Home / Uncategorized / نواز شریف جلاوطنی میں امریکہ، سعودیہ کا کردار، ولی عہد شاہ عبداللہ کے ایماء پر رفیق حریری نے اپنے بیٹے سعد کو پاکستان بھیجا، سعودی شوکت عزیز کی کتاب میں انکشاف
نواز شریف جلاوطنی میں امریکہ، سعودیہ کا کردار، ولی عہد شاہ عبداللہ کے ایماء پر رفیق حریری نے اپنے بیٹے سعد کو پاکستان بھیجا، سعودی شوکت عزیز کی کتاب میں انکشاف

نواز شریف جلاوطنی میں امریکہ، سعودیہ کا کردار، ولی عہد شاہ عبداللہ کے ایماء پر رفیق حریری نے اپنے بیٹے سعد کو پاکستان بھیجا، سعودی شوکت عزیز کی کتاب میں انکشاف

قصور (ویب ڈیسک) سابق وفاقی وزیر شوکت عزیز کی کتاب (From Banking To The Thorny World of Politics) یا ”بینکاری سے پرخار سیاست تک“ شائع ہوکر منظر عام پر آگئی ہے۔

روزنامہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے کتاب میں کئی اہم انکشافات کئے ہیں۔ تاہم پرویز مشرف کے حوالے سے انہوں نے بہت سی باتوں پر چپ رہنا ہی مناسب سمجھا ہے، اسی طرح آنے والے دور میں پاکستان کی بہترین وہ صدارتی نظام حکومت میں دیکھ رہے ہیں۔ کتاب میں انہوں نے اس امر کی بھی وضاحت کی ہے کہ جمہوریت کا یہ دکھاوا ایک فریب ہے، معیشت سیاست اور ریاست کے اصل فیصلے امریکہ اور دوسری سامراجی طاقتیں اور پاکستان میں ان کے کارندے یا نام نہاد ”مخالفین“ پہلے ہی پس پردہ کرچکے ہیں۔ تمام اہم فیصلے، رہنما اصول، خارجہ اور داخلی پالیسیاں اور معاشی پروگراموں کا تعین اقتدار کے ایوانوں میں مقامی حکمران اور سامراجی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت ہی کرتی ہیں۔

انہوں نے میاں محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کی سعودی عرب ”جلا وطنی“ کے معاملے میں اقتدار کی سیاست اور لالچ کو بے نقاب کیا ہے ان کے مطابق سابق دور میں میاں محمد نواز شریف کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمے کا سامنا تھا اور شوکت عزیز کے مطابق انہیں بچانے کی پہلی اہم کوشش پاکستان میں قیام کے دوران بل کلنٹن نے کی، بل کلنٹن کے اس دورے کی ”نہ تو تصاویر کھینچی گئیں نہ ویڈیو بنائی گئی۔“

شوکت عزیز کے مطابق کلنٹن نے کہا کہ ”احتیاط برتیں“ آپ کو لوگوں سے نظر ملانے کے قابل ہونا چاہیے۔“ سابق صدر مشرف نے تابعداری سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”میں کینہ پرور آدمی نہیں اور آپ کی بات سمجھ رہا ہوں، نواز شریف کی جان کو خطرہ نہیں ہوگا“ شوکت عزیز کے مطابق بل کلنٹن کے دورے کا سرکاری موقف واضح تھا وہ نواز شریف کو معافی اور ملک چھوڑنے کی اجازت چاہتا تھا۔ کلنٹن کے دورے کے دو ہفتے بعد ہی میاں محمد نواز شریف پر دہشتگردی اور ہائی جیکنگ کا الزام ثابت ہوگیا اور عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ انہیں سزائے موت نہیں ہوئی۔ شوکت عزیز کے مطابق اقتدار کی اس سیاست میں ایک اور اہم کھلاڑی سعودی عرب تھا۔

کتاب کے مطابق ”سعودی ولی عہد شاہ عبداللہ کے ایماءپر رفیق حریری نے محمد نواز شریف کی رہائی کیلئے مذاکرات کے عمل کا آغاز کیا اور محمد نواز شریف سے بات کرنے کیلئے اپنے بیٹے سعد کو پاکستان بھیجا۔ سعد حریری کے دوروں کو کاروباری دورہ بنا کر پیش کیا جاتا اور وہ پاکستان پہنچنے پر سیدھے میاں محمد نواز شریف کو ملنے اٹک قلعے کی جیل میں چلے جاتے۔ میاں محمد نواز شریف کی جان بچانے اور انہیں پاکستان سے باہر بھیجنے میں سعودی عرب اور امریکہ کا بنیادی کردار تھا۔ پرویز مشرف اور بینظیر کی ڈیل پر شوکت عزیز لکھتے ہیں کہ ”کافی مشاورت کے بعد امریکیوں نے پرویز مشرف کو تجویز دی کہ وہ آرمی چیف کی حیثیت سے مستعفی ہونے کے بعد صدارت کا عہدہ پاس رکھ سکتے ہیں جبکہ بینظیر بھٹو وزیراعظم ہوں گی۔“

Comments are closed.

Scroll To Top