Home / Uncategorized / رینجرز کی تحویل میں ہلاکت کا معاملہ، فوج اور رینجرز شائد وہ انصاف نہ کر پائے جس کی ضرورت ہے: نجم سیٹھی
رینجرز کی تحویل میں ہلاکت کا معاملہ، فوج اور رینجرز شائد وہ انصاف نہ کر پائے جس کی ضرورت ہے: نجم سیٹھی

رینجرز کی تحویل میں ہلاکت کا معاملہ، فوج اور رینجرز شائد وہ انصاف نہ کر پائے جس کی ضرورت ہے: نجم سیٹھی

13141086_1690344974553532_1969433694_n

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ رینجرز کی تحویل میں آفتاب احمد کی ہلاکت کے معاملے پر فوج اور رینجرز وہ انصاف نہیں دے پائے گی جس طرح کا ہونا چاہئے۔ نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ آفتاب احمد کا کیس انسداد دہشت گردی عدالت میں چل رہا تھا اور ملزم رینجرز کی تحویل میں مر گیا ہے اور اس لئے اب یہ کیس بھی انسداد دہشت گردی عدالت میں ہی چلنا چاہئے کیونکہ عدالت ملزم کو تحویل میں لے کر تفتیش کرنے کی اجازت دیتی ہے، کسی کو مارنے کی اجازت تو بالکل بھی نہیں دی جا سکتی اور یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ بڑی مشکل بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس معاملے کا فوراً نوٹس لیا ہے جو کہ بہت اچھی بات ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں جس قسم کے انصاف کا تقاضا ہے فوج اور رینجرز اس قسم کا انصاف نہیں دے پائیں گی اور اس کی ایک بڑی سادہ سی وجہ ہے کہ اس وقت دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے جس میں سیکیورٹی والوں نے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھی ہوئی ہیں۔ رینجرز اور پولیس والے شہید ہوئے ہیں، یہ جنگی حالات ہیں جن فوج، رینجرز اور پولیس والے اپنے ساتھیوں کو دشمن کے ہاتھوں مرتے دیکھتے ہیں اور اس وجہ سے جذبات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں اور اگر ایک جانب سے قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو جذبات اور غصے میں دوسری جانب سے بھی ایسا ہو جاتا ہے اس لئے اس معاملے کے حل میں پیچیدگیاں ہوں گی ۔
نجم سیٹھی کہا کہا کہ اگر فوج اس معاملے میں سخت رویہ اختیار کرتی ہے اور ذمہ داران کو عمر قید یا سزائے موت دیتے ہیں تو اس کا متحمل بھی نہیں ہوا جا سکتا کیونکہ جب مجرم کو پکڑا جاتا ہے تو تشدد کے بغیر وہ اپنا جرم قبول نہیں کرتے اور بدقسمتی سے یہی حقیقت ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ کیا تشدد کے زمرے میں آتا ہے اور کیا نہیں لیکن یہاں تو ایسی کوئی قانون سازی نہیں ہے اور بہت سے لوگ تحویل میں مارے جاتے ہیں جن کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ پاکستان میں ماحول بھی ایسا ہے کہ جب تک تشدد نہ کریں تب تک ملزم اپنا جرم بھی قبول نہیں کرتا۔ کچھ ملزم واقعی معصوم ہوتے ہیں اور کہتے رہتے ہیں کہ ہم معصوم ہیں اور اس وجہ سے ان پر اور بھی تشدد ہو جاتا ہے کیونکہ اس نے کچھ کیا ہی نہیں ہوتا اس لئے وہ یہی کہتا ہے کہ اس نے کچھ نہیں کیا ۔

Comments are closed.

Scroll To Top