرکٹ کے کرتا دھرتاﺅں کو غور کرنے پر ضرور مجبور کر دیا ہے کہ کھیل کی بقاءکیلئے اس طرح کی غلطیوں پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے جو کھیل کا پانسہ ہی پلٹ دیتی ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top