Home / Uncategorized / سی پیک کی افادیت کو کم کرنے کے لئے بھارت ، افغانستان اور ایران کا نئی راہداری تعمیر کرنے کا فیصلہ
سی پیک کی افادیت کو کم کرنے کے لئے بھارت ، افغانستان اور ایران کا نئی راہداری تعمیر کرنے کا فیصلہ

سی پیک کی افادیت کو کم کرنے کے لئے بھارت ، افغانستان اور ایران کا نئی راہداری تعمیر کرنے کا فیصلہ

13115641_1688828084705221_410931306_n

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت نے وسطی ایشیائی ریاستوں کو ایرانی بند ر گاہ چاہ بہار کے راستے دنیا بھر سے تجارتی طور پر منسلک کرنے کے لئے ایک نئی اقتصادی راہداری کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے جس کا بظاہر مقصد 46ارب ڈالر کی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی افادیت کو محدود کر کے پاکستان کو اس کے کثیر الجہتی فوائد سے محروم کرنا ہے۔
خبررساں ایجنسی ’ڈی این ڈی‘ کے مطابق یہ فیصلہ 27اپریل کو نئی دہلی میں افغانستان سے متعلق منعقدہ ڈائر یکٹر جنرل اور جوائنٹ سیکرٹری کی سطح کے بھارت ایران اور افغانستان سہ فریقی مشاورت کے پہلے دور میں کیا گیا تھا جس کے مطابق راہداری کی تعمیر کے لئے بھارت تقریباََ500کروڑ روپے افغانستان کو مہیاکر ے گااو ر یہ منصوبہ دو سال کی قلیل مدت میں مکمل کر لیا جائے گا۔
ذرائع نے بتا یا کہ مشاورت کے نتیجے میں جس نئے اقتصادی راہداری منصوبے کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا اس کے تحت بھارت ایک نئی سڑک بنانے میں افغانستان کو مالی و دیگر معاونت فراہم کرے گا جو افغانستان کے صوبہ ہرات کو لیمان، بالامرغب اور مہمانے سے ہوتی ہوئی شبر گان اور پھر مزار شریف کو ملائے گی۔یہ سڑک وسطی ایشیائی ریاستوں اور افغانستان کے سرحدی علاقوں کے قریب سے گزرے گی جہاں پر افغان حکومت مضبوط ہے اور طالبان ابھی بھی وہاں اپنا اثرورسوخ قائم نہیں کر سکے ہیں۔
یاد رہے کہ بھارت پہلے ہی افغانستان میں 600کروڑ بھارتی روپوں سے 200 سے زائد کلومیٹر لمبی سڑک تعمیرکر چکا ہے جبکہ ہرات سے ایک بڑی سڑک پہلے ہی چاہ بہارتک جاتی ہے ۔نئی سڑک جس کی تعمیر کے لئے بھارت افغانستان کو اپنے انجینئرز بھی فراہم کرے گا ہرات کو مزار شریف سے ملائے گی ۔چونکہ تمام وسطی ایشیائی ریاستیں پہلے ہی سڑکوں کے جال کے ذریعے مزار شریف سے منسلک ہیں لہذا یہ راستہ تمام وسطی ایشیائی ریاستوں کے لئے ایران بندر گاہ چاہ بہار تک رسائی حاصل کرنے کے لئے قریب ترین ہو گا۔
اس سے پہلے بھارت اور ایران افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ شمال جنوب راہداری (North-South Corridor) کے ذریعے منسلک ہیں مگر یہ راستہ بہت طویل ہے ۔ یہ راستہ ایران کے شہر مشہد سے ترکمانستان میں داخل ہو تا ہے اور پھر مارو سے ازبکستان کے شہر بخارہ سے ہوتے ہوئے تاشقند جاتا ہے۔اگرچہ یہ راستہ ایرانی بندر گاہ چاہ بہار کو ترکمانستان، ازبکستان، قزاقستان اور کرغستان سے ملاتا ہے مگر تاجکستان اس راستے سے براہ راست مستفید نہیں ہوتا اور تاجک تاجروں کو یاتو کرغستان سے گزر کر اس راستے پر آنا ہوتا ہے یا پھر ازبکستان سے گزرنا پڑتا ہے۔
شمال جنوب راہداری کے طویل ہونے کی وجہ سے تاجروں کو ناصرف اپنے سامان کی نقل و حمل میں بہت پیسہ خرچ کرناپڑتا ہے بلکہ اس دوران کئی دن بھی لگ جاتے ہیں کیونکہ ہر وسطی ایشیائی ریاست کی سرحد پر مال کو چیک کیا جاتا ہےتاہم بھارت کے تجویز کردہ نئے منصوبے سے نا صرف تمام وسطی ایشیائی ممالک براہ راست چاہ بہار بندگاہ سے منسلک ہو جائیں گے بلکہ تاجروں کو سامان کی نقل و حمل کے لئے صرف افغانستان سے ہی گزرنا ہو گا۔
باثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بھارت تقریباََ500کروڑ روپے اس نئے راستے کے لئے افغانستان کو مہیاکر ے گااو دو سال کی قلیل مدت میں یہ سڑک بنالی جائے گی جس پر ہر طرح کی ٹریفک ہر موسم میں رواں دوں رہے گی۔شمالی جنوب راہداری کی طوالت اور دیگر مسائل کی وجہ سے وسطی ایشیائی ریاستوں نے چین پاکستان اقتصادی راہدار ی کے تحت گوادر بندر گاہ کے استعمال میں اپنی دلچسپی ظاہر کرنا شروع کر دی تھی مگر بھارت کی کامیاب سفارتی اور تجارتی پالیسیوں کی بدولت پاکستان سی پیک کے بیشتر فوائد سے محروم ہو سکتا ہے۔
بھارت کی معاونت سے وسطی ایشیاءکو افغانستان اور ایران کے راستے دیگر دنیا سے منسلک کرنے کے لئے بننے والی سڑک ناصرف سی پیک کی نسبت مختصر اور آسان راستہ ہے بلکہ یہ زیادہ محفوظ بھی ہے۔منصوبے کے تحت چین پاکستان اقتصادی راہداری شورش زدہ بلوچستان اور طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان کے مغربی علاقوں سے ہوتے ہوئے وسطی ایشیاءمیں داخل ہو گی لہذا اس منصوبے کے تحفظ اور وسطی ایشیاءتک رسائی کی تکمیل کے بارے میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top