Home / Uncategorized / سعودی عرب کے’سائز‘میں اضافہ ہو گیا نئے علاقے ملک کا حصہ بن گئے
سعودی عرب کے’سائز‘میں اضافہ ہو گیا نئے علاقے ملک کا حصہ بن گئے

سعودی عرب کے’سائز‘میں اضافہ ہو گیا نئے علاقے ملک کا حصہ بن گئے

قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) مصر نے سٹریٹجک اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے تیران (Straits of Tiran) اور اس میں واقع جزیرے سعودی عرب کے حوالے کر دیئے ہیں۔ وائی نیٹ نیوز(Ynetnews)کی رپورٹ کے مطابق مصراور سعودی عرب نے اپنی سمندری حدود کا ازسرنوتعین کیا ہے جس کے تحت اب یہ جزیرے سعودی عرب کی ملکیت میں آ گئے ہیں۔ یہ معاہدہ سعودی شاہ سلمان کی دورہ مصر کے دوران اپنے مصری ہم منصب عبدالفتح السیسی سے ملاقات میں طے پایا۔ مصری اخبار الیوم کی رپورٹ کے مطابق مصری کابینہ نے اس معاہدے کی منظوری کا اعلان کر دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں مصری شہر شرم الشیخ کو سعودی عرب سے ملانے کے لیے ایک پل تعمیر کرنے کا معاہدہ بھی کیا گیاہے۔سمندری حدود کے ازسرنو تعین کے لیے سعودی عرب اور مصر کے حکام گزشتہ 6سال میں 11سے زائد ملاقاتیں کر چکے ہیں۔
آبنائے تیران تاریخی اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ ہے۔ پہلے یہ سعودی عرب کی ملکیت تھی مگر 1950ء میں سعودی عرب نے اسے مصر کے حوالے کر دیا تھا۔ مئی 1967ء میں مصر کے سابق صدر جمال عبدالناصر نے اسرائیلی بحری جہازوں کو آبنائے تیران سے گزرنے سے روک دیاتھا جس پر دونوں ملکوں میں جنگ چھڑ گئی۔ یہ جنگ 6دن تک جاری رہی جس کے نتیجے میں اسرائیل نے آبنائے اور اس میں موجود جزیروں پر قبضہ کر لیا۔ 1982ء تک یہاں اسرائیل قابض رہا۔ 1982ء میں عالمی طاقتوں نے مصر اور اسرائیل کے مابین ”کیمپ ڈیوڈ معاہدہ“ کروا دیا جس کے تحت آبنائے سے اسرائیلی بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی گئی اور اسرائیل نے علاقے کا قبضہ ختم کرکے اسے دوبارہ مصر کے حوالے کر دیا۔ تب سے اس علاقے میں ملٹی نیشنل فورس آبزرورز(Multinational Force Observers)کی ایک چوکی قائم ہے جو کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے نگرانی کر رہی ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top