Error. Page cannot be displayed. Please contact your service provider for more details. (24)

Home / Uncategorized / وہ وقت جب 3صحافیوں کو پکڑکر جاتی امرا میں درختوں کیساتھ باندھ دیاگیاکیونکہ ۔ ۔ ۔
وہ وقت جب 3صحافیوں کو پکڑکر جاتی امرا میں درختوں کیساتھ باندھ دیاگیاکیونکہ ۔ ۔ ۔

وہ وقت جب 3صحافیوں کو پکڑکر جاتی امرا میں درختوں کیساتھ باندھ دیاگیاکیونکہ ۔ ۔ ۔

13140771_1688736031381093_1080089162_n

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی چینل نے دعویٰ کیاہے کہ 1993ءمیں بغیر اجازت رائیونڈفارم ہاﺅس کی اندرونی تصاویر لینے پر شریف برادران کے والد میاں محمد شریف کا انٹرویو کرنیوالے تین صحافیوں کو پکڑلیاگیااور بعدازاں اُنہیں درختوں کیساتھ باندھ کر ہوائی فائرنگ کی گئی ، خوف کے مارے صحافیوں سے بعدازاں مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر کی سربراہی میں معافی نامے پر دستخط کرانے کے بعد جانے کی اجازت دی گئی۔
نجی ٹی وی چینل ’24‘ کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے میزبان عبدالستار خان نے دعویٰ کیاکہ لاہور کے اخبار کے سینئر صحافی اور سینئر فوٹوگرافر انٹرویولینے جاتی امراءگئے ، میاں شریف کا انٹرویو لینے کے بعد اخبار کے چیف رپورٹرخالدقیوم ، ایڈیٹر جمیل چشتی اور اخبار کے چیف فوٹوگرافر عمر شریف نے لگے ہاتھوں محل نما گھر کے اندرونی حصے کی تصاویر لینے کا فیصلہ کیا، اسی دن میاں نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز کی منگنی تھی جس سے یہ صحافی لاعلم تھے ، دیکھاکہ بگھیوں میں کچھ لوگ خواتین سمیت گھر کے ایک حصے سے دوسرے حصے کی طرف جارہے ہیں تو انہوں نے اس کی تصاویر بھی لے لیں ، کچھ لوگ ان کی طرف بھاگے توصحافیوں نے اپنی ایف ایکس گاڑی نکالی لیکن لینڈکروزرپر پیچھا کرکے پکڑلیاگیا، بتایاگیاکہ انٹرویو کرنے آئے تھے لیکن اُن لوگوں نے اسلحہ کے زورپر صحافیوں کو ساتھ لیا اور لے جاکر درختوں کیساتھ باندھ دیا۔
دل کے مریض ہونے کی وجہ سے جمیل چشتی کوالگ کردیاگیااوردیگردوافراد کو درختوں کیساتھ باندھ دیا، زدوکوب کیا اور ساتھ ساتھ فائرنگ بھی کررہے تھے ، گولیاں قریب سے گزاری جارہی تھیں تاکہ یہ احساس دلایاجاسکے کہ آپ کو مارا بھی جاسکتاہے ، قریبی ایک ٹیوب ویل تھاجہاں سے نہلایابھی جارہاتھا اورپھر باندھ دیاجاتاتھا۔ یہ عمل پانچ سے آٹھ گھنٹے تک جاری رہا، ترلے کرتے رہے لیکن اُنہیں کیپٹن صفدر کی قیادت میں ہجوم یہ ماننے کو تیارنہیں تھے ، غلطی صرف اندرونی حصے کی تصاویر لیناتھی۔ عبدالستار خان کے مطابق مارپیٹ کے بعد نوازشریف کے گن مین حاجی سعید نے معافی نامے کی تجویز دی جس کے بعد اجازت کے بغیر جاتی امراءکی تصاویر لینے پر تحریری معافی مانگی اور اس کے بعد جانے کی اجازت دی گئی ، ساتھ یہ بھی تلقین کی گئی کہ کسے ذکر نہ کرنا، واپس آنے پر اتنی مارپڑی ہوئی تھی کہ شاید زندگی میں کبھی اتنا لاٹھی چارج ہی نہ ہوا ہو۔

Comments are closed.

Scroll To Top