Home / Uncategorized / سعودی کابینہ کے 6 وزیر برطرف، سب سے تجربہ کار وزیربھی فارغ، متعدد وزارتوں کے نام تبدیل کردیے گئے
سعودی کابینہ کے 6 وزیر برطرف، سب سے تجربہ کار وزیربھی فارغ، متعدد وزارتوں کے نام تبدیل کردیے گئے

سعودی کابینہ کے 6 وزیر برطرف، سب سے تجربہ کار وزیربھی فارغ، متعدد وزارتوں کے نام تبدیل کردیے گئے

13162293_1691101441144552_454652188_n

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کابینہ میں شامل  اکیس سال سے موجود وزیرعلی النیامی سمیت 6 وزیروں کو ان کے عہدوں سے برطرف کرکے تین کو نئے قلم دان وزارت سونپ دیے جبکہ متعدد وزارتوں کو آپس میں ضم کرکے نام تبدیل کردیے ہیں۔علی النیامی کو سب سے تجربہ کار وزیرکی حیثیت حاصل تھی اوروہ 1995 ء یعنی 21 سال سے عہدے پر موجود تھے لیکن وسیع ترمعاشی اصلاحات کے پروگرام کے تحت اُنہیں بھی فارغ کردیاگیا۔ 
العربیہ کے مطابق خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے شاہی فرمان کے تحت وزیر صحت انجینئر خالد الفالح، وزیر برائے سماجی بہبود ڈاکٹر ماجد القصبی اور وزیر مواصلات وسائل نقل وحمل انجینئر عبداللہ المقبل ، وزیر صنعت وتجارت ڈاکٹر توفیق الربیعہ ، وزیر حج ڈاکٹر بندر حجار اور20 سال سے وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل کی ذمہ داریاں نبھانے والے انجینئر علی النعیمی کو ان کے عہدوں سے فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ ڈاکٹر فوزان الربیعہ کو وزارت صنعت وتجارت سے ہٹا کر وزیرصحت، ڈاکٹر ماجد القصبی کو وزیر تجارت اور انجینئر خالد الفالح کو توانائی ، صنعت اور قدرتی وسائل کا وزیر مقرر کردیا گیا ہے۔
شاہی فرمان کے مطابق وزارت محنت اور وزارت سماجی امور کو ضم کردیا گیا ہے۔ پانی اور بجلی کی وزارت کو ختم کردیا گیا ہے جب کہ وزارت حج کا نام بدل کر وزارت حج و عمرہ کردیا گیا ہے۔اسی طرح وزارت پٹرولیم کا نام بدل کر وزارت توانائی، صنعت اور معدنی دولت کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تفریح کی ایک جنرل باڈی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔
شاہی فرمان میں متعدد وزارتوں کے نام بھی تبدیل کیے گئے ہیں جس کے بعد’ وزارت تجارت و صنعت کا نام وزارت تجارت و سرمایہ کاری‘،’ وزارت زراعت کا نام وزارت ماحولیات، پانی و زراعت‘ ،’ وزارت اسلامی امور، اوقاف، دعوہ و ارشادکا نام وزارت امور اسلامی، دعوہ و ارشاد ‘ہوگا۔
 میڈیارپورٹس کے مطابق سرکاری آئل کمپنی ارامکو کے چیئرمین خالد الفالح نے 80 سالہ وزیرتیل علی النیامی کو بھی ہٹادیا ،شاہ سلمان کے بیٹے شہزادہ محمد ملک کی معاشی پالیسی کو دیکھتے ہیں اور علی ال نعیمی کو ہٹائے جانے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ تیل پر سخت کنٹرول رکھتے ہوئے پالیسی بدل رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top