Error. Page cannot be displayed. Please contact your service provider for more details. (7)

Home / Uncategorized / زندہ سلامت وہ 11 سالہ نیپالی بچہ جو پتھر بننے لگا
زندہ سلامت وہ 11 سالہ نیپالی بچہ جو پتھر بننے لگا

زندہ سلامت وہ 11 سالہ نیپالی بچہ جو پتھر بننے لگا

لندن (ویب ڈیسک) نیپال سے تعلق رکھنے والا 11 بچہ رمیش درجی پتھر بننے لگا ہے ۔ برطانیہ کے اخبار میل کی رپورٹ کے مطابق جلد کی انتہائی اذیت ناک اور عجیب بیماری میں رمیش کو علاج کیلئے والدین ہر جگہ لے کر گئے، لیکن انہیں بتایا گیا کہ علاج بہت مہنگا ہو گا۔ اس بچے کیلئے برطانوی گلوکارہ امید کی کرن بن گئی ہے، جو اس کے علاج کے تمام تر اخراجات اٹھا رہی ہے۔

ایک برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بچے کی والدہ نر کماری کا کہنا ہے کہ رمیش کی پیدائش بھی عام بچوں جیسی تھی۔ ہسپتال سے گھر لوٹنے کے 15 دن بعد رمیش کی جلد چھلکوں کی طرح اترنے لگی اور اس کی جگہ موٹی پیڑی آنے لگی۔ بعد میں اس پر تہہ جمتی چلی جاتی، یہ بہت تکلیف دہ وقت تھا ۔ اس کی حقیقی جلد پتھر یلی ہونے لگی۔ اس صورتحال میں بچے کی شکل دیکھ کر رہی دوسرے بچے خوفزدہ ہونے لگے اور اس صورتحال نے اسے تنہا کر کے رکھ دیا اور کوئی بھی بچہ اس کا دوست نہ بن سکا۔ ماں، باپ اسے ہر جگہ علاج کیلئے لے کر گئے، لیکن ہر جگہ اتنا خرچ بتایا جاتا کہ وہ اپنا سامنہ لے کر رہ جاتے ہیں ۔ ایک طویل عرصے تک انہیں علاج کیلئے کوئی آس ہی نہ رہی۔ماں نرکماری اور باپ ننداہر وقت مایوس رہنے لگے ۔ نندا کا کہنا ہے کہ رمیش کی پیدائش کے 15 دن بعد سے اس کی جلد سے چھلکے اترنا شروع ہو جاتے اور اس کی جگہ موٹی جلد لے لیتی، نئی جلد موٹی سے موٹی اور کالی ہوتی ۔ ہمیں کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیا کریں۔ کوئی انسان بھی ہماری مدد کو آگے نہ بڑھا۔ مقامی ڈاکٹروں نے بیماری کو فنگل انفکیشن قرار دے کر ہاتھ کھڑے کر لئے۔ 5 سال کی عمر میں بچے نے جسم میں شدید درد اور نہ چل سکنے کے بارے میں بتایا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ وہ خود پر بیتی کوئی بات بھی صحیح طرح سے نہیں بتا پاتا۔ وہ ہمیں صرف کھانے یا رفع حاجت کی ضرورت سے ہی درست طورپر بتاپاتا ہے۔ 6 برس کی عمر میں اس کا چلنا پھر نا بھی بند ہو گیا، جو بچہ بھی اسے دیکھتا ، چلاتا ہوا بھاگ جاتا۔ اسی وقت انہیں رمیش کو لاحق بیماری کا نام پتہ چلا ۔ عجیب و غریب مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے رمیش کو آج تک سکول میں داخل نہیں کرایا گیا ۔ نندا کاکہنا ہے کہ وہ ایک مزدور ہے، جس کی ماہانہ کمائی صرف 7 ہزار نیپالی روپے ہے، وہ ہسپتالوں کے بھاری بھر کم بل چکانے کے قابل نہیں ، اسی لئے اسے گھر میں رکھنے پر مجبور ہو گئے، تب غیر متوقع طورپر مدد آگئی۔ بعض افراد نے رمیش کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر چلائی، جس نے برطانوی گلوکارہ جاس اسٹون کو متاثر کیا،جس نے برطانوی گلوکاروں کے ہمراہ کٹھمنڈو میں کنسرٹ کیا، جس سے رمیش کے علاج کیلئے ایک ہزار 375 پاﺅنڈ جمع ہوئے، تاہم یہ رقم ناکافی تھی۔

برطانوی گلوکارہ نے اگلے ہی روز رمیش سے اس کے گھر میں ملاقات کی اور اس کو تحفے دیئے۔ آج کل رمیش کٹھمنڈو میڈیکل کالج میں زیر علاج ہے۔ ڈاکٹروں کو امید ہے کہ وہ رمیش کی زندگی کو آسان بنانے میں کامیاب رہیں گے۔ رمیش کو جب ہسپتال میں داخل کرایا گیا تو اس کی حالت انتہائی خراب تھی۔ اس کی جلد کے چھلکے اتارنے کا تکلیف دہ عمل شروع کرنا پڑا۔ 2 ہفتوں کے دوران اسے اینٹی بایو ٹکس دی گئی ہیں، تاکہ انفیکشن زیادہ نہ ہو۔ تاخیر سے علاج شروع ہونے کی وجہ سے اس کی حالت بہت خراب ہو چکی ہے۔ اس کے نہ چلنے پھرنے کی وجہ سے بھی معاملہ بگڑا۔ بچے کی ہڈیاں اور اعصاب متاثر نہ ہونے کی وجہ سے ہم اس کے علاج کے بارے میں پُر امید ہیں اور جلد اس کی فزیوتھراپی شروع کر دی جائے گی۔

جمع کی گئی رقم سے رمیش اور اس کے والدین کیلئے کٹھمنڈو میں رہائش کا بندوبست کیا گیا ہے، تاکہ انہیں گاﺅں سے شہر کے سفر میں وقت جائع نہ کرنا پڑے۔

Comments are closed.

Scroll To Top