Home / Uncategorized / ترک صدر پر تنقید کرنے والے کامیڈین کیخلاف مقدمہ ،امریکی اخبار کی جرمن چانسلر پر شدید تنقید
ترک صدر پر تنقید کرنے والے کامیڈین کیخلاف مقدمہ ،امریکی اخبار کی جرمن چانسلر پر شدید تنقید

ترک صدر پر تنقید کرنے والے کامیڈین کیخلاف مقدمہ ،امریکی اخبار کی جرمن چانسلر پر شدید تنقید

12596021_1684255181829178_488447944_n

نیویارک ٹائمز(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریئے میں ترک صدر رجب طیب ایردوان کو طنز کا نشانہ بنانے والے جرمن کامیڈین کیخلاف مقدمہ چلانے کے اعلان پر چانسلر میرکل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔منگل کے روز اپنے اداریئے میں امریکی اخبار نے لکھا کہ رجب طیب ایردوان ترکی میں اپنے خلاف اٹھنے والی تمام آوازوں کو دبانے اور وہاں ایک آمرانہ طرز حکومت قائم کرنے میں مصروف ہیں اور ایسے میں جرمن چانسلر کی جانب سے ایک کامیڈین پر مقدمہ چلانے کا اعلان ترک صدر کے سامنے جھکنے کے مترادف ہے۔چند روز قبل ایک جرمن ٹی وی چینل پر ایک مزاحیہ پروگرام میں جرمن کامیڈین ڑان بوئمرمان نے ترک صدر ایردوان کو ایک انتہائی طنزیہ نظم کا نشانہ بنایا تھا، جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ ایردوآن کس طرح ترکی میں آزادی رائے اور آزادی صحافت کو ہدف بنا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس نظم میں ایردوان پر انتہائی نازیبا جملے بھی لکھے گئے۔اس پر ترک حکومت کی جانب سے میرکل حکومت کو ایک باقاعدہ درخواست ارسال کی گئی تھی، جس میں کہا گیا کہ اس کامیڈین کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ بعد میں میرکل نے بھی اس نظم کو ’دانستہ طور پر بے عزتی‘ قرار دیتے ہوئے بوئمرمان کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی تھی۔
اس حوالے سے نیویارک ٹائمز لکھتا ہے کہ، ”چانسلر میرکل کے پاس دو راستے ہیں، یا تو وہ ایردوان کے فضول مطالبے کو تسلیم کر لیں یا پھر دوسری صورت میں وہ مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے ترکی کے ساتھ کی گئی ڈیل اور ترکی کے وعدوں کا ساتھ دیں۔“
اداریے میں مزید لکھا گیا کہ جمعے کے روز میرکل کی جانب سے بوئمرمان کے خلاف مقدمہ چلانے کے اعلان سے ایک نہایت ’غلط اشارہ‘ ترکی کو دیا گیا ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ یورپ کو مہاجرین کے تاریخی بحران کا سامنا ہے اور گزشتہ برس ایک ملین سے زائد شامی، عراقی اور افغان مہاجرین یورپ پہنچے ہیں۔ اس تناظر میں کچھ عرصے قبل یورپی یونین اور ترکی کے درمیان ایک ڈیل طے پائی ہے، جس کے تحت ترکی سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ساحلوں سے مہاجرین کو غیرقانونی طور پر یونان پہنچنے سے روکے۔ اس کے بدلے متعدد دیگر مراعات کے ساتھ ساتھ ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت دینے کے عمل میں تیزی لانے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔
امریکی اخبا ر نے کہا ، ”یہ کسی اغواکار کو تاوان ادا کرنے کے مترادف ہے۔ یہ مسئلے کا فوری حل تو ضرور ہے، تاہم اس سے ایک نہایت خطرناک روایت نے جنم لیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کے بعد ایردوان اور ان جیسے دیگر کیا کیا مطالبات کیا کریں گے۔“

Comments are closed.

Scroll To Top