Home / Uncategorized / پاکستان کا فخر ماسٹر ایوب جنہوں نے 30سال بچوں کو تعلیم دینے میں گزار دیئے
پاکستان کا فخر ماسٹر ایوب جنہوں نے 30سال بچوں کو تعلیم دینے میں گزار دیئے

پاکستان کا فخر ماسٹر ایوب جنہوں نے 30سال بچوں کو تعلیم دینے میں گزار دیئے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی دارلحکومت میں رہائش پذیر سول پاکستان سیکریٹریٹ میں ریسکیو سیل کے انچارج کام کرنیوالے ماسٹر ایوب کو اپنی مدد آپ کے تحت کھلے میدان میں نادار بچوں کو تعلیم دیتے ہوئے 30واں سال شروع ہوگیاہے اور اس کارنامے پر صدر پاکستان کی طرف سے ماسٹر ایوب کو تمغہ حسن کارکردگی بھی دیاجاچکاہے ۔
عرب ٹی وی چینل ’الجزیرہ‘ کے مطابق ماسٹر ایوب نے بتایاکہ 30سال قبل سوچتاتھاکہ کوئی ایسا کام کروں کہ کسی کے کام آﺅں ، ایک دن ایک بچے کو گاڑی صاف کرتے دیکھا تو استفسار پربچے نے بتایاکہ ماں باپ غریب ہیں اوران کا ہاتھ بٹانے کے لیے مزدوری کرتاہوں ، اپنے پاس سے کاپی ،پنسل اورربڑدی اور وہیں پر پڑھاناشروع کردیا۔ اگلے دن دوطالبعلم ہوگئے اور پھر بڑھتے ہی چلے گئے ۔ سابق طلباءاور دوستوں کی مدد سے اب 200مسلمان اور مسیحی بچوں کو درس دیتے ہیں ، پہلی سے دسویں تک تعلیم دی جاتی ہے۔
ماسٹرایوب اپنی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ کھلے میدان میں موجود سکول میں بچوں کو تعلیم دینا بھی اپنا فرض سمجھتے ہیں ، جب ستمبر2008ءمیں میرٹ ہوٹل میں دھماکہ ہوا اور پھر آگ لگ گئی تو ماسٹرایوب آگے آئے تھے۔ماسٹرایوب نے بتایاکہ آگ لگ چکی تھی اور وہاں کچھ لوگ پھنسے ہوئے تھے ، آگ سے لوگوں کو نکالنے کے لیے داخل ہواتو اپنا جسم بھی جل گیا، ہاتھ جل گئے لیکن اپنے مقصد میں کامیاب رہا۔اُنہوں نے بتایاکہ اپنی تنخواہ کے تین حصے کرتے ہیں ، ایک حصہ سکول ، ایک حصہ بیوی بچوں اور ایک حصہ اپنی ذات پر خرچ کرتاہوں،اب تک ہزاروں بچے پڑھ کر جاچکے ہیں ، 30واں سال شروع ہے ۔ انہوں نے قوم کیلئے پیغام دیاکہ پاکستان کو اگر ترقی کراناچاہتے ہیں تو ہرروز اپنے محلے دار، عزیز رشتہ دار یا کسی بھی بچے کو ایک لفظ پڑھادیں ، ان پڑھ لوگوں کی مدد کریں ۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں شرح خواندگی دنیا میں سب سے کم ہے ، لاکھوں بچے سکول نہیں جاتے اور اپنے خاندان کی مدد کیلئے کام کرتے ہیں جبکہ الجزیرہ کے مطابق اب بچوں نے سکول کی عمارت کیلئے پتھر بھی جمع کرنا شروع کردیئے ہیں ۔
پاکستانی میڈیا کے مطابق ماسٹر ایوب سکول شروع کرنے سے قبل ملازمت کی غرض سے منڈی بہاالدین سے اسلام آباد منتقل ہوئے تھے اورڈیفنس کی تربیت حاصل کر کے سی ڈی اے کے ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں بطور ریسکیو ورکرملازمت شروع کی تھی ،دن بھر بطور ریسکیو ورکر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے محمد ایوب دن ڈھلتے ہی اپنے دفتر سے جہاں وہ مقیم بھی ہیں، اپنی سائیکل نکالتے ہیں اور سیکٹر ایف سکس کے ہل روڈ سے جڑے پارک روانہ ہوجاتے ہیںجہاں گلشن زندگی کے پھول ان کے منتظر ہوتے ہیں۔ماسٹر محمد ایوب کی شخصیت اتنی متاثر کن ہے کہ دور دور سے لوگ انہیں اور ان کے اس خود ساختہ اسکول کو دیکھنے کھنچے چلے آتے ہیں۔ ماسٹر ایوب کی آنکھوں میں ایک اسکول بنانے کا خواب ہے جس کی تعبیر بھی وہ اپنی زندگی میں ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top