Home / Uncategorized / بنگلہ دیش میں ہر سال ایک دریا کم ہونے لگا، 50 سال مین 50 دریا ختم ہوگئے
بنگلہ دیش میں ہر سال ایک دریا کم ہونے لگا، 50 سال مین 50 دریا ختم ہوگئے

بنگلہ دیش میں ہر سال ایک دریا کم ہونے لگا، 50 سال مین 50 دریا ختم ہوگئے

13023672_1684258888495474_129710252_n (1)

ڈھاکہ(ویب ڈیسک)بنگلہ دیشی ماہرین نے کہا ہے کہ گزشتہ نصف صدی سے ملک میں سالانہ ایک دریا خشک ہو رہا ہے۔ یہ سب1985میں شروع ہوا جب ملک کے مغربی ضلع راج شاہی سے 45 کلومیٹر کے فاصلے پر واٹر ڈویلپمنٹ بورڈ نے دریا کا زور روکنے کے لیے اس کے دہانے پر ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا۔ ڈیم بنانے کا مقصد دروازوں کے ذریعے سیلاب کے پانی کو کنٹرول کرنا تھا لیکن جن افراد نے ڈیم بنانے کی منصوبہ بندی کی انہوں نے دریا کے بہاو¿ کو روکنے سے پیدا ہونے والے مسائل پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ہی ماہ کے بعد لاکھوں افراد یعنی کسانوں، تاجروں، ماہی گیروں اور ملاحوں کے لیے دریا خشک ہو گیا۔ ایسا ہی شمالی دریا تیستا کے ساتھ ہوا۔ یہ دریا انڈیا سے بنگلہ دیش آتا تھا لیکن انڈیا نے سرحدی علاقے پر دریا پر ڈیم بنا دیا۔ دارالحکومت ڈھاکہ کے درمیان بہتا ہوا دریائے بوڑھی گنگا پر رئیل اسٹیٹ ڈویلپر اور صنعت کاروں کا قبضہ ہے۔ گزشتہ50برس میں بنگلہ دیش میں50 سے زیادہ دریا ختم ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے خشک ہوتے دریاو¿ں کے خطرناک نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور اگر دریاو¿ں کو بچانے کے فوری اقدامات نہیں کئے گئے تو بنگلہ دیش دریائوں کے لحاظ سے مشہور اپنی شناخت کھو دے گا۔

Comments are closed.

Scroll To Top