Home / Uncategorized / چینی حکومت کی طرف سے سنکیانگ کے مسلمانوں پر روزہ رکھنے کی پابندی قابل مذمت ہے:سینیٹر ساجد میر
چینی حکومت کی طرف سے سنکیانگ کے مسلمانوں پر روزہ رکھنے کی پابندی قابل مذمت ہے:سینیٹر ساجد میر

چینی حکومت کی طرف سے سنکیانگ کے مسلمانوں پر روزہ رکھنے کی پابندی قابل مذمت ہے:سینیٹر ساجد میر

لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے چینی حکومت کی طرف سے سنکیانگ کے مسلمانوں پر روزہ رکھنے کی پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک چین دوستی اپنی جگہ مگر سنکیانگ کے مسلمانوں کے ساتھ چین کا امتیازی سلوک نا قابل برداشت ہے ،پاکستان سمیت تمام مسلمان ملکوں کو چین کے اس رویہ کے خلاف احتجاج کرنا چاہئے،اگر یہی پابندی امریکہ یا کسی مغربی ملک میں لگی ہو تی تو طوفان برپا ہو جاتا۔

نجی ٹی وی ’’سیون نیوز ‘‘ کے مطابق سینیٹر ساجد میر کا کہنا تھا کہ سنکیانگ کے مسلمانوں کے ساتھ چینی حکام کا رویہ تمام عالمی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، طاقت کے زور پر کسی عقیدہ کو ختم کرنے کا رویہ ناقابل قبول اور غلط ہے، پوری دنیا میں سب عقیدوں کا احترام کیا جاتا ہے، چینی حکام اپنے آمرانہ اور ظالمانہ ہتھکنڈوں سے اس متفقہ اصول کو مسترد کر رہے ہیں، سنکیانگ کی مسلمان آبادی کے خلاف جبر و ستم کا سلسلہ تشویش نا ک ہے۔ انہوں نے کہ چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی نے سنکیانگ صوبے میں مسلمانوں کو روزہ رکھنے سے منع کر دیا ہے، سرکاری ملازمین ، استادوں اور طالب علموں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ روزہ نہیں رکھ سکتے کیونکہ یہ حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف ہے۔پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ حیرت انگیز طور پر عالم اسلام کی طرف سے ا س جبر پر کوئی احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی حکام نے پہلی مرتبہ رمضان المبارک کے دوران بیشتر مسلمان آبادی پر روزہ رکھنے کی پابندی عائد کی ہے، کمیونسٹ پارٹی سکولوں اور کالجوں میں اساتذہ طالب علموں کو زبردستی پانی پینے کا حکم دیتے ہیں، کمیونسٹ پارٹی کے کارکن مسلمان گھرانوں میں مفت کھانا پہنچاتے ہیں اور تقاضہ کرتے ہیں کہ وہ روزہ نہ رکھیں۔ چینی حکام اپنے آمرانہ اور ظالمانہ ہتھکنڈوں سے اس متفقہ اصول کو مسترد کر رہے ہیں، اس لئے اس کے خلاف آواز بلند کرنا، اسے مسترد کرنا اور چینی حکام کو یہ باور کروانا بے حد ضروری ہے کہ طاقت کے زور پر کسی عقیدہ کو ختم کرنے کا رویہ ناقابل قبول اور غلط ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top