Home / Uncategorized / بہتر سفارتکاری:’پاکستان کا مقدمہ پیش کرنا کہیں آسان’
بہتر سفارتکاری:’پاکستان کا مقدمہ پیش کرنا کہیں آسان’

بہتر سفارتکاری:’پاکستان کا مقدمہ پیش کرنا کہیں آسان’

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ آج کا پاکستان 2013 کے مقابلے میں کہیں زیادہ پرامن، خوشحال اور مستحکم ہے اور بہتر سفارت کاری کے باعث آج دنیا کے سامنے پاکستان کا مقدمہ پیش کرنا کہیں آسان ہے۔

اسلام آباد میں سفیروں کی 3 روزہ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے شرکاء کو علاقائی و عالمی امن، ہمسایہ ممالک سے تعلقات اور ترقی کے وژن سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قومی، علاقائی اور عالمی شناخت نہ رکھنے والے ممالک بین الاقوامی سطح پر تنہا ہو جاتےہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تصادم میں الجھنے سے اقتصادی و سماجی میدان میں پیش قدمی رک جائے گی، لہذا ہمیں اپنے مفادات کو عالمی مفادات سے بھی ہم آہنگ بنانا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک سے دہشت گردی کے مراکز کاخاتمہ کردیا گیا ہے اور آج کا پاکستان 2013 سے کہیں زیادہ پرامن، خوشحال اور مستحکم ہے۔

انھوں نے پاکستانی سفیروں کی کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کے سامنے پاکستان کا مقدمہ پیش کرنا کہیں آسان ہے، سفیر پورے اطمینان سے پاکستان کا تصور دنیا کے سامنے رکھ سکتے ہیں اور عالمی برادری کو معاشی خوشحالی اور محفوظ سرمایہ کاری کی طرف متوجہ کرسکتےہیں۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی سے کم و بیش نجات پاچکا ہے اور دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز اور عوام کی قربانیوں کی پوری دنیا معترف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کی خواہش رکھتا ہے لیکن ہماری اس خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستان عدم مداخلت اور خودمختاری کے احترام کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے۔

وزیراعظم نے اس موقع پرچین کو قابل بھروسہ دوست قرار دیا اور کہا کہ پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبہ ایک گیم چینجر ثابت ہوگا اور اس سے خطے میں امن و استحکام پیدا ہوگا۔

‘آج کا پاکستان دنیا سے کہیں زیادہ منسلک’

اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان پہلے کے مقابلے میں دنیا سے آج کہیں زیادہ منسلک ہے۔

سفیروں کی 3 روزہ کانفرنس کے اختتامی سیشن میں خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ 3 سالہ کارکردگی کا جائزہ مخصوص میڈیا کی جانب سے پیش کیے جانے والے اس نقطہ نظر کی حمایت نہیں کرتا کہ پاکستان دنیا میں اکیلا ہوگیا ہے اور اس کی خارجہ پالیسی کی کوئی سمت نہیں ہے۔

خارجہ پالیسی میں پاکستان کی ‘یادگار’ کامیابیاں

پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبہ

چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری

وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات

شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی رکنیت کا حصول

امریکا کے ساتھ اسٹریٹیجک مذاکرات کی بحالی

یورپی یونین اور رشین فیڈریشن سے بہتر تعلقات

مسلم امہ کے ساتھ بہتر تعلقات

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ درحقیقت آج ہم پہلے کے مقابلے میں کہیں مربوط ہیں اور وزیراعظم نواز شریف کے مضبوط، متحرک اور خوشحال پاکستان کے وژن اور پر امن ہمسائیگی کے حصول کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

مشیر خارجہ نے بتایا کہ خارجہ پالیسی میں حکومت کی ‘یادگار’ کامیابیوں میں پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری شامل ہیں، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بھی بہتر تعلقات ہیں، جس کا ثبوت کاسا-1000 بجلی کی درآمد کا منصوبہ اور تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ ہے۔

سرتاج عزیز نے مزید کہا کہ پاکستان نے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کی بھی مکمل رکنیت حاصل کی، جو خطے میں اس کی علاقائی و سیاسی حمکت عملیوں کی عکاس ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان درست سمت پر گامزن ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے امریکا کے ساتھ اسٹریٹیجک مذاکرات بحال کیے ہیں اور پاکستان کے اہم قومی مفادات کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے سیکیورٹی اور معاشی ترقیوں کے ایجنڈے کو مزید وسیع کیا ہے۔

سرتاج عزیز کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے یورپی یونین اور رشین فیڈریشن سے بھی مضبوط تعلقات ہیں۔

مشیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے مسلم امہ کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو مضبوط کیا ہے جبکہ گذشتہ برس تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان نے اپنے نو لاکھ 50 ہزار کارکن خلیجی ممالک بھیجے، جن میں سے 523 ملین سعودی عرب اور 326 ملین متحدہ عرب امارات گئے۔

انھوں نے اقوام متحدہ اور دیگر علاقائی تنظیموں میں پاکستان کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔

یاد رہے کہ دفتر خارجہ میں پاکستانی سفیروں کی 3 روزہ کانفرنس یکم اگست کو شروع ہوئی تھی۔

کانفرنس میں امریکا (واشنگٹن ڈی سی) میں تعینات پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی، چین (بیجنگ) میں تعینات سفیر مسعود خالد، ہندوستان (نئی دہلی) میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط، اقوام متحدہ (نیویارک) میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی، ویانا میں پاکستانی سفیر عائشہ ریاض، یورپی یونین (برسلز) میں پاکستانی سفیر نغمانہ پاشمی، افغانستان میں پاکستانی سفیر ابرار حسین، اقوام متحدہ Utv-Line(جینیوا) میں پاکستانی سفیر تہمینہ جنجوعہ اور روس (ماسکو) میں تعینات پاکستانی سفیر قاضی خلیل اللہ نے شرکت کی۔

Comments are closed.

Scroll To Top