Home / Uncategorized / شہرت کیلئے کٹھن راہوں پر دوڑتی ماڈل قندیل بلوچ کی زندگی کا سفر بھائی نے ختم کر دیا
شہرت کیلئے کٹھن راہوں پر دوڑتی ماڈل قندیل بلوچ کی زندگی کا سفر بھائی نے ختم کر دیا

شہرت کیلئے کٹھن راہوں پر دوڑتی ماڈل قندیل بلوچ کی زندگی کا سفر بھائی نے ختم کر دیا

 ملتان (کرائم رپورٹر) سکینڈل کوئین فوزیہ عظیم عرف قندیل بلوچ کو اس کے بھائی نے غیرت کے نام پر گلہ دبا کر قتل کردیا۔واردات کی اطلاع ملتے ہی سی پی او ملتان سمیت پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، بزرگ والدین کے مطابق ان کے بیٹے وسیم نے اپنے بھائی سے مشاورت کے بعد پیسے کی خاطر قتل کیا ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گلہ دبا کر قتل ثابت ،قندیل بلوچ کے قتل کی ر پورٹ آئی جی پنجاب نے طلب کرلی ۔تفصیل کے مطابق سوشل میڈیا سے شہرت کی بلندی پر پہنچنے والی فوزیہ عظیم عرف قندیل بلوچ کو تھانہ مظفر آباد کے علاقے کریم ٹاون میں اس کے گھر میں 15اور16جولائی کی درمیانی شب اس کے بھائی وسیم نے گلہ دبا کر قتل کردیا،بعدازاں فرار ہوگیا،گزشتہ صبح جب اس کا باپ عظیم اور والدہ انور مائی نیچے آئے اور بیٹی کو مردہ حالت میں پایا تو پولیس کو اطلاع دی۔اطلاع ملتے ہی سی پی او ملتان اظہر اکرم سمیت پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی،قندیل کے والد عظیم نے پولیس کو بیان دیا کہ قندیل بلوچ چاند رات کو کراچی سے ملتان ہم سے ملنے آئی۔ تب سے اب تک وہ ہمارے ساتھ رہ رہی تھی اس کا بھائی وسیم جو اسے شوبز اور ماڈلنگ سے روکتا تھا وہ بھی 14جولائی کو ملنے آیا تھا۔رات کو ہم سب نے کھانا کھایا اور میں اپنی بیگم کے ہمراہ گھر کے بالائی منزل پر سونے چلا گیاجب کہ قندیل نچلی منزل میں پنکھا چلا کر سورہی تھی۔جسے اس کے بھائی وسیم نے گلہ دبا کر قتل کردیا۔اس دوران انہیں شور کی آواز نہ آئی ۔جب صبح آکر نیچے دیکھا تو قندیل مردہ حالت میں بستر پر پڑی تھی اور بیٹا غائب تھا جبکہ قندیل کی زبان باہر نکلی ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وسیم نے میرے دوسرے بیٹے محمد اسلم شاہین کی مشاورت سے پیسے کی خاطر قتل کیا ہے۔رات گئے پولیس کی ٹیموں نے ڈیرہ غازیخان سے فوزیہ عظیم المعروف قندیل بلوچ کے قاتل وسیم کو گرفتار کر لیا۔ سی پی او آفس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے قاتل نے اعتراف جرم بھی کیا اور کہا کہ گذشتہ چند ماہ میں قندیل بلوچ کے سکینڈلز برداشت نہیں ہوئے اور میں نے 15اور16 جولائی کی درمیانی شب پہلے خواب آور گولیاں دیں اور جب قندیل سو گئی تو میں نے اس کو گلہ دبا کر مار ڈالا۔ ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ مجھے میری ماں کا نام نہیں معلوم اور میں نے اکیلے ہی اسکو قتل کیا اور مجھے اس پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔

 

Comments are closed.

Scroll To Top