Home / Uncategorized / دنیا کا وہ ملک جہاں بچوں کو شرمناک کام پر مجبور کرکے پیسے کمانا خاندانی کاروبار بن چکا ہے، کونسا ملک ہے؟ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی
دنیا کا وہ ملک جہاں بچوں کو شرمناک کام پر مجبور کرکے پیسے کمانا خاندانی کاروبار بن چکا ہے، کونسا ملک ہے؟ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

دنیا کا وہ ملک جہاں بچوں کو شرمناک کام پر مجبور کرکے پیسے کمانا خاندانی کاروبار بن چکا ہے، کونسا ملک ہے؟ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

منیلا (نیوز ڈیسک) بچوں کے خلاف جنسی جرائم کا مسئلہ دنیا کے ہر ملک میں پایا جاتا ہے، لیکن فلپائن جیسی افسوسناک صورتحال شاید ہی کہیں اور ہو کہ جہاں کمسن بچوں کو ان کے اپنوں نے ہی جنسی تفریح کا سامان بنا کر کمائی کا زریعہ بنا لیا ہے۔
اخبار دی گارڈین کے مطابق اس ملک میں ہزاروں لاکھوں بچوں کو غیر ملکیوں کی جنسی تفریح کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اور ان بچوں کو جنسی کاروبار میں دھکیلنے والا کوئی اور نہیں بلکہ ان کے اپنے والدین ہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فلپائن میں ایک نئی قسم کا جنسی کاروبار فروغ پاچکا ہے جس میں کمسن بچے کمپیوٹر کی سکرین کے سامنے برہنہ ہوکر جنسی حرکات کرتے ہیں اور یہ مناظر بیرون ملک موجود گاہکوں کو براہ راست دکھائے جاتے ہیں۔ پولیس نے حال ہی میں ایک خفیہ آپریشن کے ذریعے بڑے پیمانے پر جاری اس بھیانک کاروبار کا سراغ لگایا۔

ایک خاتون اہلکار نے جنسی کارکن کا روپ دھارکر کچھ بچوں کے ساتھ بے تکلفی اور شناسائی پیدا کی۔ بچوں نے خاتون اہلکار کو بتایا کہ وہ روزانہ کمپیوٹر کے سامنے جنسی شو پیش کرتے ہیں جسے بیرون ملک موجود ان کے گاہک براہ راست دیکھتے ہیں۔ پولیس نے ان معلومات کی روشنی میں جب ایک گھر میںچھاپہ مارا تو کمرے میں ویب کیمرے کے سامنے تین بچیاں موجود تھیں جن کی عمریں 11 سال، 8سال اور تین سال تھیں۔ یہ تینوں بچیاں مکمل طور پر برہنہ تھیں اور ان کے ساتھ ان کی والدہ اور بڑی بہن موجود تھیں، جو ان کا قابل اعتراض شو انٹرنیٹ پر کسی مغربی ملک کے تین کسٹمرز کو دکھارہی تھیں۔
پولیس نے مزید تحقیقات سے پتہ چلایا کہ اس علاقے میں ہر دوسرے گھر میں یہی کام ہورہا تھا۔ والدین اپنی کمسن بچیوں کو کمائی کے لئے استعمال کررہے تھے اور بعض علاقوں میں تو لوگوں کے لئے یہ شرمناک کام آمدنی کا واحد ذریعہ بن چکا تھا۔ تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ فلپائن کے حالات اس مکروہ کاروبار کے لئے نہایت سازگار ہوچکے ہیں۔ اس ملک میں غربت بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی لوگ انگریزی زبان اچھی طرح جانتے ہیں اور انہیں تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ امیر ممالک سے یہاں جنسی ٹورازم کے لئے لوگوں کی بڑی تعداد پہلے ہی آرہی ہے۔ ان تمام حالات کا نتیجہ یہ ہے کہ اب جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کمسن بچوں کو بھی جنسی کاروبار کا حصہ بنادیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان بچوں کو ہمہ وقت جنسی تفریح کے لئے پیش کیا جاتا ہے۔ صبح کے وقت یورپی اور امریکی ممالک کے کسٹمرز کے لئے شو پیش کئے جاتے ہیں جبکہ شام ہونے تک یہی سلسلہ براعظم آسٹریلیا اور مشرق بعید کے کسٹمرز کے لئے شروع ہوجاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بھی تصدیق کی گئی ہے کہ فلپائن میں لاکھوں بچوں کو ان کے اپنے ہی والدین اور عزیز Utv Lineجنسی دھندے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top