Home / Uncategorized / لاہور میں بچوں کے بعد خواتین کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ، مغویہ کی کہانی اسی کی زبانی
لاہور میں بچوں کے بعد خواتین کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ، مغویہ کی کہانی اسی کی زبانی

لاہور میں بچوں کے بعد خواتین کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ، مغویہ کی کہانی اسی کی زبانی

لاہور(کاشف شکیل سے ) صوبائی دارلحکومت میں بچوں کے اغواءکے یکے بعددیگرے ہونیوالے اغواءکے واقعات نے والدین کی نیندیں اڑادی ہیں لیکن خواتین بھی محفوظ نہیں اور لاہور کے گنجان آباد علاقے سے چند دن قبل اغواءکاروں کے ہاتھ لگنے والی ایک خاتون کی حقیقی کہانی سامنے آگئی جواپنی زندگی بچانے میں کامیاب ہوگئی،یہ داستان روزنامہ پاکستان کے قارئین کیلئے پیش ہے ۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ایسے گروہ نہایت پیشہ وارانہ طریقے سے اور مکمل منصوبہ بندی سے کارروائی کررہے ہیں جبکہ موبائل فون کمپنیاں بھی متاثرین کیساتھ تعاون نہیں کررہیں ۔

داتادربارکے قریب سے اغواءاور پھر معجزاتی طورپر بازیاب ہونیوالی خاتون نے بتایاکہ لوڈشیڈنگ شیڈول کے مطابق شام سواآٹھ بجے محلے میں بجلی بندہوتی ہے ، بجلی جانے سے چند منٹ پہلے وہ اپنے گھر کے سامنے والے گھر گئی اور بجلی بند ہوتے ہی بچوں کی وجہ سے اپنے گھرآنے لگی تو گلی میں ایک بوڑھی خاتون ڈگمگاتی ہوئی ملی جس نے ایک گھر چھوڑ کر تیسرے گھر کے آگے کھڑے کیری ڈبہ میں سامان رکھوانے میں مدد کی درخواست کی تواسے بتایاکہ یہ سامنے گھرآئے ، آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ،وہاں آجائیں لیکن اس پراسراربوڑھی خاتون کے جانے کی ضدپرہاتھ میں موجود کچھ سامان گاڑی میں رکھوانے میں مدد کی حامی بھرلی، جیسے ہی گاڑی کے قریب پہنچی تواسی لڑکھڑاتی عورت نے اپنی مدد گار خاتون کے منہ پر کچھ چیز رکھی اور وہ موقع پر ہی نیم بے ہوش ہوگئی اور گاڑی کے اندر بیٹھے تین افراد نے کھینچ کر گاڑی میں پھینکا اور یہ جا ، وہ جا۔ ۔۔
گاڑی میں پھینکتے ہی اندر موجود شخص نے ایک انجکشن رگ میں لگادیا اور سوئی وہیں چھوڑ کر ہاتھ باندھ دیئے ،مکمل طور بے ہوش نہ ہونے کی وجہ سے (غنودگی کی حالت میں تھی) وہ کوئی چیز کھلانے کی کوشش کررہے تھے لیکن انکار پر مارنا پیٹناشروع کردیا، سرمیں بھی پستول کے بٹ مارے جس کی وجہ سے سربھی زخمی ہوگیا، اسی بوڑھی خاتون نے مغویہ سے موبائل فون لیا اور سم نکال پھینکی جبکہ اقبال ٹاﺅن کے علاقے میں کان سے بالیاں نوچنے کے بعد وہ خاتون گاڑی سے اتر گئی، کان بھی زخمی کردیا،مجھے اپنے ساتھ لے جانے کی بات کررہی تھی لیکن مردوں نے انکار کردیااورپھر دیگرتین افراد نے مغویہ خاتون سمیت اپنا سفر جاری رکھا، اغواءکاروں کو موبائل فون پر ہدایات مل رہی تھیں کہ کونساراستہ استعمال کرنا ہے ، کہاں رکنا ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔
