Home / Uncategorized / بھارتی ریاست بہار میں ’کھانا پکانے پر پابندی‘
بھارتی ریاست بہار میں ’کھانا پکانے پر پابندی‘

بھارتی ریاست بہار میں ’کھانا پکانے پر پابندی‘

13115773_1686680388253324_396206312_n

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں غریبوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے حکومت مسائل بڑھانے میں مصروف نظر آتی ہے۔ایسے ایسے مشورے دیئے جا رہے ہیں کہ غریب اپنی مرضی سے کھانا بھی نا بنا سکے۔ایسی ہی ایک پابندی حال ہی میں لگائی گئی ہے جس میں بھارتی ریاست بہار کے حکام نے مقامی دیہاتیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ موسم گرما کے دوران صبح نو بجے سے شام چھ بجے تک کھانا پکانے سے گریز کریں۔

آفات سے نمٹنے کے ادارے کی جانب سے یہ ہدایت آتشزدگی کے متعدد واقعات کے بعد ریاست کے وزیراعلیٰ کے حکم پر دی گئی۔اس کے علاوہ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ خشک فصلوں کو مذہبی رسومات کے لیے جلانے سے بھی اجتناب کریں۔بہار میں صرف گذشتہ ماہ آگ لگنے کے واقعات کے نتیجے میں 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

آفات سے نمٹنے کے ادارے کے اہلکار ویاس نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایاکہ’آگ لگنے کے واقعات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ زیادہ تر واقعات چولہے کی آگ سے نکلنے والی چنگاری سے پیش آئے ہیں۔اس لیے مشورہ دیا گیا کہ دیہات میں چولہے کی آگ سے کھانا بنانے والے صبح نو بجے سے پہلے کھانا بنا کر آگ بجھا دیں۔‘تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ مذہبی رسومات کے لیے خشک فصلوں کو جلانے کی وجہ سے بھی آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔بہار کے اورنگ آباد ضلع میں ایک مذہبی تہوار کے موقعے پر آتشزدگی کے ایک واقعے میں کم سے کم 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہدایت کی خلاف ورزی کرنے پر آگ لگنے کے کسی واقعے کی تحقیقات میں ذمہ دار کو محکمے کے قوانین کے تحت جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکام نے واضح نہیں کیا کہ ایک غریب دیہاتی اگر آگ میں سب کچھ کھو دیتا ہے تو اس سے جرمانہ کیسے لیا جائے گا۔خیال رہے کہ بھارت میں بہار سمیت دیگر کئی علاقوں میں گرمی کی شدید لہر جاری ہے اور اس کے نتیجے میں آگ لگنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top