Home / Uncategorized / سودی نظام کا خاتمہ، اسلامی نظام معیشت نافذ کیا جائے، 500 علماءکا وزیراعظم کو مراسلہ
سودی نظام کا خاتمہ، اسلامی نظام معیشت نافذ کیا جائے، 500 علماءکا وزیراعظم کو مراسلہ

سودی نظام کا خاتمہ، اسلامی نظام معیشت نافذ کیا جائے، 500 علماءکا وزیراعظم کو مراسلہ

13153287_1691356541119042_36093505_n

لاہور (ویب ڈیسک)جماعت اہلسنّت پاکستان کے مرکزی امیر صاحبزادہ سید مظہر سعید کاظمی اور مرکزی ناظم اعلیٰ علامہ سید ریاض حسین شاہ نے 500 علماءو مشائخ کے دستخطوں کیساتھ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو خصوصی خط ارسال کیا ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت ملک میں نظام مصطفی نافذ کرے کیونکہ آئین حکومت کو نفاذ شریعت کا پابند بناتا ہے، سودی نظام معیشت کا خاتمہ کرکے اسلامی نظام معیشت نافذ کیا جائے، عریانی و فحاشی کے سدباب کیلئے اقدامات کئے جائیں، عدالتوں سے سزا یافتہ گستاخان رسول کو پھانسیاں دی جائیں۔ غیر شرعی حقوق نسواں بل واپس لیا جائے۔ قرارداد مقاصد پر عمل کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم قانون ناموس رسالت میں کسی بھی طرح کی کوئی ترمیم نہ کرنے کا اعلان کریں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لاکر قانون سازی کی جائے۔ آئین کی اسلامی شقوں پر عمل کیا جائے۔ نصاب تعلیم اور نفاذ تعلیم کو اسلامی ڈھانچے میں ڈھالا جائے۔ طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کرکے امیر اور غریب طلبہ کو یکساں تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں۔ سرکاری محکموں میں کرپشن، سفارش اور رشوت کا خاتمہ کیا جائے۔ عدالتی نظام کی خامیاں دور کی جائیں۔ سزا و جزا کا نظام موثر بنایا جائے۔ احتساب کا شفاف نظام تشکیل دیا جائے۔ خط پر جن علماءو مشائخ نے دستخط کئے ہیں ان میں پیر خالد سلطان قادری، پیر میاں غلام یٰسین شاہ، صاحبزادہ غلام صدیق نقشبندی، مفتی محمد اقبال چشتی، پیر سید شمس الدین بخار ی، علامہ فاروق خان سعیدی، علامہ خلیل الرحمن چشتی، مفتی فضل جمیل رضوی، علامہ رفیق احمد شاہ جمالی، صاحبزادہ محمد عثمان غنی، مفتی لیاقت علی، علامہ رضوان انجم، مولانا محمد حنیف چشتی، مولانا شیر محمد نقشبندی، علامہ خالد حسن مجددی، پیر سید فدا حسین شاہ حافظ آبادی، علامہ اللہ بخش رضا، علامہ رضوان یوسف و دیگر شامل ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top