Home / Uncategorized / پی ٹی آئی کا امتحان ،خیبر پختونخوا کے سرکاری بینک نے اپنے ہی وزیرخزانہ کیخلاف الزامات کی بھرمار کردی
پی ٹی آئی کا امتحان ،خیبر پختونخوا کے سرکاری بینک نے اپنے ہی وزیرخزانہ کیخلاف الزامات کی بھرمار کردی

پی ٹی آئی کا امتحان ،خیبر پختونخوا کے سرکاری بینک نے اپنے ہی وزیرخزانہ کیخلاف الزامات کی بھرمار کردی

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبرپختونخوا کے سرکاری بینک نے اپنے ہی وزیر خزانہ کے خلاف چارج شیٹ جاری کی ہے جس میں مظفر سید پرغیر قانونی بھرتیوں سمیت اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگایا گیا ہے۔یہ چارج شیٹ عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت کیلئے اصل امتحان بن کر سامنے آئی ہے جس میں کے پی کے کے سینئر وزیر پر سنگین ترین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ اخبار میں شائع کرائے گئے اشتہار میں بینک انتظامیہ نے الزام لگایا ہے کہ بینک آف خیبر کی انتظامیہ کو بدنام کرنے اور دباﺅ میں لانے کیلئے حال ہی میں خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ کی طرف سے بینک کے خلاف جھوٹے اور گمراہ کن الزامات لگائے گئے ہیں۔ تحقیق اور بعض ذرائع سے معلومات حاصل کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ وزیر خزانہ نے بینک کے بعض عناصر سے مل کر بینک کی انتظامیہ کو بدنام کرنے اور انہیں دباﺅ میں لانے کیلئے یہ مذموم مہم شروع کی ہے۔

اشتہار میں کہا گیا ہے کہ موصوف گزشتہ ڈیڑھ سال سے خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ ہیں مگر وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ ایک مالی ادارہ کیسے کام کرتا ہے اور کارپوریٹ گورنینس ڈھانچہ کیا ہوتا ہے۔
قوانین کی رو سے حکومت بینک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی کیونکہ بینک کے بورڈ میں حکومت کے نامزد ڈائریکٹرز حکومتی مفاد کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔بینک نے میریٹ کے خلاف وزیر خزانہ کے سیاسی طور پر نامزد افراد کو بینک میں بھرتی اور بینک کی برانچز کھولنے سے انکار کیا جس پر موصوف نے بینک کو بدنام کرنا شروع کردیا اور ان کی حالیہ سرگرمیاں اسی سازش کا حصہ ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بینک میں تبدیلی لائی۔ پہلے صرف ایک قائم مقام منیجنگ ڈائریکٹر بینک چلارہا تھا۔ اب ایک مستقل منیجنگ ڈائریکٹر میرٹ پر مقرر کیا گیا ہے اور مختلف خرابیوں کو دور کردیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ایک آزاد اور اہل بورڈ کا تقرر وجود میں آیا ہے جسے پورے اختیارات دئیے گئے جس میں صوبائی حکومت کی مداخلت نہ ہو۔ یہ تبدیلی مفاد پرست عناصر کو پسند نہ آئی۔ سیاسی طور پر بھرتی شدہ ملازمین جو نااہل ہیں انہیں اب اپنی نوکری خطرے میں نظر آرہی ہے۔
اشتہار میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح رہے کہ بینک کی مبینہ نجکاری حکومت کے زیر غور نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلہ میں کوئی کارروائی ہورہی ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ مسئلہ صرف بینک کے کام کرنے تک محدود ہے اور اس میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت، وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری یا پاکستان تحریک انصاف کا کوئی وزیر ملوث نہیں ہے۔
اشتہار میں بتایا گیا کہ وزیر خزانہ بینک کے خرچ پر جلسوں اور تقریبات کا انعقاد اور بینک کے وسائل کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے، بورڈ اور دیگر کارپوریٹ امور میں مداخلت کرنے،سیاسی وابستگیوں کی بدولت ترقیوںاور بینک کے بعض افراد کو ساتھ ملا کر من پسند افراد کی بینک میں بھرتی میں ملوث رہے ہیں۔
دوسری جانب صوبائی وزیرخزانہ مظفرسید نے اپنے بینک کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی مقاصد کے لئے بینک کو استعمال نہیں کیا گیا،جماعت اسلامی میرٹ کی قائل ہے اگر بھرتیاں میرٹ پر نہیں ہوئیں تو حکومت تحقیقات کرے گی، بے جا الزامات لگانے کا کسی کو حق نہیں۔واضح رہے کہ مظفرسید کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے جو کے پی کے میں تحریک انصاف کی اتحادی جماعت ہے

Comments are closed.

Scroll To Top