Home / Uncategorized / عمران خان کی طرح میری کوئی آف شور کمپنی نہیں ،شاہد آفریدی نے دلچسپ اعلان کردیا
عمران خان کی طرح میری کوئی آف شور کمپنی نہیں ،شاہد آفریدی نے دلچسپ اعلان کردیا

عمران خان کی طرح میری کوئی آف شور کمپنی نہیں ،شاہد آفریدی نے دلچسپ اعلان کردیا

کراچی (ویب ڈیسک)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور آل راﺅنڈر شاہد خان آفریدی نے کہا ہے کہ سیاست سے میرے بڑے مجھے دور رکھنا چاہتے ہیں ، سیاست کا مطلب عوام کی خدمت ہے اور وہ یہ کام پہلے ہی کررہے ہیں ، شکر ہے کہ عمران خان کی طرح میری کوئی آف شور کمپنی نہیں ہے ۔اُنہوں نے کہاکہ کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ مکی آرتھر تب چل سکتے ہیں اگر اپنے کام سے کام رکھیں، کمنٹری اور کوچنگ کا ٹیمپرا منٹ نہیں ، سارو گنگولی ”سبزیاں“ کھاتا ہے اور میں ”گوشت“ یہی وجہ ہے کہ وہ ریٹائر ہوگیا اور میں نہیں ہوا۔ کاﺅنٹی کھیلنے جارہا ہوں پھر مستقبل کا فیصلہ کروں گا۔خدا کرے ٹیم میں مجھ سے بہتر کھلاڑی آئیں، عمر اکمل اور احمد شہزاد اپنی غلطیاں دہرا رہے ہیں، کرکٹ کی بہتری کیلئے 80ءکی دہائی سے باہر آنا ہوگا۔

