Home / Uncategorized / جیل میں مکھیاں بہت تنگ کرتی تھیں،کھانے کے لئے ملنے والی دال سے مکھی نکال کر پی جاتا تھا ،دنیا میں کوئی نشہ ایسا نہیں جو میں نے استعمال نہ کیا ہو :سنجے دت
جیل میں مکھیاں بہت تنگ کرتی تھیں،کھانے کے لئے ملنے والی دال سے مکھی نکال کر پی جاتا تھا ،دنیا میں کوئی نشہ ایسا نہیں جو میں نے استعمال نہ کیا ہو :سنجے دت

جیل میں مکھیاں بہت تنگ کرتی تھیں،کھانے کے لئے ملنے والی دال سے مکھی نکال کر پی جاتا تھا ،دنیا میں کوئی نشہ ایسا نہیں جو میں نے استعمال نہ کیا ہو :سنجے دت

13162548_1691123877808975_1870132132_n

نئی دہلی (مانیٹڑنگ ڈیسک)بھارتی فلموں کے سپر سٹار اور حال ہی میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں قید کی سزا پوری کر کے رہائی حاصل کرنے والے سنجے دت نے آزاد فضاؤں میں قید کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پونے جیل میں مکھیاں بہت زیادہ ہوتی تھیں جو بہت تنگ کرتی تھی ،چاہے بال ہوں یا کپڑے ہر جگہ مکھیاں چپکی نظر آتی تھیں ،کئی بار تو جیل میں کھانے کے لئے ملنے والی دال میں بھی مکھیاں پائی جاتی تھیں لیکن میں مکھیاں نکال کر دال پی جاتا تھا ۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں اپنی اہلیہ اور بہن کے ہمراہ ’’سنجو بابا ‘‘ نے جیل کے دنوں کی کئی باتیں شرکاء کے ساتھ پہلی مرتبہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ جب میں پہلی مرتبہ جیل گیا تو ان کی بہن پریا اور والد سنیل دت انتہائی دکھی تھے ،راکھی والے دن پریا جیل میں مجھے ملنے آئی تو میں نے اسے وہ کوپن گفٹ کئے جو جیل میں کام کرنے کے عوض مجھے ملے تھے ۔سنجے دت کا کہنا تھا کہ میں جیل میں مکھی والی دال پی جاتا تھا جس کی وجہ سے آج جب کبھی میری بیوی گھر میں دال بناتی ہے ،گھر میں پکنے والی دال میں اگر کوئی خرابی ہو تو میں کوئی شکائیت نہیں کر سکتا۔

سنجو بابا کا کہنا تھا کہ وہ جیل میں قرآن کا مطالعہ کرتے تھے اور گیتا بھی پڑھتے تھے ،جیل میں باتھ روم کے سامنے ہی مندر تھا لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ خدا تو دل میں رہتا ہے ۔انہوں نے کہا میرے جیل میں قید ہونے کے بارے میں میرے بچوں کو علم نہیں تھا ،میں نے اپنے بچوں کو کہا ہوا تھا کہ میں کسی ماؤنٹین ایریا میں شوٹنگ کے لئے گیا ہوا ہوں ،جبکہ اپنی اہلیہ سے بھی کہا ہوا تھا کہ وہ بچوں کو کبھی جیل لے کر نہ آئے،میں نہیں چاہتا تھا کہ بچے مجھے قیدیوں والے زرد لباس اور ٹوپی میں دیکھیں،لیکن میں اپنے بچوں سے مہینے میں دو بار فون پر بات کرلیتا تھا۔

سنجے دت نے جیل کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر خواہشات ختم کر لی جائیں تو زندگی آسان ہو جاتی ہے ،اس لئے میں نے قید کے دوران کسی سے بھی کوئی امید نہیں رکھی تھی ،اور نہ ہی میں نے اپنے کسی دوست سے یہ امید رکھی کہ وہ مجھے جیل میں ملنے آئے گا یا میرے گھر جا کر دیکھے گا کہ دوران قید میرے گریلو حالات کیسے ہیں ؟اب جب میں رہا ہوا ہوں تو کوئی ملنے آتا ہے تو اچھا لگتا ہے ،ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ میں اپنے کسی دوست کے برے وقت میں تواس کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں اور اچھے وقت میں نہ جا پاؤں ۔انہوں نے کہا کہ 23سال قبل مجھے نہیں پتا کہ ’’ٹاڈا قانون‘‘کیا ہے ؟جب مجھے پہلی مرتبہ ٹاڈا قانون کے تحت سزا سنائی گئی تو میں ماریشس میں شوٹنگ کر رہا تھا،میری بہن پریا نے فون پر مجھے سزا کے بارے میں بتایا،شوٹنگ ختم ہونے کے بعد جب ممبئی واپس آیا تو ایئرپورٹ پر ہزاروں پولیس والے میری طرف بندوق تان کر ایسے کھڑے تھے، جیسے میں اسامہ بن لادن ہوں۔

سنجے دت کا کہنا تھا کہ جب میں جیل میں گیا تومیرا وزن 110کلو گرام تھا کیونکہ میں شراب بہت زیادہ پیتا تھا، ایک دن مجھے لگا کہ پیٹ کچھ زیادہ ہی نکل آیا ہے، پھر میں نے خود سے ہی کہا کہ اتنے موٹے پیٹ کے ساتھ مجھے شرم آنی چاہئے ، کون کہتا ہے کہ صرف جم جانے سے ہی فٹنس آتی ہے اور آدمی فٹ صرف جم جوائن کرنے سے ہی رہتا ہے ،میں جیل کی بارک میں ہی واک کرتا اور بالٹیوں سے ویٹ لفٹنگ کرتا،دیوار پر تب تک مکے مار تا رہتا جب تک کلائیاں اور ہاتھ سوج نہیں جاتے تھے ۔سنجے دت نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ آج تک دنیا میں کوئی ایسا نشہ یا منشیات نہیں ہے جو میں نے استعمال نہ کی ہو ،جب میرے پاپا مجھے علاج کے لئے امریکہ لے کر گئے تو وہاں ڈاکٹر نے مجھے ایک لمبی فہرست تھماتے ہوئے کہا کہ اس لسٹ میں سے جو منشیات استعمال کرتے ہو اس کے آگے ’’ٹک ‘‘ کرتے جاؤ تو میں نے پوری لسٹ میں سے سب کے آگے ’’ٹک‘‘ کا نشان لگا دیا ۔

Comments are closed.

Scroll To Top