Home / Uncategorized / پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک اور جھٹکا، بڑی شرمندگی کا سامنا
پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک اور جھٹکا، بڑی شرمندگی کا سامنا

پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک اور جھٹکا، بڑی شرمندگی کا سامنا

13162007_1690009614587068_80223364_n

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کیلئے منتخب آسٹریلیا کے سٹورٹ لا کی جانب سے انکار کے بعد پی سی بی کو نئی مشکل کا سامنا ہے اور اب دوسرے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے جس کے باعث ہیڈ کوچ کیلئے حتمی نام کا اعلان جمعے کے روز متوقع ہے۔
ورلڈ ٹی 20 میں بدترین کارکردگی پر وقار یونس کی جانب سے ہیڈ کوچ کے عہدے سے استعفے کے بعد نئے کوچ کی تلاش تاحال جاری ہے۔ پاکستان کے سیکیورٹی مسائل اور نسبتاً کم تنخواہ کے باعث کسی بھی غیر ملکی کیلئے اس عہدے کی حامی بھرنا آسان نہیں ۔ پاکستان نے نئے کوچ کے انتخاب کیلئے وسیم اکرم اور وقار یونس پر مشتمل 2 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے رکھی ہے جنہوں نے اس عہدے کیلئے درخواستیں جمع کرانے والوں میں سے سٹورٹ لا، ڈین جونز ، انگلینڈ کے اینڈی مولز اور جنوبی افریقہ کے مکی آرتھر کے نام شارٹ لسٹ کئے تھے۔
پی سی بی کے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ”ہم نے چار غیر ملکیوں کے نام منتخب کئے تھے لیکن سٹورٹ لا آسٹریلین کرکٹ ٹیم کے ساتھ بیٹنگ کوچ کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں جس کے باعث وہ ستمبر تک دستیاب نہیں ہوں گے اور اس وجہ سے انہوں نے انکار کردیا ہے“۔
پی سی بی جولائی میں قومی ٹیم کے دورہ انگلینڈ سے پہلے ہیڈ کوچ تعینات کرنا چاہتا ہے جہاں چار ٹیسٹ، 1 ٹی 20 اور 5 ون ڈے میچ کھیلے جائیں گے۔ اس سے قبل چار غیر ملکی سابق کھلاڑی قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ رہ چکے ہیں جن میں رچرڈ پائبس، باب وولمر، جیف لاسن اور ڈیو واٹمور شامل ہیں۔ پی سی بی نے ہیڈ کوچ کیلئے 16 ہزار ڈالر سے 20 ہزار ڈالر ماہانہ کا بجٹ مختص کر رکھا ہے جو کہ دیگر ملکوں میں اس عہدے کیلئے ملنے والی تنخواہ سے بہت کم ہے۔
ڈین جانز کے پاس کسی بھی غیر ملکی ٹیم کی کوچنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے جبکہ ایڈم مولز اس سے قبل ہانگ کانگ، کینیا، سکاٹ لینڈ، نیوزی لینڈ اور افغانستان کی ٹیم کے کوچ رہ چکے ہیں۔ مکی آرتھر نے بھی جنوبی افریقن کرکٹ ٹیم کی پانچ سال تک کامیابی سے کوچنگ کی ہے اور 2013ءمیں انہیں آسٹریلین ٹیم کا کوچ بھی بنایا گیا تھا تاہم اسی سال ایشیز سیریز کے دوران ہی انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق کھلاڑی عاقب جاوید اور محسن خان نے یہ کہتے ہوئے اس عہدے کیلئے اپنی خدمات پیش کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ اس تمام طریقہ کار میں پسند اور ناپسند کا بہت عمل دخل ہے۔ عاقب جاوید نے گزشتہ ماہ ہی متحدہ عرب امارات کی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ سے استعفیٰ دیا ہے اور اب وہ پاکستان سپر لیگ میں لاہور کی ٹیم کے ساتھ منسلک ہیں۔
محسن حسن خان اس سے قبل پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کر چکے ہیں جس دوران پاکستان نے برطانیہ کو ٹیسٹ سیریز میں 3-0 سے شکست دی تھی تاہم ون ڈے سیریز میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Comments are closed.

Scroll To Top