This domain has recently been listed in the marketplace. Please click here to inquire.

spamcheckr.com

Home / Uncategorized / غیر مسلم ظاہر کر کے شراب کی فروخت کا لائسنس حاصل کرنیوالے گروہ کا انکشاف
غیر مسلم ظاہر کر کے شراب کی فروخت کا لائسنس حاصل کرنیوالے گروہ کا انکشاف

غیر مسلم ظاہر کر کے شراب کی فروخت کا لائسنس حاصل کرنیوالے گروہ کا انکشاف

لاہور (ارشد محمود گھمن// سپیشل رپورٹر)ایف بی آر حکام کو دھوکہ دے کر غیر مسلم ظاہر کرکے شراب فروشی کا لائسنس حاصل کرنے والے گروہ ا کانکشاف ہوا ہے، مذکورہ افراد نے2013 سے لے کر اب تک 800 ملین روپے کی کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے ،یہ افراد غیر ملکی سفیروں کو شراب فروخت کرنے کی بجائے مبینہ طور پرپاکستان کی اہم سیاسی شخصیات سمیت امراء طبقہ کو فروخت کرتے تھے ۔مذکورہ افراد نے خود کو کاغذات میں غیر مسلم ظاہر کر کے غیر ملکی قیمتی شراب کی فروخت کا لائسنس حاصل کیاجبکہ پاکستان میں درآمد کئی گئی شراب کی 400 سے زائد اقسام کا ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے ۔ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق سن ڈپلومیٹیک بانڈ ڈ ویئر ہاؤس اسلام آباد کے ڈائریکٹر مسٹر اشتیاق احمد ولد گل محمد شناختی کارڈ نمبر 37405-8520084-5 طاہرمحمود ترین ولدیت گل محمد شناختی کارڈ نمبر 37405-4617203-5نے خود کو (احمدی) غیر مسلم ظاہر کر کے اسلام آباد میں مقیم سفیروں کو ولایتی اور قیمتی شراب فروخت کرنے کا لائسنس حاصل کر رکھا ہے، قانون کے مطابق لائسنس صرف اور صرف غیر مسلم شہریوں کو ہی دیا جا سکتا ہے، ایف بی آر حکام کو دھوکہ دے کر اور خود کو (احمدی) غیر مسلم ظاہر کر کے سن ڈپلومیٹک بانڈڈ ویئر ہاؤس کے مالکان کے لائسنس حاصل کر رکھا ہے اور اب تک اربوں روپے کی شراب درآمد کر کے سفیروں کو فروخت بھی کر چکے ہیں،دستاویزات کے مطابق دونوں شراب کے تاجر دھوکہ دہی کے ذریعے کروڑوں روپے کا ٹیکس چوری کے مرتکب بھی ہوئے ہیں، ا س پورے سیکنڈل میں ایف بی آر کے لوگ بھی ملوث ہیں،ذرائع کے مطابق لائسنس نمبر PWL\02\2005 6989 جو کہ سن ڈپلو میٹک بانڈ ویئر ہاؤس کے لائسنس کے پیچھے اہم شخصیات کا ہاتھ ہے جو اس دھندے کو پروان چڑھانے میں پیش پیش ہیں،سن ڈپلو میٹک بانڈ نامی فرم کو یہ لائسنس 31ا کتوبر 2013 کو جاری ہوا تھا اور اب تک کمپنی کے ڈائریکٹرز کے کسٹم حکام کے ساتھ ملکر دھوکہ فراڈ کے ذریعے کروڑوں روپے کی کسٹمز ڈیوٹی میں بھی فراڈ کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس اور انویسٹی گیشن نے فراڈ کے ذریعے لائسنس کے حصول اور کروڑوں روپے کی کسٹم ڈیوٹی کی عدم ادائیگی بارے اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کی ہدایت کی گئی کہ سن ڈپلو میٹک بانڈ ویئر ہاؤس نے2013 سے لیکر اب تک 800 ملین روپے کی کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے اور قیمتی شراب درآمد کی ہے کمپنی کے خلاف تحقیقات 2014میں ہی شروع ہوئی تھیں لیکن کسٹمز کے اعلیٰ حکام نے مبینہ طور پربھاری رشوت کے باعث یہ تحقیقات روک دے تھیں ،سن ڈپلومیٹک باؤنڈڈ ویئر ہاؤس کا لائسنس 30جون 2016ء کو ختم ہو چکا ہے ،لیکن کسٹمز حکام نے کمپنی کو مزید شراب درآمد کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے،ذرائع کے مطابق سن ڈپلو میٹک بانڈڈ فرم نے گزشتہ دو سال کے دوران 118 ملین ڈالر کی شراب درآمد کی اور اس درآمد میں کروڑوں روپے کی ڈیوٹی چوری کی گئی۔ کسٹم ڈیوٹی چھپانے کے لئے ملک برادران کسٹمز حکام سے ملکر شراب کی مالیت کم ظاہر کی ہے، جس سے قومی خزانہ کو بھاری مالی نقصان پہنچایا گیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں درآمد کئی گئی شراب کی 400 زائد اقسام کا ریکارڈ سامنے آیا ہے تا ہم یہ شراب اسلام آباد میں مقیم مبینہ طورپرغیر ملکی سفیروں کو فروخت کرنے کی بجائے پاکستان کی اہم سیاسی شخصیات اور امراء طبقہ کو فروخت کی گئی ہے، ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سن ڈپلو میٹک بانڈڈ ویئر ہاؤس سیکورٹی ایکسچنج کمیشن میں بھی رجسٹرڈ ہے اور شیئرز آف کیپٹل مالیت ایک لاکھ روپیہ ظاہر کئی گئی ہے، جبکہ کمپنی کے 10 ہزار شیئرز ظاہر کئے گئے ہیں اور ہر شیئر کی قیمت 100 روپیہ ظاہر کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق کسٹم ڈیوٹی چھپانے اور شراب کی 6 کھیپ کی مالیت کم ظاہر کرنے پر ایک کلکٹر نے کمپنی کا لائسنس منسوخ کرنے کی سفارش کی تھی لیکن ممبر کسٹمز اور ایف بی آر کے دیگر اعلیٰ افسران نے لائسنس منسوخ کرنے سے مبینہ طورپرانکار کیا۔ ذرائع کے مطابق سن ڈپلومیٹک بائرڈ ویئر ہاؤس نے سفیروں کے لئے درآمد کی گئی شراب میں مذکورہ شخصیات کومبینہ طورپر 2013ء میں 16.31 ملین روپے کی شراب فروخت کی تھی جبکہ 2012ء میں 26.22ملین روپے کی شراب فروخت کی گئی تھی 2011ء میں 6.03 ملین روپے 2010ء میں 4.3 ملین روپے ، کمپنی نے 2013ء کو سفیروں کو مبینہ طور پر5.8 ملین کی شراب فروخت کی 2012ء میں 19.39 ملین روپے ،2011ء میں 17.28ملین روپے 2010ء میں 8.2ملین روپے کی شراب فروخت کی ہے ۔اس ضمن میں سن ڈپلومیٹک کے ڈائریکٹرز سے موقف جاننے کے لئے متعدد بار رابطہ کیا گیا لیکن ان سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔

 

Comments are closed.

Scroll To Top