Home / Uncategorized / سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں فیصلہ کن گھڑی آگئی، بڑا خطرہ منڈلانے لگا
سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں فیصلہ کن گھڑی آگئی، بڑا خطرہ منڈلانے لگا

سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں فیصلہ کن گھڑی آگئی، بڑا خطرہ منڈلانے لگا

12992240_1717388065183411_1742109094_n

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) نائن الیون حملوں کے بہانے امریکہ کئی مسلم ممالک کو روند چکا ہے، لاکھوں مسلمانوں کو تہہ تیغ کر چکا ہے اور کروڑوں کو بے گھرو بے در اور نان شبینہ کا محتاج بنا چکا ہے مگر شاید اب بھی اس کی طاقت کی خرمستی کم نہیں ہونے پائی اور اب وہ انہی حملوں کو جواز بنا کر مشرق وسطیٰ میں اپنے مفادات کے حصول کے لیے انتہائی اہم مسلم ملک سعودی عرب کے خلاف ایک گھناﺅنی سازش کر رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ہم نے آپ کو خبر دی تھی کہ امریکہ نائن الیون واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ کے ایسے 28صفحات منظرعام پر لانے جا رہا ہے جن میں مبینہ طور پر اس سانحے میں سعودی عرب کے کردار کو بے نقاب کیا گیا ہے۔باقی تحقیقاتی رپورٹ پہلے ہی منظرعام پر لائی گئی ہے مگر امریکی حکام کے مطابق ایک خاص مقصد کے تحت رپورٹ کے یہ 28صفحات پوشیدہ رکھے گئے تھے۔ یہ 28صفحات سعودی عرب اور امریکہ کے مستقبل کے تعلقات کا فیصلہ کریں گے۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق اب امریکہ کے سابق سینیٹر باب گراہم کا کہنا ہے کہ ”باراک اوباما آئندہ60دن میں فیصلہ کریں گے کہ یہ 28صفحات منظرعام پر لائے جائیں گے یا نہیں۔“ باب گراہم کا کہنا تھا کہ”اسامہ بن لادن ایک سعودی کھرب پتی شخص کا بیٹا تھا اور اس کے سعودی شاہی خاندان کے ساتھ گہرے مراسم تھے۔ سعودی جانتے ہیں کہ نائن الیون کے واقعے میں ان کا کیا کردار تھا اور ہم بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں۔ رپورٹ کے ان 28صفحات میں ایسا بہت کچھ ہے جوواقعے میں سعودی عرب کے ملوث ہونے کے ثبوت کے طور پر کافی ہے۔ یہ مواد اس سے قبل ایک خاص مقصد کے تحت خفیہ رکھا گیا تھا مگر اب اسے منظرعام پر آنا چاہیے۔ میری وائٹ ہاﺅس کے حکام سے بات ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ باراک اوباما آئندہ دو ماہ میں اس حوالے سے فیصلہ کر لیں گے کہ یہ صفحات منظرعام پر لائے جانے چاہئیں یا نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ورلڈٹریڈ سینٹر پر حملہ کرنے والے ملزموں کو سعودی حکومت، سعودی عرب کے امراءاور فلاحی اداروں کی مدد حاصل تھی۔“

Comments are closed.

Scroll To Top