Error. Page cannot be displayed. Please contact your service provider for more details. (31)

Home / Uncategorized / نریندر مودی اور اشرف غنی نے افغانستان میں سلمٰی ڈیم کا افتتاح کر دیا
نریندر مودی اور اشرف غنی نے افغانستان میں سلمٰی ڈیم کا افتتاح کر دیا

نریندر مودی اور اشرف غنی نے افغانستان میں سلمٰی ڈیم کا افتتاح کر دیا

کابل(اے این این) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان کے صوبہ ہرات میں سلمیٰ ڈیم کا افتتاح کر دیا ہے ۔سلمی ڈیم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ ہے اور یہ ایران کی سرحد سے متصل صوبہ ہرات میں چشت شریف کے مقام پر واقع ہے۔یہ 30 کروڑ ڈالر کا منصوبہ ہے۔ اس ہائیڈرو پراجیکٹ سے 42 میگا واٹ بجلی پیدا ہوسکے گی اور تقریبا 75 ہزار ایکڑ اراضی کو پانی کی سہولت دستیاب ہوگی۔سلمی ڈیم کا سنگ بنیاد 1975 میں صدر داد کی دور حکومت میں رکھا گیا ہے۔ اس وقت سعودی عرب نے اس منصوبے پر سرمایہ کاری کی حامی بھری تھی لیکن ملک میں عدم استحکام اور خانہ جنگی کے باعث یہ منصوبہ کئی دہائیوں تک زیرالتوا رہا۔بھارت نے 1970 کی دہائی میں ہری رود یا دریائے ہری اور سلمی کا سروے کیا تھا اور 2005 میں انڈیا نے اعلان کیا کہ وہ اس ڈیم کی تعمیر اور اس کے اخراجات فراہم کرے گا۔اب کچھ تکنیکی اور سکیورٹی کی مشکلات کے باوجود یہ منصوبہ مکمل ہوچکا ہے۔یہ ڈیم ہرات کے مغرب میں 170 کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے اور اسے انڈیا افغانستان دوستی ڈیم کا نام بھی دیا گیا ہے۔دریائے ہری پر تعمیر کیا گیا یہ ہائیڈرو الیکٹرک ڈیم 20 کلومیٹر لمبا، تین کلومیٹر چوڑا اور 107 میٹر بلند ہے۔سلمیٰ ڈیم میں 64 کروڑ کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ اس میں پانی سٹورکرنے کا کام ایک سال پہلے شروع ہوا تھا اور اب تک 50 کروڑ کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کیا جا چکا ہے۔اس منصوبے کے ذریعے چشت ضلع سے لے کر ایرانی سرحد تک دو لاکھ ایکڑ اراضی کو آبپاشی کی سہولت میسر آسکتی ہے۔اس میں تین ٹربائنز ہیں اور ہر ٹربائن 14 میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتی ہے اس طرح کل 42 میگا واٹ بجلی پیدا ہوسکتی ہے جس سے 40 ہزار کے قریب گھرانے مستفید ہوں گے۔گذشتہ چند دہائیوں میں یہ افغانستان میں تعمیر ہونے والا سب سے بڑا اور بنیادی منصوبہ ہے جس کی 30 کروڑ ڈالر کی لاگت آئی ہے، جو بھارت سے اسے امداد کی صورت میں ملی تھی۔ایران کی جانب سے بار ہا مرتبہ پانی کے بہاؤ میں کمی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جا چکا ہے۔اس ڈیم کی تعمیر سے درہائے ہری کا ایران کو ملنے والے پانی میں 73 فیصد کمی ہوگی۔ ایران اس دریا کے پانی سے اپنے مشرقی علاقوں کی آب پاشی فراہم کرتا ہے۔ایران کی جانب سے بار ہا مرتبہ پانی کے بہا میں کمی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جا چکا ہے۔ڈیم کی انتظامات اور مرمت کے لیے 50 افغان انجینئرز کو تربیت فراہم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔انڈیا افغانستان دوستی ڈیم کو نہ صرف پانی پر کنٹرول کرنے کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا بلکہ اسے مقامی سطح پر ہائیڈو پاور کی پیداوار کا منصوبہ بھی خیال کیا جارہا ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top