Home / Uncategorized / فتح اللہ گولن کی ترکی کو حوالگی کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا، فیصلہ امریکی قانون کے مطابق کریں گے:اوباما
فتح اللہ گولن کی ترکی کو حوالگی کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا، فیصلہ امریکی قانون کے مطابق کریں گے:اوباما

فتح اللہ گولن کی ترکی کو حوالگی کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا، فیصلہ امریکی قانون کے مطابق کریں گے:اوباما

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)ترکی میں ناکام بغاوت کے ذمہ دار سمجھے جانے والے مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کی امریکہ کی جانب سے ترکی کو حوالگی سے متعلق تاحال کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا جا سکاہے ۔ امریکی صدر باراک اوبامہ کا کہنا ہے کہ فتح اللہ گولن کی ترکی کو حوالگی کا فیصلہ امریکی قانون کی روشنی میں کیا جائے گا۔
ترکی کا کہنا ہے کہ اس نے امریکہ کو اس کے مطالبہ کے مطابق فتح اللہ کے بغاوت میں ملوث ہونے کے شواہد فراہم کردیئے ہیں ۔اس ضمن میں اب امریکی صدر باراک اوباما کا باقاعدہ بیان سامنے آیا ہے جس میں انکاکہنا تھا کہ مذہبی لیڈر فتح اللہ گولن کی ترکی کو حوالگی کے بارے میں کی گئی کسی بھی درخواست پر فیصلہ امریکی قانون کے مطابق ہی کریں گے۔
امریکی صدر نے میکسیکوانریکی بین یا نییٹوسے کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ترکی میں بغاوت کی ناکام سازش میں ملوث قرار دیئے گئے فتح اللہ گولن کی ترکی کو حوالگی کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے امریکی قانون کے تحت ہی فیصلہ کیا جائے گا۔
اوباما کا کہنا تھاکہ ’ہم نے یہ ثابت کرنا ہے کہ امریکہ قانون کی پاسداری کرنے والا ملک ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم فتح اللہ گولن کی حوالگی کے بارے میںوہی فیصلہ کریں گے جو قانون کے مطابق ہوگا۔
امریکی صدر نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ امریکہ کو ترکی میں 15 جولائی کو ہونے والی فوجی بغاوت سے متعلق کسی قسم کی انٹیلی جنس معلومات تھیں۔
اوبامانے کہا ترکی میں فوجی بغاوت کے بارے میں ہمارے پاس کسی قسم کی پیشگی معلومات نہیں تھیں۔ اس نوعیت کی الزام تراشی کا مقصد امریکہ کو ترکی کے موجودہ بحران میں ملوث قرار دینے کی کوشش ہے۔ہم نے جمہوری راستہ اختیار کیا اور واضح کیا ہے کہ ترکی کی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت غلط تھی اور امریکہ ترکی میں جمہوریت کے ساتھ ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 1999ءسے امریکا میں جلا وطن کے طور پرسکونت اختیار کرنے والے ترکی کے مذہبی رہ نما فتح اللہ گولن پر موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تاہم فتح اللہ گولن نے حکومت کے خلاف سازش کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ انہیں ترکی کے حوالے نہ کرے۔
قبل ازیں منگل کو امریکی صدر اوباما نے صدر طیب اردگان سے ٹیلیفون پر بات چیت میں فتح اللہ گولن کی ترکی کو حوالگی کے بارے میں بھی صلاح مشورہ کیا تھا۔امریکی صدر نے یقین دلایا کہ وہ فوجی بغاوت کے بارے میں تحقیقات کے لیے ترکی کی حکومت ہرممکن مدد کریں گے۔

Comments are closed.

Scroll To Top