Home / Uncategorized / حکومت تحفظ پاکستان ایکٹ میں توسیع کرنا بھول گئی ،پنجاب میں بنائی گئی خصوصی عدالتیں ختم
حکومت تحفظ پاکستان ایکٹ میں توسیع کرنا بھول گئی ،پنجاب میں بنائی گئی خصوصی عدالتیں ختم

حکومت تحفظ پاکستان ایکٹ میں توسیع کرنا بھول گئی ،پنجاب میں بنائی گئی خصوصی عدالتیں ختم

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) حکومت تحفظ پاکستان قانون یا پروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ (پوپا)2014میں توسیع کرنا بھو ل گئی ، تحفظ قانون ایکٹ میں توسیع نہ ہونے پر پنجاب میں بنائی گئی پوپا عدالتیں ختم ہو گئیں ۔
24نیوز کے مطابق تحفظ پاکستان قانون میں توسیع نہ ہونے پنجاب میں قائم تین پوپا عدالتیں ختم ہو گئی ہیں اور تحفظ پاکستان عدالت کے جج اعجاز الحسن نے چارج چھوڑ کر ہائی کورٹ کو رپورٹ کر دی ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحفظ پاکستان ایکٹ 15جولائی 2014کو دوسال کیلئے بنایا گیا تھا جس کے بعدپنجاب میں تین خصوصی عدالتیں کام کر رہی ہیں ، ایک عدالت لاہور ، ایک ملتان اور ایک خصوصی عدالت راولپنڈی میں قائم کی گئی تھی۔

ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ لاہو ر کی خصوصی عدالت میں 12مقدمات زیر سماعت تھے جبکہ ملتان میں 11 اور راولپنڈی کی خصوصی عدالت میں دو مقدمات پر سماعت جاری تھی تاہم حکومت تحفظ پاکستان قانون کو پیش نہیں کر سکی جس کے باعث ایکٹ میں توسیع نہیں ہو سکی ۔
یاد رہے ایکٹ کی مقرر 2 سال کی میعاد مکمل ہوچکی ہے جس کے بعد اس ایکٹ کے تحت بننے والی فوجی عدالتیں عملی طور پر تحلیل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات ختم ہوچکے ہیں۔
سینئر قانون دان بیرسٹر ایس ایم ظفر نے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں تحفظ پاکستان ایکٹ کی اشد ضرورت ہے ، خصوصی عدالتیں بنانے کا مقصد مقدمات کو جلد نمٹانا تھا تاہم کچھ لوگ تحفظ پاکستان ایکٹ کے خلاف ہیں ۔ایکٹ میں توسیع نہ ہوئی تو ماورائے عدالت اقدامات میں اضافہ ہو گا ۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی نے 2014 میں تحفظ پاکستان بل 2014 کی منظوری دی تھی جس کا مقصد سیکیورٹی فورسز کو اس بات کی اجازت فراہم کرنا تھا کہ وہ ملزمان کو 15 گریڈ کے افسر کے حکم پر موقع پر ہی گولی کا نشانہ بناسکتے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top