نجی ٹی وی چینل کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے شاہدآفریدی نہایت بے تکلفانہ انداز میں دکھائی دیئے اور اینکرز سے کہاکہ آپ لوگوں نے صبح صبح مجھے تکلیف دی ہے ، بھارت میں دیئے گئے بیان پر کچھ سابق کھلاڑیوں اور ٹی وی میزبانوں نے بہت گندہ لہجہ استعمال کیا۔ ورلڈ کپ کی شکست پر جو رپورٹ بنی معلوم نہیں کیسے بن گئی، اپنی پوزیشن سنبھالنے کیلئے جھوٹ کا سہارا نہیں لیتا۔ جیت قبول کرتا ہوں تو ہار بھی قبول کرسکتا ہوں، کسی پر الزام لگانے والوں میں سے نہیں ہوں۔ دوسروں کے غم میں شریک ہونا بہت اچھا لگتا ہے۔سیاست پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میری کوئی آف شور کمپنی نہیں، عمران خان کی طرح جواب نہیں دوں گا کہ آف شور کمپنی نہیں ہے لیکن بعد میں منظر عام پر آگئی، بات یہ ہے کہ میرے بڑے مجھے سیاست سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ سیاست لوگوں کی خدمت کانام ہے اور وہ کام میں اپنی فاﺅنڈیشن کے ذریعے کررہا ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دوسروں کی مدد کرنے کے بعد کتنی خوشی محسوس کرتا ہوں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔ ہولناک مناظر دیکھ کر دِل دہل جاتا ہے ، یہی بدحالی دیکھ کر اپنی فاﺅنڈیشن بنانے کا سوچا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ہونے والے مقابلوں میں عوام کی امیدوں کا بہت زیادہ دباﺅ ہوتا ہے۔ ورلڈکپ کا وننگ شارٹ یادگار لمحہ تھا، بھارت کے خلاف ایشیا کپ میں لگاتار دو چھکے لگائے کیونکہ دوسرا آپشن ہی نہیں تھا، دوسری گیند کھیلی تو خود بھی یقین نہیں تھا کہ چھکا ہو جائے گا، گیند میدان سے باہر گئی تو لگا میدان میں فرشتے ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ شاہد نے بتایا کہ ہماری ٹیم وسیم اکرم یا عمران خان کے دور کی نہیں ، افسوس ہوتا ہے جب کچھ لوگ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر فضول باتیں کرتے ہیں، ایسے لوگوں کو جب بورڈ میں ملازمت ملتی ہے تو خاموش رہتے ہیں جب ہٹادیئے جاتے ہیں تو ٹی وی چینلز پر آکر ٹیم کی خامیاں بیان کرتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جو بورڈ سے سوائے 8-9 لاکھ روپے تنخواہ لینے کے ایک روپے کا کام بھی نہیں کرتے۔ کرکٹ کے سسٹم میں بار بار تبدیلی سے نتائج درست نہیں ملیں گے، سسٹم کا تسلسل ضروری ہے، پہلے ٹیم سے کھیلنا آسان جبکہ فرسٹ کلاس کھیلنا مشکل ہوتا تھا، مگر ایک وقت آیا کہ ہم نے کرکٹ کیپس ایسے ہی تقسیم کرنا شروع کردیئے، کرکٹ کی بہتری کیلئے ہمیں 80ءکی دہائی سے باہر آنا ہوگا، ہمارے ہاں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ کچھ کھلاڑی اسٹار نہیں ہوتے مگر بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن حالات میں ہم بھارت کھیلنے گئے وہ سب کے سامنے ہیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آفریدی نے کہا کہ سارو گنگولی ”سبزیاں“ کھاتا ہے اور میں ”گوشت“ یہی وجہ ہے کہ وہ ریٹائر ہوگیا اور میں نہیں ہوا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم میں کب تک ہوں اس کا فیصلہ جلد ہی کرلوں گا۔ کمنٹری کا ٹیمپرا منٹ ہے نہ کوچنگ کا مستقبل میں بچوں کیلئے اکیڈمی بناﺅں گااور اپنی فاﺅنڈیشن کے ذریعے فلاحی کام کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ میں کرکٹ کا ایک ہی فارمیٹ کھیلتا ہوں جس کے سال میں 5-6 میچز ہوتے ہیں ، اس لئے فٹنس کیمپ جانے کی ضرورت نہیں، ملک میں ہوں یا بیرون ملک اپنی فٹنس کیلئے ٹریننگ جاری رکھتا ہوں۔اپنی بچیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی بیٹیوں سے بہت پیار کرتا ہوں لیکن آج کل کا ماحول دیکھ کر ان پر شیر کی نظر رکھنا ضروری ہے۔ میگ گرا ، بریٹ لی ، مرلی دھرن بہت بڑے نام ہیں، اِنہیں آنکھیں بند کرکے چھکے نہیں لگائے جاسکتے، ایک سیریز میں اِنہیں بھی چھکے لگائے اور دِل کی خواہش پوری ہوگئی۔کھانے بنانے کیلئے تجربات کرتا رہتا ہوں جو کبھی کبھی بہت اچھے ثابت ہوجاتے ہیں۔ ورلڈ کپ کی شکست پر جو رپورٹ بنی معلوم نہیں کیسے بن گئی، خدا نے مجھے اتنا بڑا دِل دیا ہے کہ میں اپنی پوزیشن سنبھالنے کیلئے جھوٹ کا سہارا نہیں لیتا۔ اگر میں جیت قبول کرسکتاہوں تو ہار بھی قبول کرتا ہوں۔ کسی پر الزام لگانے والوں میں سے نہیں ہوں۔

احمد شہزاد اور عمر اکمل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اِن دونوں کھلاڑیوں کا جتنا بڑا حامی میں ہوں اور کوئی بھی نہیں ہوگا ، یہ دونوں اپنی غلطیاں بار بار دہرا رہے ہیں ، ہمیں اِن کے درمیان رہ کر اِنہیں اچھا کھلاڑی بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ خواتین کے ساتھ فوٹو کھنچوارہے ہیں تو یہ ان کی زندگی کا ذاتی معاملہ ہے، وہ گراوﺅنڈ میں کیا کارکردگی دکھاتے ہیں ہمیں اس پر توجہ دینی ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top