Home / Uncategorized / چھوٹوگینگ کے سرغنہ نے انتظامیہ اور پولیس کا بھانڈا پھوڑدیا، دوٹوک اعلان
چھوٹوگینگ کے سرغنہ نے انتظامیہ اور پولیس کا بھانڈا پھوڑدیا، دوٹوک اعلان

چھوٹوگینگ کے سرغنہ نے انتظامیہ اور پولیس کا بھانڈا پھوڑدیا، دوٹوک اعلان

13020057_1683895041865192_565117806_n

راجن پور(مانیٹرنگ ڈیسک) چھوٹوگینگ کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹونے پولیس اور انتظامیہ کے دوہرے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاہے کہ یہاں کوئی ملزم موجود ہیں تو ان کیخلاف کارروائی کریں ، پہلے بھی علاقے میں ملازم آتے تھے اور کبھی نہیں چھیڑاتھا،ہمارے بچے مارے گئے اور مجبوری کی حالت میں جوابی اقدامات شروع کیے، عام معافی کے اعلان کی توقع کررہے تھے لیکن مقامی انتظامیہ نے مخالفین کیساتھ کھڑے ہوکرآپریشن شروع کردیا،قرآن مجید کی ضمانت پر آج بھی اسلحہ پھینکنے کو تیارہیں، محب وطن پاکستانی ہوں لیکن اب سرپرکفن باندھ لیاہے ، اب جان کی پرواہ نہیں،آرمی بھی انصاف نہیں کرتی ، نمبروں کی لوکیشن دیکھ سکتی ہے اور دیگر شواہد اکٹھے کرسکتی ہے لیکن نہیں کررہی ، گلشن اقبال پارک دھماکے کے بعد ہونیوالی چھاپہ مارکارروائی پر سردار شیرعلی خان اور ڈی ایس پی سے بھی بات کی ، ڈکیتیاں کرتے رہے ہیں لیکن اب چھوڑچکے ہیں ، پولیس پراعتمادنہیں کیونکہ وہ دشمنوں سے ملے ہوئے ہیں، کوئی الزام ہے تو آئی جی پنجاب بتائیں ، مقدمات کا سامنا کرنے کوتیارہیں ، خود پولیس اہلکار اور حکومت اسلحہ بیچتی رہی ہے اور مقامی سرداروں کا بھی اس حدتک پہنچانے میں ہاتھ ہے ، فوج کے ذمہ دارافسران آئیں ، اسلحہ دیکھیں اور مذاکرات کریں ، فوج سے کوئی دشمنی نہیں لیکن دشمن گینگ کے آگے ہتھیارنہیں ڈال سکتا۔
نیوٹی وی کے پروگرام میں ٹیلی فونک گفتگوکرتے ہوئے غلام رسول عرف چھوٹونے بتایاکہ مذاکرات کے لئے تیار تھے لیکن انتظامیہ مذاکرات نہیں کرناچاہتی، پہلے بھی پولیس ملازم یہاں آتے رہتے تھے اور انہیں کبھی نہیں چھیڑا تھا، ہمیں کبھی اعتراض نہیں ہوا تھا کہ اگر علاقے میں طالبان یا دیگر ملزمان ہوں تو یہ آئیں اور ان کے خلاف کارروائی کریں، ہم بھی مسلمان ہیں اور یہ بھی مسلمان ہیں۔
خود کو قانون کے حوالے کرنے اورمقدمات سے متعلق سوال کے جواب میں چھوٹو کاکہناتھاکہ کوئی گھرکا نقصان کرے ، تمام بچے بھی ماردیئے جائیں ، پھر مارٹرگولے برسائے جائیں تو کیا آپ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کربیٹھ جائیں گے؟حکومت سے انصاف کی توقع نہیں ، مخالف گینگ اب بھی انتظامیہ کیساتھ ہے ، یہ انصاف تو نہیں ۔ چھوٹو نے استفسار کیاکہ پاک فوج کیوں انصاف نہیں کرتی ، ہمارے ساتھ بات کرنے میں کیا مسئلہ ہے ،ہمارے موبائل نمبروں کی لوکیشن کیوں چیک نہیں کرتی ،حقائق تک پہنچیں، اگر کوئی غلط رابطہ ہوگا تو لوشکن تو لازمی ہوجائے گی اور حکومت کو بھی پتہ چلے گا۔
اُن کاکہناتھاکہ لاہورمیں بم پھٹنے کے بعد پولیس آگئی اور مخالف گروپ ان کیساتھ تھے ، مقابلے میں دوہمارے اور پانچ افراد مخالفین کے مارے گئے ، چارزخمی ہوئے جس کے بعد خود ڈی ایس پی کو فون کرکے اپنے بندے لے جانے کی اطلاع دی ، سردارشیرعلی کوزخمی بھجوائے اوراب بارباردھمکیاں ملتی ہیں ، آخرایک دن مرناہے ، میں بھی مروں گا اور یہ بھی برباد ہوں گے ، میں دشمن کے آگے سرنہیں جھکا سکتا، شہید ہوجاﺅں گا، اپنے سرپر کفن باندھ کر کھڑاہوں، مذاکرات کرتے ہیں اور نہ ہی ریکارڈ چیک کرتے ہیں ، طالبان یادہشتگرد نہیں ، میں اب ڈکیت بھی نہیں ، ماضی میں ڈکیتیاں کرتارہالیکن اب توبہ کرچکاہوں ، اگر کوئی واردات کی ہے یا ڈاکہ ڈالا ہے تو آئی جی پنجاب بتائے ، ہمیں بھی پتہ چلے کہ یہ جرم کیا ہے اور اب حکومت آگئی ، ہمارے دشمن ان کے ساتھ تھے، میں دشمن کے آگے سر نہیں جھکا سکتا، میں شہید ہوجاﺅں گا، میں اپنے سر پر کفن باندھ کر کھڑا ہوں۔
ایک اور سوال کے جواب میں چھوٹو کاکہناتھاکہ حکومت اور خود پولیس اہلکار ہمیں اسلحہ بیچتے ہیں ، دوسروں سے نہیں لیتا، یہ بات پولیس سے پوچھیں ،فوج آئے اور دیکھے کہ اسلحہ کون کونسا ہے ، فوج کیوں نہیں دیکھتی ، یہاں افسران آئیں ، ہمارے ساتھ کوئی بات ہی نہیں کرناچاہتا، اس حدتک پہنچانے میں علاقے کے سرداروں کا بھی ہاتھ ہے ، کبھی طالبان ، کبھی دہشتگر د اور کبھی کچھ نام دیاجاتاہے لیکن اب میں مرنے کیلئے تیارہوں ۔

Comments are closed.

Scroll To Top