Home / Uncategorized / پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ
پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ

پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ

مجھے تو لگتا ہے کہ ہر سال چھ مہینے بعد لیکس کا جو پنڈورا بکس کھلتا ہے، اس کے پیچھے بھی ایک بڑی کرپشن موجود ہوتی ہے جس طرح کرکٹ اور فٹ بال میچوں کی میڈیا کوریج کے حقوق بیچے جاتے ہیں، غالباً اسی طرح اس وکی لیکس پانامہ لیکس اوردیگر سنسنی خیز انکشافات کرنے والی لیکس کی خبریں بھی خریدی جاتی ہیں، پھر انہیں ایک دھماکہ خیز خبر کے طور پر دنیا میں بریک کیا جاتا ہے، جس کے بعد ہر طرف اسی خبر کا چرچا ہو رہا ہوتا ہے۔ غور کیا جائے تو جو انکشافات یہ لیکس کررہی ہیں، وہ تو پہلے ہی زمینی حقیقتوں اورریکارڈ کے طور پر دنیا میں موجود ہیں۔ یہ کوئی تارے توڑنے کا عمل توہے نہیں، زمین پر بکھرے کاروبار، بنکوں میں پڑے دھن اور معروف علاقوں میں موجود جائیدادوں کا ذکر ہی تو کیا جاتا ہے، وہ کس سے چھپی ہوئی ہیں۔ مثلاً شریف خاندان کی لندن میں جائیدادوں اورکاروبار یا کمپنیوں کی موجودگی سے کون واقف نہیں، خود وزیر اعظم نواز شریف کے دونوں صاحبزادے اپنے متعدد انٹرویوز میں تسلیم کر چکے ہیں کہ وہ لندن میں بزنس کرتے ہیں اور ان کے پاس مہنگے علاقوں میں گھر بھی ہیں، کیونکہ انہوں نے وہاں رہ کر بزنس میں ترقی کی ہے اور یہ ان کا حق تھا کہ وہ اپنی محنت سے آگے بڑھیں۔
اصل میں اس قسم کے انکشافات یورپ اور امریکہ کے اس دہرے معیار اور دو غلے پن کو ظاہر کرتے ہیں، جو انہوں نے دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے اپنا رکھا ہے، مثلاً یہ ممالک قانون کی برتری کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم کسی کو رعایت نہیں دیتے، منی لانڈرنگ اورکالے دھن کو بڑا جرم سمجھتے ہیں، مگر اس کے باوجود دنیا بھر کے مالی بدعنوانی میں ملوث افراد کو اپنے ہاں پناہ بھی دیتے ہیں اوران کے پیسے کو تحفظ بھی۔ پھر خود ہی وکی لیکس اورپانامہ لیکس جیسے ’’ جادوگروں‘‘ کو ان معلومات تک رسائی کا موقع بھی دیتے ہیں۔ اس پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسے انکشافات صرف انکشافات کی حد تک ہی کئے جاتے ہیں یا ان کے پس پردہ مقاصد بھی ہوتے ہیں، قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اس قسم کی لیکس جب سامنے آتی ہیں تو بڑے بڑے حکمران اوردنیا کے امیر ترین سرمایہ دار بھی ان ممالک کے دست نگر بن کر رہ جاتے ہیں، جہاں انہوں نے اپنی دولت چھپا رکھی ہوتی ہے یا جہاں ان کی بزنس ایمپائرزموجود ہوتی ہیں، اس کے بعد اندر خانے کیا ہوتا ہے، کیسے معاملات طے کئے جاتے ہیں، منی لانڈرنگ اور کالے دھن کے ثبوت سامنے آنے کے باوجود کوئی کا رروائی کرنے کی کیا قیمت وصول کی جاتی ہے، اس بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ہوتا۔

