Home / Politics / راج ناتھ نے مودی کے دورہ پاکستان کی راہ ہموار کی؟
راج ناتھ نے مودی کے دورہ پاکستان کی راہ ہموار کی؟

راج ناتھ نے مودی کے دورہ پاکستان کی راہ ہموار کی؟

نئی دہلی : اسلام آباد میں ہونے والے سارک کے اجلاس میں کشمیر کے معاملے پر ہندوستانی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور پاکستان وزیر داخلہ چوہدری نثار کے بیانات دونوں ممالک میں خبروں کی زینت بنے لیکن ہندوستانی تجزیہ کار یہ کہہ رہے ہیں کہ راج ناتھ سنگھ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ پاکستان کی راہ ہموار کرنے کیلئے اسلام آباد گئے تھے۔

مودی حکومت کے حامی سمجھے جانےوالے سیاسی تجزیہ نگار اشوک ملک لکھتے ہیں کہ ہندوستان کی جانب سے راج ناتھ سنگھ کوئی ہی کیوں بھیجا گیا، کسی جونیئر وزیر یا سرکاری افسر کو کیوں نہیں بھیجا گیا۔

انہوں نے لکھا کہ بنگلہ دیش نے بھی تو اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات میں تلخی کی وجہ سے وزیر داخلہ کو بھیجنے سے گریز کیا۔

اشوک ملک وزیر داخلہ کے دورہ پاکستان کی دو وجوہات بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اگر راج ناتھ سنگھ نہ جاتے تو پاکستان کو یہ کہنے کا موقع مل جاتا کہ ہندوستان اسلام آباد میں ہونے والے سارک اجلاس کا بائیکاٹ کررہا ہے اور اس سے ہندوستان کو کوئی خاص فائدہ بھی نہیں ہوتا۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ راج ناتھ سنگھ نے اسلام آباد جاکر نومبر میں ہونے والی سارک سربراہ مملک اجلاس میں نریندر مودی کی شرکت کی راہ ہموار کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس عرصے میں کوئی بڑا واقعہ رونما نہ ہوا ہندوستانی وزیر اعظم ممکنہ طور پر پاکستان میں ہونے والی سارک سمٹ میں شرکت کریں گے اور راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کا دورہ کرکے اس کی بنیاد ڈال دی ہے۔

مقامی اخبار دی ہندو نے بھی اس معاملے پر اپنے اداریے میں لکھا کہ ‘وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے دورہ پاکستان کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعات کی گرد اب بیٹھنے لگی ہے لہٰذا اب وقت کی نزاکت کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور جتنی جلدی ایسا ہوگا اتنا ہی ہندوستان کے قومی مفاد اور سارک کیلئے بہتر ہوگا۔

اداریے میں مزید لکھا گیا کہ راج ناتھ سنگھ کا اسلام آباد میں سارک اجلاس میں شرکت کا فیصلہ عقلمندانہ تھا، خطے کا سب سے بڑا ملک ہونے کی حیثیت سے سارک کے آگے بڑھنے میں اس کا اہم حصہ ہے اور تمام تر اختلافات کے باجود راج ناتھ سنگھ کے دورے نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ باہمی تعلقات کے اثرات سارک کے اجلاس پر نہیں پڑنے دینا چاہتے۔

راج ناتھ سنگھ نے سارک اجلاس سے اپنے خطاب میں پاکستان کی میزبانی کا گرم جوشی سے شکریہ ادا کیا تھا تاہم انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے مصافحہ کرنے سے گریز کیا تھا۔

لیکن ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف جب کھٹمنڈو میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شریک تھے تو وہ خود جاکر اس وقت کے ہندوستانی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سے مصافحہ کیا تھا اور ان کے اس اقدام کو کافی سراہا گیا تھا، راج ناتھ سنگھ کے پاس بھی ایسا کرکے ماحول میں کشیدگی کم کرنے کاموقع تھا۔

اخبار نے مزید لکھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا نومبر میں سارک سمٹ میں شرکت کیلئے دورہ پاکستان شیڈول ہے اور شکر ہے کہ راج ناتھ سنگھ کی جگہ کسی جونیئر وزیر کو پاکستان نہیں بھیجا گیا۔

دی ہندو نے کھانا کھائے بغیر واپس آنے پر راج ناتھ سنگھ کی جانب سے پیش کی گئی وضاحت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جسمیں انہوں نے کہا تھا کہ وہ پاکستان لنچ کرنے نہیں گئے تھے۔

اخبار نے لکھا کہ راج ناتھ سنگھ کا یہ عمل اس بات کا اشارہ تھا کہ ان کے دورے کے بڑے مقاصد میں کھانے کی کوئی اہمیت نہیں تھی لیکن وزیر داخلہ کا یہ اقدام غیر ضروری تھا اور پاکستانی اشتعال انگیزی کا جواب ہندوستانی طعنہ زنی سے دینا ہر بار ضروری نہیں ہوتا۔

Comments are closed.

Scroll To Top