Home / Uncategorized / عمران خان پاکستان میں آف شورکمپنی کے’’بابا آدم ‘‘ ہیں ، ان کے سیاست کرنے کا اخلاقی جواز بھی ختم ہو گیا :پرویز رشید
عمران خان پاکستان میں آف شورکمپنی کے’’بابا آدم ‘‘ ہیں ، ان کے سیاست کرنے کا اخلاقی جواز بھی ختم ہو گیا :پرویز رشید

عمران خان پاکستان میں آف شورکمپنی کے’’بابا آدم ‘‘ ہیں ، ان کے سیاست کرنے کا اخلاقی جواز بھی ختم ہو گیا :پرویز رشید

13245834_1693094764278553_1812451674_n

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ عمران خان اپنی آف شور کمپنی کا اعتراف کرچکے ہیں,وہ پاکستان میں آف شور کمپنی کے ”بابا آدم“ ہیں۔آف شورکمپنیوں میں شامل سب سے زیادہ افراد کی تعداد  تحریک انصاف میں شامل  ہے ،میں عمران خان صاحب سے پوچھتا ہوں کہ آپ کے پاس سیاست کرنے کا کیا اخلاقی جواز رہ گیا ہے؟

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراطلاعات نے کہا کہ عمران خان کے مطابق آف شور کمپنی اس لیئے بنائی جاتی ہے کہ لوٹی ہوئی دولت اور منی لانڈرنگ کو چھپایا  اور ٹیکس بچایا جائے ، اب عمران خان ،علیم خان ،جہانگیر ترین ،عمران خان کی محترمہ بہن،اور دوصوبائی وزیروں کےساتھ تحریک انصاف وہ جماعت بن گئی ہے جس کے سب سے زیادہ لوگ آف شورکمپنیوں کے مالک ہیں۔انہوں نے کہا اس کا مطلب بقول عمران خان یہ ہوا کہ ان سب نے ٹیکس بچائے ،  منی لانڈرنگ کی  اور دولت چھپائی۔
پرویز رشید نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی ایک شخصیت کا نام آف شورکمپنیوں کی فہرست میں ہے جس سے کہاوت یاد آتی ہے کہ بد سے بدنام برا۔وزیراطلاعات نے کہا وزیراعظم سمیت مسلم لیگ ن کے کسی بھی وزیریا رکن پارلیمنٹ کا نام آف شور کمپنیوں میں نہیں ہے۔
انہوں نے کہا عمران خان جب آف شور کمپنیوں کے خلاف بیان کررہے تھے تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ عمران خان نے آف شور کمپنی کا نام پہلی بار سنا ہے  اور وہ  آف شور کے کوڑے سے سب کو پیٹ رہے تھے ، ایک ہاتھ میں انہوں نے آف شورکمپنی کا کوڑا جبکہ دوسرے میں ان کی اپنی آف شور کمپنی موجود تھی۔
پرویز رشید نے کہا آف شور کمپنی کے حوالے سے سب سے بڑی ملزم جماعت تحریک انصاف ہے کیونکہ خان صاحب کی کمپنی 1983میں قائم ہوئی  جبکہ پیپلز پارٹی کے رکن کی کمپنی خان صاحب سے 10سال بعد قائم ہوئی اس لئے عمران خان سب سے سینئر ملزم ہیں اور آف شور کمپنیوں کے مالکان کی  تعداد بھی سب سے زیادہ پی ٹی آئی میں شامل ہے۔
انہوں نے کہاعمران کو یہ یاد ہے کہ انہوں نے 1983میں کتنی وکٹیں لیں لیکن انہیں آف شورکمپنی یاد نہیں رہی،اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سچ چھپاتے اور جھوٹ کو اچھالتے ہیں یہی ان کی سیاست اور شخصیت کا خاصہ ہے۔خان صاحب کو اپنی کمپنی کے بارے میں مکمل تفصیلات بتانا ہوں گی کہ اس کمپنی کے تحت آپ نے کتنا اور کہا ں کہاں بزنس کیا اورجائیدادیں بنائیں ؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آپ نے اس کمپنی کو کس خوف کے تحت چھپایا ؟ آپ نے قوم کو کیوں نہیں بتایا کہ آپ بھی ایک کمپنی کے مالک ہیں ؟ آپ نے میڈیا میں آنے کے بعد ہی کمپنی کا اعتراف کیوں کیا؟قرضہ معاف کرانے کی بات ہو تو بھی صرف پی ٹی آئی کا نام آتا ہے، پاکستا ن میں وائٹ کالر کرائم کرنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد خان صاحب کی جماعت میں ہے، غریب بن کر قرضہ جات معاف کرانے والے لوگ بھی آپ کے دائیں بائیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  عمران خان نےوزیر اعظم کو  اخلاقی مجرم قرار دیتے ہوئے نواز شریف صاحب سے استعفیٰ مانگ لیا ، اب ہم پوچھتے ہیں کہ ”عمران خان صاحب آپ کے پاس اب کیا اخلاقی جوازرہ گیا ہے کہ آپ سیاست بھی کریں ؟ 
وزیراطلاعات پرویز رشید کا کہنا تھا کہ  الیکشن میں حصہ لینے سے پہلے عمران خان نے کبھی ٹیکس دیا نہ ہی ٹیکس ریٹرنز جمع کرائے حالانکہ انہوں نے آسٹریلیا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک میں کرکٹ کھیل کر پیسہ کمایا ، قواعد کے مطابق اگر آپ کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہو تو آپ چاہے کہیں بھی پیسہ کمائیں آپ کو ٹیکس دینا پڑے گا۔
پرویز رشید نے کہا کہ چیف جسٹس نے حکومت کو  خط میں لکھا ہے کہ کن لوگوں ،کمپنیوں اور انفرادی شخصیات کے خلاف کارروائی کرنی ہے ؟ چیف جسٹس صاحب کوبتایا جائے گا جن جن افراد کے نام آئے ہیں اس میں پی ٹی آئی کے تمام 6 ارکان بھی شامل ہو ِں گے، کیونکہ سب سے پرانی کمپنی بھی  عمران خان کی ہے او ر سب سے زیادہ تعداد بھی آپ کے ساتھیوں کی ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top