اس سارے گورکھ دھندے کا یہ پہلو بھی توجہ طلب ہے کہ اس میں زیادہ تر وقت کے حکمرانوں کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ بڑے ناموں کی فہرست میں صرف موجودہ دور کے دنیا بھر سے ایسے حکمرانوں یا ان کے خاندانوں کا ذکر کیا جاتا ہے، جن کی دولت یا کاروبار بیرون ملک موجود ہے، مثلاً اس بار پانامہ لیکس میں شریف خاندان کو فوکس کیا گیا ہے، آصف زرداری کا کہیں نام موجود نہیں، بے نظیر بھٹو اوررحمٰن ملک کا ذکر بھی قانونی انداز میں کیا گیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس سارے عمل میں کہیں نہ کہیں خبر کی سنسنی خیزی کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو اس شبے کو ابھارتا ہے کہ اس کے پس پردہ مقاصد وہ نہیں جو دکھائی دیتے ہیں، بلکہ مسئلہ کچھ اور ہے۔ تاہم ہمارا حال چونکہ عبداللہ دیوانے جیسا ہے، جوپرائی شادی میں بھی بھنگڑے ڈالتا ہے، اس لئے ہم خوش ہو جاتے ہیں کہ لو جی اب کوئی بڑا کام ہونے والا ہے، کوئی بڑی مچھلی ہاتھ آنے والی ہے جس طرح ہم نے ٹی20میں ہارنے کے بعد ویسٹ انڈیز کی کامیابی پر خود ان سے زیادہ جشن منایا اورایک دوسرے کو مبارک باد دی، اسی طرح ہم وکی لیکس یا پانامہ لیکس کے انکشافات پر بھنگڑے ڈالنے لگتے ہیں اوریہ بھول جاتے ہیں کہ جو کام ہم ملک کے اندر نہیں کرسکتے وہ بیرونی ملک ہونے والے واقعات یا حقائق پر کیسے کر سکتے ہیں؟

جب سے پانامہ لیکس کے انکشافات سامنے آئے ہیں، ہمارے میڈیا نے آسمان سر پر اٹھالیا ہے، یوں لگتا ہے جیسے یہ سب کچھ پہلی بار سامنے آیا ہے۔ ایک ایسا ملک جس کی تاریخ میں سرے محل جیسی کہانیاں بھی موجود ہیں اور جس کے اکثر بڑے سیاسی رہنما، جرنیل، سابق ججز اور سرمایہ دار بیرون ملک اثاثے بھی رکھتے ہیں اورعالیشان بنگلے بھی، اس کے بارے میں اگر پانامہ لیکس کچھ انکشافات کرے تو اسے معمول کی کارروائی سمجھا جانا چاہیے، کیا حسن نواز اورحسین نواز پاکستان میں رہتے ہیں جن کے بارے میں یہ انکشاف ہوا ہے وہ لندن میں بھی کاروبار کرتے ہیں، سب کو معلوم ہے کہ ان کا لندن میں بہت بڑا سیٹ اپ ہے، یہ تو کوئی انکشاف نہیں، البتہ یہ انکشاف ضرور ہوتا اگر پانامہ لیکس یہ بتاتی کہ یہ سرمایہ کہاں سے آیا، کیسے آیا، کب آیا، کس نے بھیجا؟ کوئی بھی انکشاف ادھورا ہی رہتا ہے، جب تک وہ اپنے تمام دائرے ممکن نہ کرتا ہو۔ ایسے انکشافات تو روزانہ ہی ہوتے ہیں۔ اخبارات میں آئے روز اربوں روپے کی کرپشن کے قصے شائع ہوتے ہیں۔ یہ قصے صرف قصے ہی رہتے ہیں، کبھی حقیقت نہیں بنتے۔ یہ ان قصوں کا ہی کیا دھرا ہے کہ اب یہ جملہ ہر کوئی تکیہ کلام کے طور پر بولتا ہے کہ ایک پیسے کی کرپشن بھی ثابت ہو جائے تو وہ سولی پر لٹکنے کو تیار ہے۔ اب بھلا اس زمانے میں ایک پیسے کی کرپشن کیسے ثابت کی جاسکتی ہے اوروہ سولی آخر ہے کہاں کہ جو ایک پیسے کی کرپشن پر کسی کو لٹکا نے کے کام آتی ہے۔

