Home / Uncategorized / غیر ملکیوں کے ایک گروہ کی طرف سے پاکستانی شہریوں کو داعش کیلئے بھرتی کیے جانے کا دعویٰ سامنے آگیا
غیر ملکیوں کے ایک گروہ کی طرف سے پاکستانی شہریوں کو داعش کیلئے بھرتی کیے جانے کا دعویٰ سامنے آگیا

غیر ملکیوں کے ایک گروہ کی طرف سے پاکستانی شہریوں کو داعش کیلئے بھرتی کیے جانے کا دعویٰ سامنے آگیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وفاقی حکومت داعش کی منظم موجودگی نہ ہونے کی دعویدار ہے تاہم سکیورٹی ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ غیر ملکیوں کا ایک گروپ پاکستانی شہریوں کو بھرتی کر رہا ہے اور اس انکشاف کے بعد بھرتی کرنیوالے گروہ میں شامل افراد کی تلاش شروع کردی گئی ۔
روزنامہ جنگ کے مطابق سینئر انٹیلی جنس افسران نے بتایا کہ انہوں نے سوملین سکیورٹی اداروں کو داعش کے کارکنوں کی موجودگی سے آگاہ کر دیا ہے، ان افراد کا تعلق کینیڈا اور شام سے ہے، شامی سفری دستاویزات پر بہت بڑی تعداد میں مشتبہ افراد پاکستان میں موجود ہیں۔ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاگیاکہ فوج کی جانب سے چلائی جانے والی انٹیلی جنس ایجنسی اور وزارت داخلہ کے مابین ایک اعلیٰ سطح کی سرکاری مراسلت سے پتہ چلتا ہے کہ حکام پاکستان میں داعش کے مشتبہ افراد کے بارے میں جاننے کے حوالے سے کس قدر تجس رکھتے ہیں۔ اس مراسلت میں مزید کہا گیا ہے کہ 5 شامی شہری ایک شامی اور کنیڈین دہری شہریت رکھنے والے اور ایک بھارتی شہری نے غیر قانونی دستاویزات پر سرحد عبور کی ہے اور افغانستان یا ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے ہیں ۔ داعش کے ان کارکنوں نے رابطے استوار کر لیے ہیںاور اب ایک ہی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے نام ضمیمہ (الف ) میں موجود ہیں اور ان کے حوالے سے پہلے ہی ریڈالر ٹس جاری کر دیئے گئے ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق اس مراسلت کے مطابق شامی باشندہ فارس العروری ایک شامی شہری ہے اور اس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ پاکستان میں مقیم ہے۔ اسی طرح عطاری النجدی اور اس کی بیوی صبا فخری اور شکوری مصطفی جس کی بیوی کا نام فریدہ شکوری ہے اور بھی شامی پاسپورٹوں پر پاکستان آئے۔ اسی طرح عنقاعصمہ ہان جو کہ شام اور کینیڈا کی دہری شہریت رکھتا ہے اور سعید الاسلام جو کہ بھارتی شہری ہے وہ بھی پاکستان میں موجود اور داعش کیلئے کام کررہا ہے ۔ انٹیلی جنس ایجنسی نے سفارش کی ہے کہ ”شامی سفری دستاویزات پر سفر کرنے کو تمام بین الاقوامی کراس پوائنٹس پر یا تو معائنہ کرنا چاہیے یا ان پر پابندی لگانا چاہیے “۔ انسداد دہشت گردی سے متعلق سرکاری عہدیداروں نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ ”انٹیلی جنس ایجنسیاں داعش کے دوسو کے قریب مشتبہ افراد کو لاش کر رہے ہیں جو کہ پاکستان میں داعش کی بھرتیوں کیلئے داخل ہوتے ہیں۔ یہ غیرملکی قبائلی علاقوں کا کالعدم تنظیموں کے علاوہ بلوچستان کے دیہی علاقوں جنوبی پنجاب اور کراچی میں کام کر رہے ہیں۔ ان کے نام کے حوالے سے پہلے ہی ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے

Comments are closed.

Scroll To Top