Home / Uncategorized / پاناما کا معاملہ ختم نہیں شروع ہوا ، قائد اعظم نے 1948میں 4 ہزار نوازشریف نے 1992 میں 27 سو روپے ٹیکس دیا :خورشید شاہ
پاناما کا معاملہ ختم نہیں شروع ہوا ، قائد اعظم نے 1948میں 4 ہزار نوازشریف نے 1992 میں 27 سو روپے ٹیکس دیا :خورشید شاہ

پاناما کا معاملہ ختم نہیں شروع ہوا ، قائد اعظم نے 1948میں 4 ہزار نوازشریف نے 1992 میں 27 سو روپے ٹیکس دیا :خورشید شاہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی میںقائد حزب اختلاف پاناما لیکس کا معاملہ ختم نہیں ہوا بلکہ ابھی شروع ہواہے ۔سوالات کے جواب نہ ملنے پر اسمبلی سے واک آﺅٹ کیا تھا۔قائد اعظم نے1939میں چار ہزار چار سو نواسی روپے ٹیکس دیاجبکہ نوازشریف نے1992میں 27سو،1994میںصرف 4ہزار1995میں کچھ نہیںجبکہ 1996میں 50ہزاروپے ٹیکس دیا۔نوازشریف نے 14سال میں چھ لاکھ روپے ٹیکس دیاجبکہ 12کمپنیوں نے 23سالوں میں ایک ارب روپے ٹیکس دیا۔کیا قائد اعظم کی بھی کوئی آف شور کمپنیاں تھیں؟
تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سوالات آسانی پیدا کرنے کیلئے دیئے تھے اور جوابات نہ ملنے پر اسمبلی سے واک آﺅٹ کیا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بار بار پاناما لیکس کا پوچھتی رہی،وزیراعظم کے نہ آنے پر اپوزیشن نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جس پر کفر ٹوٹا خداخدا کر کے اور وزیراعظم اسمبلی میں تشریف لے آئے لیکن سوالات کے جواب نہیں دیئے۔
انہوں نے کہاہمیشہ کوشش کی ہے کہ پارلیمنٹ ہی مسائل کا حل نکالے کیونکہ پارلیمنٹ 20کروڑ افراد کا نمائندہ فورم ہے۔ انہوں نے کہا جانتے تھے کہ سڑکوں پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں مسائل حل ہوتے ہیں اس لیئے وزیراعظم سے کہا یہاں آئیں اور یہاں بات کریں ۔آج بھی ہمارا یہی موقف ہے۔
انہوں نے کہا ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے چین یا ترکی کا صدر خطاب کرنے کیلئے آرہا ہو۔ انہوں نے کہا کیونکر ہم اس پارلیمنٹ سے بھاگتے رہے ؟پاکستان میں روایت رہی ہے کہ پارلیمنٹ کو اتنی اہمیت نہیں ملتی جس قدر وہ مستحق ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم پارلیمنٹ کے بجائے اشاروں پر کام کرتے تھے اور پارلیمنٹ کے فیصلے باہر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا نواز شریف کے بیٹوں نے کبھی پاناما لیکس کا اعتراف کیا اور کبھی تردید کی۔آف شور کمپنیوں پر الگ الگ بیانات سامنے آئے۔فلیٹس کا پیسہ کہا ں سے آیا اس پر بھی متضاد بیانات سامنے آئے۔پاناما لیکس کے بارے میں ذہنی خلفشارنوازشریف کے اہلخانہ نے خود پیدا کیا۔سوال کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ڈکٹیشن نہیں لیتے ۔انہوں نے کہا جناب سپیکر وزیراعظم کے کہنے پر پتہ چلا کہ کوئی گلف سٹیل بھی ہے۔خورشید شاہ نے کہا کہ ہم تو یہ پوچھ رہے ہیں کہ پیسہ باہر کیسے گیا۔
خطاب کے دوران خورشیدشاہ پھٹ پڑے انہوں نے کہا ہم نے غریب کی بھوک کا کبھی نہیں سوچا بس اپنی ریاست اور تجارت کا سوچا۔ہمارے ملک کا پیسہ ہمارے ملک کے عوام کے پاس ہی رہنا چاہئے۔جو لوگ پاکستان کو ٹیکس نہیں دینا چاہتے یہاں کے غریبوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے ان کے پاس گرین پاسپورٹ بھی نہیں ہونا چاہئے۔خورشید شاہ نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کے بیٹے یورپ رہنا پسند کرتے ہیں تو ان کی قومیت بھی وہیں کی ہونی چاہئے ۔
کیوں ہمارا شہری غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے؟آخر ہمیں کیوں احساس نہیں ہو رہا کہ ہمارا کسان بے حال کیوں ہے؟اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم امین ہیں اورجہاں امانت میں خیانت ہوتی ہے وہاں پریشانیاں ہوتی ہیں۔
خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ قوم کے ذہن سے خلفشار نکالنا آسان نہیں کیونکہ وہ جانتی ہے کہ یہاں گڑ بڑ ہوئی ہے۔ہم ایسے ٹی اوآرز بنانا چاہتے ہیں جو قوم کا ذہنی خلفشار کم کردے۔ہم دودھ کا دود ھ اور پانی کا پانی کرنا چاہتے ہیں۔ہم سب کااحتساب کیاجائے۔ہماری —UTV Pakistan www.utv.com.pk/ کرپشن کو سامنے لایا جائے

Comments are closed.

Scroll To Top