Error. Page cannot be displayed. Please contact your service provider for more details. (11)

Home / Uncategorized / پاکستان میں جاسوس کی گرفتاری پر بھارت کی نئی چال ، ایران کو ساتھ ملانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اترآیا
پاکستان میں جاسوس کی گرفتاری پر بھارت کی نئی چال ، ایران کو ساتھ ملانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اترآیا

پاکستان میں جاسوس کی گرفتاری پر بھارت کی نئی چال ، ایران کو ساتھ ملانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اترآیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے پاکستان کو واضح کیاہے کہ بلوچستان سے پکڑے گئے بھارتی جاسوس کے معاملے پر تحقیقات کررہے ہیں کہ کیا وہ غیرقانونی طریقے سے سرحدعبور کرنے میں کامیاب ہویا یا وہیں سے ہی اٹھایاگیا لیکن اسی دوران بھارت نے اپنے جاسوس کی گرفتاری اور پاکستان میں مداخلت پر پردہ ڈالنے کے لیے ایران پر دباﺅ ڈالنا شروع کردیا کہ پاکستانی ایجنسیوں کیخلاف مقدمہ دائر کیاجائے کہ اس کی سرزمین سے بھارتی شہری کو پکڑاگیا۔
انگریزی اخبار’ایکسپریس ٹربیون‘ نے لکھاکہ ایران کی چاہ بہار بندرگاہ پر تعینات راکے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کوتین مارچ کو علیحدگی پسندرہنماﺅں سے ملاقات کیلئے بلوچستان داخل ہونے کے بعد حراست میں لے لیاگیااور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس ضمن میں ایرانی صدر حسن روحانی کے حالیہ دورے کے دوران بھی بات کی جبکہ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی ایرانی صدر سے اس ضمن میں تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق ایرانی حکام نے پاکستان کو بتایاہے کہ وہ اس ضمن میں تحقیقات کررہے ہیں کہ آیا یادیو غیرقانونی طورپر پاکستان داخل ہوایانہیں ۔
رپورٹ کے مطابق بھارت پہلے ہی یہ دعویٰ کرچکاہے کہ یادیوکو ایرانی سرزمین سے اٹھایاگیاہے اور اب ایران پر دباﺅڈالاجارہاہے کہ پاکستانی ایجنسیوں کیخلاف مقدمہ درج کیاجائے ۔ بات یہیں تک محدود نہیں بلکہ بھارت نے امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کی بھی مدد لینے کی کوشش شروع کردی تاکہ ایران کو اس بات پر آمادہ کیاجاسکے کہ کلبھوشن یادیو کو اس کی سرزمین سے ہی اٹھایاگیا۔ حتیٰ کہ بھارت نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ پاکستان یا بھار ت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیں ۔
ذرائع نے بتایاکہ اگر ایران نے بھی بھارتی موقف کی حمایت کی تو پاکستان بھارتی جاسوس کی گرفتاری سے متعلق شواہد دنیا کے سامنے پیش کرے گاجبکہ پاک فوج کے ترجمان نے بتایاکہ پاکستان کے پاس اس بات کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ یادیوایران سے بلوچستان میں داخل ہورہاتھا۔
یہاں یہ امربھی قابل ذکر ہے کہ بھارت چاہ بہار میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کررہاہے کیونکہ اسی بندرگاہ کے ذریعے پاکستان کے بغیرہی بھارت افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں اپنی رسائی حاصل کرسکتاہے جبکہ بھارت اپنے استعمال کا بیشتر تیل ایران سے خریدتاہے ۔
دوسری طرف پاکستان نے بھی بھارتی ایجنٹ کی گرفتاری سے متعلق شواہد امریکہ ، برطانیہ سمیت کئی عالمی طاقتوں کے حوالے کیے ہیں لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2جنوری کو پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملے کے بعد بھارت کے رابطہ کرنے پر انہی طاقتوں نے بہت جلد جواب دیاتھا ۔

Comments are closed.

Scroll To Top