ہم اپنے گھر کو تو صاف نہیں کرسکتے، ساری توجہ باہر کی طرف دی ہوئی ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ باہر والے ہمارا گند صاف کردیں۔ الطاف حسین کو قتل کے مقدمے میں سزادلانی ہو تو سکاٹ لینڈ یارڈ کی پولیس بر نظر یں جمالیتے ہیں، حالانکہ کراچی میں بھی الطاف بھائی پر درجنوں قتل کے مقدمے درج ہوئے ہیں سرفراز مرچنٹ کو لندن سے پاکستان طلب کرلیتے ہیں، لیکن پاکستان میں جو کرپشن کے مقدمات چل رہے ہیں، ان پر کوئی پیش رفت نہیں کرتے۔ سرے محلوں اور سوئس بنکوں میں لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے کے لئے مطالبات بھی کرتے ہیں اورمظاہر ے بھی لیکن جن لوگوں نے ملک کے اندر رہ کر کھربوں روپے کی کرپشن کی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے دولت کے انبار لگا چکے ہیں ان کی طرف کبھی میلی آنکھ سے دیکھتے تک نہیں۔ آج بہت سے ٹی وی اینکرز یہ مطالبہ کرتے نہیں تھک رہے کہ نیب کوفوراً پانامہ لیکس کے انکشافات پر حرکت میں آنا چاہیے۔ ارے بابا پہلے یہ تو مطالبہ کرو کہ نیب ملک میں ہونے والی کرپشن اورلوٹ مار پر حرکت میں آئے۔ نیب نے اب تک کون سے ایسے تیر چلائے ہیں کہ جن کی وجہ سے ہم یہ توقع باندھ لیں کہ اسے اب پانامہ لیکس پر قانون کو حرکت میں لانا چاہیے۔ کیا نیب نے ملک میں کرپشن پر قابو پالیا ہے، کیا ایف بی آر نے تمام ٹیکس چوروں، کالے دھن والوں کو قانون کی گرفت میں لے لیا ہے کہ اب اسے بین الاقوامی کرپشن کوروکنے کا ٹاسک دیا جائے۔ کیا ہمارے عدالتی نظام نے آج تک کسی کرپٹ، ٹیکس چور یا منی لانڈرنگ کرنے والے کو کوئی سزادی ہے کہ جو ہم منہ پھاڑ پھاڑ کے مطالبہ کررہے ہیں کہ عدلیہ کو پانامہ لیکس کا نوٹس لینا چاہیے۔ جہاں رنگے ہاتھوں پکڑی جانے والی ایان علی عدلیہ کے لئے درد سر بن گئی ہو وہاں دوسرے ممالک میں ان ملکوں کے قوانین کا فائدہ اٹھا کر کھرب پتی بننے والوں کے خلاف کارروائی کی آس ہم کیوں لگائے بیٹھے ہیں میرے نزدیک یہ سب وقت کا ضیاع ہے۔ یہ سب میڈیا کا حربہ ہے جس کے ذریعے وہ سنسنی پھیلا کر کچھ دن اپنا مال بیچنا چاہتے ہیں۔وکی لیکس اورپانامہ لیکس جیسے ادارے ایسے انکشافات کے بعد خاموش کیوں ہو جاتے ہیں نامکمل انکشاف کیوں کرتے ہیں، جس طرح کسی خبر کے نیچے یہ لکھا ہو کہ مزید سنسنی خیز انکشافات کا انتظار کیجئے اوربات سمجھ آجاتی ہے کہ اس کا مقصد بلیک میلنگ کے سوا کچھ اور نہیں، اسی طرح یہ لیکس والے بھی آدھا سچ بول کر باقی آدھے سچ کی قیمت وصول کرلیتے ہیں، باغبان بھی خوش ہو جاتا ہے اورصیاد کوبھی کچھ نہیں ہوتا۔ بس کچھ دنوں کے لئے تماشائیوں کا اچھا وقت گزر جاتا ہے، جیسے ٹی20کے دوران گزرا اوراب وہ کسی اگلے سنسنی ٹورنامنٹ کا انتظار کررہے ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top