Home / Uncategorized / مشکوک شناختی کارڈز کی تصدیق کیلئے ٹاسک فورسز قائم، یکم جون سے تصدیق کا عمل شروع ہو گا: وزیر داخلہ
مشکوک شناختی کارڈز کی تصدیق کیلئے ٹاسک فورسز قائم، یکم جون سے تصدیق کا عمل شروع ہو گا: وزیر داخلہ

مشکوک شناختی کارڈز کی تصدیق کیلئے ٹاسک فورسز قائم، یکم جون سے تصدیق کا عمل شروع ہو گا: وزیر داخلہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ملک بھر میں مشکوک شناختی کارڈز کی تصدیق کیلئے نادرا کی ٹاسک فورس قائم کر دی گئی ہے جو یکم جون سے تصدیق کا عمل شروع کر دے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی کو پارلیمانی کمیٹی بنانے کیلئے بھی خط لکھ دیا ہے جو نادرا کی کمیٹی کے اقدامات کا جائزہ لے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی زیر صدارت اہم اجلاس میں جس میں چیئرمین نادرا مبین یوسف سمیت دیگر اعلیٰ ممبران شریک ہوئے۔ اس موقع پر چوہدری نثار علی خان نے مشکوک شناختی کارڈز کی تصدیق کیلئے نادرا کی ٹاسک فورس قائم کی اور کہا کہ سٹینڈنگ کمیٹی بھی بنائی جائے گی جس میں حساس اداروں کے اہلکار شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صدق کو بھی خط لکھ دیا ہے کہ وہ شناختی کارڈز کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنائیں جو نادرا کی کیمٹی کے اقدامات کا جائزہ لے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جعلی کارڈز صرف پاکستان نہیں پوری دنیا کا مسئلہ ہیں اور پاکستان کیلئے یہ مسئلہ اس لئے ہیں کہ 40 لاکھ افغان مہاجرین، بنگلہ دیشی اور برما کے لوگ موجود ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ جعلی شناختی کارڈز کا مسئلہ پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہے۔ نادرا میں اب ایمرجنسی نافذ کر دی، شناختی کارڈز کا ازسر نو تصدیق کا عمل شفاف ہونا چاہئے۔ جعلی شناختی کارڈ کی نشاندہی کرنے والے کو 10 ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے کسی حکومت نے جعلی شناختی کارڈز کے مسئلے پر توجہ نہیں دی اور سابقہ دور حکومت میں صرف 529 شناختی کارڈز بلاک ہئے جبکہ گزشتہ ڈھائی سال میں 2 لاکھ 50 ہزار شناختی کارڈ بلاک کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اب نادرا میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، کرپشن کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی اور اب بھی کریں گے۔ انہوں نے چیئرمین نادرا کو ہدایت کی کہ ملک بھر کے لوگوں کے شناختی کارڈز کی دوبارہ تصدیق کا عمل شفاف ہونا چاہئے کیونکہ ساڑھے 10 کروڑ مشکوک شناخت کارڈز کی دوبارہ تصدیق کر رہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top