اغواءکاروں نے اگلاقیام جوہرٹاﺅن کے علاقے میں ایکسپوسنٹرکے قریب اندھیرے میں کیا اور گاڑی سے نیچے اترکر چہل قدمی کرتے رہے ۔وہاں ایک موٹرسائیکل سوار بھی آیا اور ان سے کچھ بات کرنے کے بعد چلتابنایعنی ایسے گروہ منظم طریقے سے کام کررہے ہیں اور ٹیلی فون پر رابطوں میں ہیں۔اسی دوران مغویہ خاتون کے ہوش وہواس کچھ بحال ہوئے تو وہ گاڑی سے کود گئی اور قریبی جھاڑیوں کے پیچھے پہنچنے کے بعد گرگئی لیکن جب دوبارہ ہوش آئی تو وہاں اغواءکاروں کی گاڑی موجود نہیں تھی اوراس کے زخموں کو کیڑے کاٹ رہے تھے، اللہ نے بچایا ہے ، ان کی گاڑی میں باتوں سے لگ رہاتھا کہ وہ جنسی درندگی یا قتل کرناچاہ رہے تھے ، کچھ دیر انتظار کے بعد سڑک عبور کرکے دوسری طرف پہنچی جہاں ایک بزرگ کار سوار کسی کا انتظار کررہاتھا، اپنے بندھے ہاتھ کھولنے کی درخواست کی اور اسے گھرتک چھوڑنے کو کہالیکن اُنہوں نے انکار کرتے ہوئے کسی بڑے سٹاپ تک چھوڑنے کی حامی بھری ۔
قدرے مصروف جگہ پر خاتون نے رکشہ ڈرائیوروں کو ایک ٹیلی فون کال کرانے کی درخواست کی لیکن کسی نے حامی نہ بھری ، بالآخرایک رکشہ ڈرائیور کو ترس آگیا اور خاتون کے خاوند سے بات کرانے کے بعد ٹھوکر نیاز بیگ پر لے آیاجہاں سے اہلخانہ نے اسے وصول کرکے ہسپتال منتقل کردیاجبکہ رکشہ ڈرائیور کو اس کا کرایہ اداکرکے شکریہ کیساتھ رخصت کردیاگیا۔
اس ساری صورتحال میں پنجاب پولیس اور عوام کے علاوہ موبائل فون کمپنیوں کا بھی بنیادی کردار ہے ، اسی کیس کو ہی مثال لے لیں تو داتادربار سے لے کر اقبال ٹاﺅن مون مارکیٹ تک مغویہ کے زیراستعمال موبائل فون میں  کمپنی کی سم کی جیوفینسنگ سے ساتھ سفر کرنیوالے اغواءکاروں کی شناخت ہوسکتی ہے کیونکہ وہ بھی مسلسل ٹیلی فونک رابطے میں تھے اور ساتھ ہی چل رہے تھے، اب موبائل فون سموں کی بائیومیٹرک تصدیق کے بعد کسی کو بھی پکڑنا پہلے سے زیادہ آسان ہوگیا لیکن شایدموبائل فون کمپنیوں کے نزدیک بھی صارفین کی زندگی سے زیادہ منافع ضروری ہے ۔

ہسپتال میں زیرعلاج خاتون کے اہلخانہ نے بتایاکہ متعلقہ تھانے میں واردات کے دن ہی درخواست دیدی گئی تھی لیکن تاحال مقدمہ درج نہیں ہوسکا۔ اہلخانہ کے مطابق مریضہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے ، موبائل فون کی گھنٹی بجنے پر بھی ڈر جاتی ہے ، ایک مرتبہ پھر چھوٹے بچوں کی طرح اس کی دیکھ بھال کررہے ہیں ۔ 

Comments are closed.

Scroll To Top