Home / Uncategorized / پاناما لیکس،عمران خان کا لندن فلیٹ بھی بے نامی آف شور کمپنی نیازی سروسز لمیٹڈ کے نام نکلا
پاناما لیکس،عمران خان کا لندن فلیٹ بھی بے نامی آف شور کمپنی نیازی سروسز لمیٹڈ کے نام نکلا

پاناما لیکس،عمران خان کا لندن فلیٹ بھی بے نامی آف شور کمپنی نیازی سروسز لمیٹڈ کے نام نکلا

13231069_1692737984314231_1047425450_n

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے  لندن میں موجود  2003ءمیں بیچی جانیوالی پراپرٹی بے نامی آف شور کمپنی کی ملکیت تھی تاہم عمران خان کے ترجمان نعیم الحق نے بتایا کہ مذکورہ فلیٹ ہمیشہ عمران خان کے نام پر ہی تھا۔

روزنامہ جنگ نے دعویٰ کیاکہ برطانوی حکومت کے سرکاری لینڈ رجسٹری ریکارڈ کے مطابق 3 مئی 1984ءپر مذکورہ جائیداد، ڈریکوٹ ایونیو پر قائم فلیٹ نمبر 2، لندن (ساﺅتھ کینسنگٹن)، چینل آئی لینڈ کے علاقے جرسی میں قائم نیازی سروسز لمیٹڈ کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔ یہ فلیٹ 17 مارچ 2003ءکو 7 لاکھ 15 ہزار برطانوی پاﺅنڈز میں فروخت کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین نے اپنے مختلف انٹرویوز میں بھی یہی بتایا تھا کہ انہوں نے مذکورہ قیمت پر یہ فلیٹ فروخت کیا تھا لیکن یہ نہیں بتایا فلیٹ آف شور کمپنی کی ملکیت تھا۔

رپورٹ کے مطابق  الیکشن کمیشن آف پاکستان سے حاصل کردہ دستاویزات کے مطابق 2002ءکے عام انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں این اے 71 میانوالی کی نشست پر جمع کرائے جانے والے کاغذات نامزدگی میں بھی عمران خان نے لندن میں مذکورہ فلیٹ کا یہی پتہ بتایا تھا۔ قانونی فیس جمع کرانے کے بعد اخبار نے جرسی حکام سے دستاویزات کی نقل حاصل کی ہے جن کے مطابق نیازی سروسز لمیٹڈ چینل آئی لینڈ کے علاقے جرسی میں 10 مئی 1983ءکو رجسٹر کی گئی اور اس کا کمپنی کوڈ 26211 تھا۔ کمپنی کا پتہ لینگٹری ہاﺅس، لا موٹ اسٹریٹ، سینٹ ہیلیئر، جرسی تھا۔ چینل آئی لینڈ کا علاقہ جرسی آف شور کمپنیوں کیلئے محفوظ مقام سمجھا جاتا ہے اور تحقیقاتی صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم (انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹیو جرنلسٹس) کی جانب سے حال ہی میں جو معلومات جاری کی گئی ہیں ان میں جرسی کا نام بھی شامل ہے۔ جرسی حکام کے سرکاری دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱) لینگٹری ٹرسٹیز لمیٹڈ، ۲) لینگٹری سیکریٹریز لمیٹڈ، ۳) لینگٹری کنسلٹنٹس لمیٹڈ مئی 1983ءمیں نیازی سروسز لمیٹڈ کے قیام کے وقت اس کے بانی ارکان تھے اور کمپنیز (جرسی) لا 1861ءتا 1968ءکمپنی کا مجموعی سرمایہ دس ہزار برطانوی پاﺅنڈز تھا اور اس کے شیئرز کی تعداد بھی دس ہزار تھی جس کا مطلب کمپنی کے فی شیئر کی قیمت ایک برطانوی پاﺅنڈ تھی۔ یہ بے نامی معاہدہ تھا۔ بعد میں نیازی سروسز لمیٹڈ کا کنٹرول تین کمپنیوں نے سنبھال لیا۔رائل کورٹ آف جرسی کی دستاویزات میں بھی یہی معلومات موجود ہیں۔

روزنامہ جنگ کے مطابق نیازی سروسز لمیٹڈ کے 8 صفحات پر مشتمل میمورنڈم آف ایسوسی ایشن کے مطابق کمپنی کے اغراض و مقاصد یہ ہیں: ”کاروبار بالخصوص کھیلوں کی سرگرمیوں اور کھیلوں کے حوالے سے مارکینٹنگ اور تفریحی مصنوعات کے سلسلے میں کنسلٹنسی اور مشورے کی خدمات فراہم کرنا اور کھیلوں کی سرگرمیوں سے وابستہ مصنوعات کے معاملے میں تکنیکی ایڈو ا ئس دینا۔“ نیازی سروسز لمیٹڈ کے 12 اغراض و مقاصد ہیں۔ آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن کے 26 صفحات میں کمپنی کے آپریشنز کے حوالے سے مختلف قوائد و ضوابط بتائے گئے ہیں۔ کمپنیز رجسٹری میں نیازی سروسز کے سالانہ ریٹرنز کا بھی ذکر شامل ہے جو 2011ءتک ادا کیے گئے ہیں۔

عمران خان کے ترجمان نعیم الحق سے دی نیوز نے رابطہ کر کے یہ پوچھا کہ کیا عمران خان کا ڈریکوٹ ایونیو پر قائم فلیٹ نمبر 2، لندن (ساﺅتھ کینسنگٹن) آف شور کمپنی کی ملکیت ہے تو جواب میں نعیم الحق نے دو ٹوک الفاظ میں اس کی تردید کی اور کہا کہ یہ فلیٹ ان کے ذاتی نام پر تھا۔

Comments are closed.

Scroll To Top