Error. Page cannot be displayed. Please contact your service provider for more details. (30)

Home / Uncategorized / وزیر اعلیٰ سندھ کا امجد صابری کے اہل خانہ کیلئے ایک کروڑ روپے کی امدادکا اعلان ، بچوں کو تعلیم اور بیوہ کو نوکری فراہم کریں گے : قائم علی شاہ
وزیر اعلیٰ سندھ کا امجد صابری کے اہل خانہ کیلئے ایک کروڑ روپے کی امدادکا اعلان ، بچوں کو تعلیم اور بیوہ کو نوکری فراہم کریں گے : قائم علی شاہ

وزیر اعلیٰ سندھ کا امجد صابری کے اہل خانہ کیلئے ایک کروڑ روپے کی امدادکا اعلان ، بچوں کو تعلیم اور بیوہ کو نوکری فراہم کریں گے : قائم علی شاہ

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے مقتول قوال امجد صابری کے اہل خانہ کیلئے ایککروڑ روپے کی مالی امداد دینے کا اعلان کرتے ہوئے بیوہ کو نوکری اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات اٹھانے کی بھی یقین دہانی کرادی ہے ۔
سندھ اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ معروف قوال و نعت خواں امجد صابری کے قتل کیس میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے جس کے باعث ان کے قاتلوں کو جلد گرفتارکریں گے تاہم قاتلوں کی گرفتاری سے ابھی کچھ نہیں بتاسکتا۔انہوں نے کہا کہ انسان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی جو چلا گیا ہے اس کو واپس نہیں لایا جاسکتا اور نہ ہی اس کا ازالہ کیا جاسکتا ہے تاہم دکھ بانٹنے کیلئے امجد صابری کے لواحقین کیلئے ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کرتا ہوں ۔ امجد صابری کی بیوہ کو مناسب نوکری بھی فراہم کرینگے اور ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات حکومت سندھ اٹھائے گی۔

قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کی تمام جماعتوں کی مشاورت سے کراچی آپریشن شروع ہوا اور تمام جماعتوں نے آپریشن کی ذمہ داری مجھے سونپی۔ کراچی آپریشن کےلئے پولیس کے ساتھ رینجرزکو ہمارے حوالے کیاگیا اور ہم نے بلا تفریق آپریشن کیا ۔ ڈی جی رینجرزکو کہاکہ ہماری مداخلت نہیں ہوگی اور انہیں ٹارگٹ کلرزاوربھتہ خوروں کےخلاف تمام اختیارات دیئے جس کی وجہ سے سیکیورٹی اداروں کاحوصلہ بڑھا۔کراچی میں محرم انتہائی اطمینان سے گزرا جبکہ کراچی آپریشن سے پہلے پولیس کہتی تھی کہ جلوس جلدی ختم کروائیں۔ میرے علاقے خیرپور میں کچھ سال پہلے ایک سال میں 90 قتل ہوئے تھے لیکن اب خیرپورمیں بھی محرم انتہائی اطمینان سے گزرا جبکہ شہریوں نے عیدبھی سکون سے گزاری ۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن وامان کی صورتحال کافی حدتک بہترہے اور سندھ کے عوام نے حالیہ دوواقعات سے پہلے کہاکہ امن وامان قائم ہوگیا ہے ۔ وزیراعظم نے ہراجلاس میں فون کرکے سندھ میں قیام امن پرمبارکباددی جبکہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کراچی میں امن قائم ہونے پر میری تعریف کی اور مبارکباد دی ۔ اس کے علاوہ تاجروں اورصنعت کاروں نے الگ الگ آکرمجھے امن وامان کے قیام پرمبارکباددی۔
قائم علی شاہ نے کراچی آپریشن کیلئے کیے گئے اقدامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 20 ہزار کانسٹیبل بھرتی کیے اور یہ بھرتیاں غیر سیاسی اور شفاف ہوئی ہیں۔ تمام قواعد، انٹرویواورعملی امتحان کے بعد بھرتیاں کی گئیں جبکہ جوانوں کو ریٹائرڈ آرمی آفیسرز سے جدید خطوط پر تربیت دلوائی گئی۔ قیام امن کےلئے پولیس اوررینجرزکے جوانوں نے بہت قربانیاں دی ہیں، کراچی آپریشن میں 400 پولیس اور 40 رینجرز اہلکار شہید ہوئے ۔ پہلے شہدا کے اہل خانہ کو صرف پانچ لاکھ روپے ملتے تھے لیکن ہم نے معاوضہ 20 لاکھ روپے کیا اور پھرہم نے 20 لاکھ روپے سے معاوضہ بڑھا کر 50 لاکھ روپے کردیا جبکہ شہید ملازمین کے بچے کو مساوی عہدے پر نوکری اور پلاٹ دینے کا اعلان کیا ۔
وفاقی حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ کوئی مجھے بتائے کہ میں نے کسی سے کسی بھی بات کابدلالیا ہو ؟ حالانکہ ہمارے خلاف توبہت انتقامی کارروائیاں ہوئیں۔ میں اپوزیشن لیڈرتھاتومنظوروسان کوگرفتارکرکے تھرلے جایاگیا۔ ایک بارکسی پارٹی کے کیمپ پر دہشتگردوں نے فائرنگ کی اور 29 لوگ مارے گئے لیکن اس کا الزام بھی مجھ پر لگا کر پکڑکرجیل میں ڈال دیا گیا اگلے دن اخبارمیں آیاکہ یہ تو مکھی نہیں مارسکتا 29 قتل کیسے کرے گا۔ نیب نے چھاپوں کے دوران ریکارڈقبضے میں لیاجوواپس نہیں دیااور جب پوچھاکہ ریکارڈکیوں لے گئے توکہایہ مت پوچھیں کہ کیوں لے گئے۔ایف آئی اے سوک سینٹرپرچھاپا مارکرکے ایم سی کا رکارڈ لے گئی جو 14 سے 15 ہزار فائلوں پر مشتمل تھا۔وفاقی وزیرداخلہ سے نیب کی شکایت کی تو انہوں نے کہاکہ نیب تونہیں لیکن ایف آئی اے دوتین ماہ میں چلی جائے گی۔

12 مئی 2007 کو کراچی میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی آمد کے موقع پر شہر میں ہونے والے قتل عام پر بات کرتے ہوئے بتایا چیف جسٹس کو کہا کہ آپ واپس نہ جائیں ہم لینے آئیں گے،ہم نے سوچاتھاصرف رکاوٹیں ہوں گی عبورکرلیں گے لیکن ہمیں کیاپتہ تھاکہ ہمارے لیے اتنی تیاریاں ہوں گی حالانکہ ہمارے پاس توایک لکڑی تک نہ تھی۔ ہم پر پیچھے سے فائرنگ ہوئی اور 12مئی کو اس طرح فائرنگ کی گئی پرجس طرح پرندوں کاشکارکیاجاتا ہے ۔ 11مئی کی رات پولیس اہلکاروں سے ہتھیار چھین لیے گئے تھے اور 12 مئی کوشارپ شوٹرزنے لوگوں کے سروں میں گولیاں ماریں۔
کچھ عرصہ پہلے دوستوں نے رینجرزکونکال کر فوج کو لانے کاکہا جبکہ نائن زیرو پر گو رینجرز گو کے نعرے لگے حالانکہ نائن زیروسے وہ لوگ بھی پکڑے گئے جنہوں نے صحافی کاقتل کیا اورفیصل موٹا کو ولی بابر قتل کیس میں سزائے موتسنائی گئی۔ 187 افراد کی فہرست رینجرز نے جاری کی اور ڈی جی رینجرزنے کہاکہ ان لوگوں کوپیش کرولیکن پیش نہیں کیاگیا۔

Comments are closed.

Scroll To Top