Home / Uncategorized / وہ ایک عرب جو پاکستانی قوم کے 80 ارب روپے پر سانپ بن کر بیٹھا ہے اور ایک روپیہ بھی دینے کو تیار نہیں
وہ ایک عرب جو پاکستانی قوم کے 80 ارب روپے پر سانپ بن کر بیٹھا ہے اور ایک روپیہ بھی دینے کو تیار نہیں

وہ ایک عرب جو پاکستانی قوم کے 80 ارب روپے پر سانپ بن کر بیٹھا ہے اور ایک روپیہ بھی دینے کو تیار نہیں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) دبئی کی کمپنی ”اتصالات“ نے جب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ(پی ٹی سی ایل)خریدی تو اس نے کچھ رقم ادا کی اور باقی قسطوں میں ادا کرنی تھی مگر اس نے چند قسطیں ہی ادا کیں اور زائدالمیعاد ہوجانے کے باوجود تاحال 80کروڑ ڈالر (تقریباً83ارب 70کروڑروپے) اتصالات کے ذمہ واجب الادا ہیں۔ وفاقی حکومت نے 2016-17ءکے بجٹ میں جب واجب الادا رقوم کا ذکر کیا تو اس میں اتصالات کے ذمہ ان 80ارب کا حوالہ نہیں دیا جس سے لگتا ہے کہ حکومت اتصالات کے اس قرض کو بھول چکی ہے۔
انگریزی اخبار ایکسپریس ٹربیون کی رپورٹ کے مطابق وفاقی رسید بک برائے بجٹ 2016-17ءپر اس قرض کا کہیں ذکر موجود نہیں۔ رسید بک کے مطابق حکومت نے 50ارب روپے کے قرض وصول کرنے ہیں حالانکہ 83ارب 70کروڑ روپے تو محض اتصالات ہی کے ذمہ واجب الادا ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ ”دراصل اتصالات کا نام گزشتہ سال کے بجٹ میں حذف کیا گیا تھا لہٰذا اس سال بھی شامل نہیں ہوا۔“ نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد زبیر نے اس کی الگ توجیح پیش کرتے ہوئے کہاکہ ”ہم ماضی میں بجٹ میں اتصالات کے ذمہ واجب الادا رقم ظاہر کرکے اس کی وصولی کی جھوٹی امیدیں باندھتے آئے ہیں حالانکہ پی ٹی سی ایل کی فروخت کے معاہدے کے مطابق ادارے کی منتقل نہ ہونے والی جائیدادوں کی قیمت اتصالات کے ذمہ واجب الادا رقم سے منہا کر دی جائے گی۔ بجٹ میں یہ رقم ظاہر نہ کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت اسے بھول چکی ہے۔ ہم نے گزشتہ ماہ بھی یہ معاملہ اتصالات کی انتظامیہ کے ساتھ اٹھایا تھا۔ “
واضح رہے کہ جولائی 2005ءمیں اتصالات نے 2ارب 60کروڑ ڈالر(تقریباً 2کھرب72ارب روپے) میںپی ٹی سی ایل کے 26فیصد حصص خریدے تھے جس میں اسے انتظامی کنٹرول بھی دیا گیا تھا۔ جس میں سے اس نے 1ارب 40کروڑ ڈالرپیشگی ادا کر دیئے تھے جبکہ باقی رقم 9مساوی اقساط میں ستمبر 2010ءتک ادا کرنی تھیں۔ تاہم اس نے چند قسطیں ہی ادا کی ہیں اور آج 2016ءآ جانے کے باوجود باقی رقم ادا نہیں کی اور حکومت بھی اس معاملے پر خاموش نظرآتی ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top