Home / Uncategorized / بل کلنٹن نے پاکستان کادورہ نواز شریف کو پھانسی سے بچانے کیلئے کیا،مشرف بے نظیر کو وزیراعظم بنا کرخود صدر بننا چاہتے تھے:شوکت عزیز
بل کلنٹن نے پاکستان کادورہ نواز شریف کو پھانسی سے بچانے کیلئے کیا،مشرف بے نظیر کو وزیراعظم بنا کرخود صدر بننا چاہتے تھے:شوکت عزیز

بل کلنٹن نے پاکستان کادورہ نواز شریف کو پھانسی سے بچانے کیلئے کیا،مشرف بے نظیر کو وزیراعظم بنا کرخود صدر بننا چاہتے تھے:شوکت عزیز

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے مارچ 2000میں( مشرف دور ) پاکستان کا دورہ اس لئے کیا تھا تا کہ وہ نواز شریف کو پھانسی سے بچا سکیں۔سعودی عرب اور امریکہ مل کر یہ کوشش کر رہے تھے۔ دونوں مل کر نواز شریف کو ملک سے باہر بھجناچاہتے تھے۔
جیو نیوز کے پروگرام ” آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“ میں پاکستان سے جانے کے بعد پہلے انٹرویو میں شوکت عزیز نے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب نے کہا کہ نواز شریف کو پھانسی نہ دی جائے ان کو باہر جانے دیا جائے۔ہماری طرف سے جواب میں کہا گیا کہ تمام چیزیں قانون کے مطابق ہوگا۔ ہم کسی کی جان نہیں لینا چاہتے۔سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری اور ان کے بیٹے سعد حریری کو پاکستان میں کاروبار کیلئے مدعو کیا۔ انہوں نے یہ کہہ کر پاکستان میں سرمایہ کاری سے انکار کر دیا کہ سعودی عرب پاکستان سے نواز شریف کے معاملے پر ناراض ہے۔مشرف نے ان کو آنے کی اجازت دی۔بعد میں انہوں نے بھی نواز شریف کا جان بخشی کی اپیل کی۔اس بارے میں جب میری بھی رائے مانگی گئی تو میں نے بھی ان کی جان بخشی کی بات کی۔انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کو سعودی عرب خصوصی طور پر بلایا گیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے رچرڈ باوچر نے بتایا تھا کہ مشرف اور بے نظیر بھٹو چاہتے تھے کہ نواز شریف کو واپس نہ آنے دیا جائے۔شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی واپسی کے معاملے میں میرا کوئی کردار نہیں تھا۔امریکہ چاہتا تھا کہ مشرف صدر رہیں اور بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں۔اس بات پر مشرف بھی راضی تھے۔شوکت عزیز نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی واپسی پر کے بعد ان کے جلوس پر کراچی میںحملے کی خبر پر مشرف اور میرے سمیت تما م لوگ سکتے میں آگئے تھے۔ہم لوگ اس وقت کھانے پر اکٹھے تھے۔انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے معاملے پر مجھ سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ مجھ سے ایڈوائس نہیں لی تھی نہ اس کی ضرورت تھی۔ایمرجنسی کے بعد 4نومبر کوجو پریس کانفرنس کی مجھے اب اس کے بارے میں کچھ زیادہ علم نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جلا وطنی کے بعد میری نواز شریف سے سعودی عرب میں اچانک ملاقات ہوئی جس کا میں نے مشرف کو بتا دیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری سے اکثر ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ سٹیل ملز کے فیصلے پر ان سے کوئی تلخی نہیں ہوئی۔ ہم نے اس کے خلاف اپیل کی جو آج تک زیر سماعت ہے ۔ اس کا کوئی فیصلہ نہیں آسکا۔میں نے افتخار چودھری کی مشرف سے کوئی شکایت نہیں کی۔شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ مجھے ان کی برطرفی کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا ۔
لال مسجد کے واقعہ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ اس بارے میں کمیشن کی رپورٹ ہے وہ پڑھ لی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کے بارے میں پتہ ہوتا تھا لیکن کہاں حملہ ہونا ہے کیوں ہوناہے اس کے بارے میں علم نہیں ہوتا تھا۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور امریکہ کی نیو کلیئر ڈیل میں پاکستان بھی شامل ہو جاتا تو اس کے فوائد حاصل ہوتے۔امریکی صدر بش نے کہا کہ ابھی اس معاملے میں پاکستان کو رہنے دیں بعد میں دیکھ لیں گے۔شوکت عزیز نے کہا کہ مشرف نے مجھ سے الیکشن لڑنے کا نہیں کہا ۔میں خود الیکشن نہیں لڑنا چاہتا تھا۔میں نے ملک کو اپنے قیمتی آٹھ سال دیئے جس پر فخر ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top