Home / Uncategorized / سب سے بڑا خطرہ! مشرق وسطیٰ میں رہنے والوں کیلئے انتہائی تشویشناک خبر آگئی، جان بچانا چاہتے ہیں تو اس ایک چیز سے خبردار رہیں
سب سے بڑا خطرہ! مشرق وسطیٰ میں رہنے والوں کیلئے انتہائی تشویشناک خبر آگئی، جان بچانا چاہتے ہیں تو اس ایک چیز سے خبردار رہیں

سب سے بڑا خطرہ! مشرق وسطیٰ میں رہنے والوں کیلئے انتہائی تشویشناک خبر آگئی، جان بچانا چاہتے ہیں تو اس ایک چیز سے خبردار رہیں

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) شام میں برسرپیکار شدت پسند تنظیم داعش کے زیرقبضہ علاقوں میں گلیاں گندگی کے ڈھیر بننے کے باعث لیشمنائیاسس(Leishmaniasis)نامی خطرناک جلدی مرض نے جنم لیا جو آہستہ آہستہ چہرے کو مسخ کر دیتا ہے۔ ان علاقوں میں یہ مرض عرصے سے پھیلا ہوا ہے اور اب پناہ گزینوں کی ہجرت کے باعث پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق اس مرض میں لوگوں کے چہرے پر پھوڑے نکلتے ہیں جو ان کے خدوخال کو تباہ کر دیتے ہیں۔ اس بیماری کے جراثیم ریگستانی مکھی کے باعث ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتے ہیں۔ یہ بیماری شام کے شہروں رقہ(Raqqa)، دیر الظور(Deir al-Zour) اور ہساکہ(Hasakah)کو کافی عرصہ پہلے سے پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ ان علاقوں میں ہزاروں ہیلتھ ورکرز کو قتل اور ہسپتالوں کو تباہ کر دیئے جانے کے باعث صحت کی سہولیات ناپید ہو چکی ہیں جو مرض کے پھیلاﺅ کا بہت بڑا سبب ہے۔ قبل ازیں کرد ریڈ کریسنٹ کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ”داعش جن لوگوں کو قتل کرتی ہے انہیں گلیوں میں ہی دفن کر دیتی ہے جس کے باعث یہ مرض پھیل رہا ہے، تاہم سکول آف ٹراپیکل میڈیسنز کے سائنسدان اس دعوے کو غلط ثابت کر چکے ہیں۔ برطانوی اخبار کے مطابق اب تک 40لاکھ سے زائد شامی باشندے ان علاقوں سے ہجرت کرکے ترکی، لبنان ، اردن و دیگر ہمسایہ ممالک میں جا چکے ہیں جن کی وجہ سے یہ بیماری ان ممالک میں بھی پہنچ چکی ہے اور اب پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل رہی ہے۔لبنانی وزارت صحت کے اعدادوشمار کے مطابق 2000ءسے 2012ءکے دوران ملک میں اس مرض کے صرف 6مریض سامنے آئے تھے جبکہ صرف 2013ءمیں 1ہزار 33افراد اس بیماری کا شکار ہوئے جن میں 96فیصد شام پناہ گزین تھے۔ ترکی، اردن، ایسٹر لیبیا اور یمن میں بھی اس کے سینکڑوں کیس سامنے آ رہے ہیں۔یمن کی جنگ کے باعث بہت سے لوگ ہجرت کرکے سعودی عرب میں جا رہے ہیں جس سے وہاں بھی یہ بیماری پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top