Home / Uncategorized / چین پاکستانی شہریوں کو غربت سے نکال کر امیر بنانے کیلئے سرگرم ہوگیا، ایسی چیز تقسیم کرنا شروع کردی کہ جان کر آپ کو بھی بے حد خوشی ہوگی
چین پاکستانی شہریوں کو غربت سے نکال کر امیر بنانے کیلئے سرگرم ہوگیا، ایسی چیز تقسیم کرنا شروع کردی کہ جان کر آپ کو بھی بے حد خوشی ہوگی

چین پاکستانی شہریوں کو غربت سے نکال کر امیر بنانے کیلئے سرگرم ہوگیا، ایسی چیز تقسیم کرنا شروع کردی کہ جان کر آپ کو بھی بے حد خوشی ہوگی

13023393_1718539198401631_1028383285_n

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چین جہاں پاکستان میں پاک چین اقتصادی راہداری جیسے بڑے منصوبے شروع کر چکا ہے وہیں انتہائی نچلی سطح پر بھی براہ راست پاکستانی عوام کے لیے امید کی کرن ثابت ہو رہا ہے۔ بالخصوص دیہی علاقوں کے زبوں حال کسان چین کے مالی تعاون سے مستفید ہو رہے ہیں۔ انگریزی اخبار ”پاکستان ٹوڈے“ کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے ضلع ٹنڈوالہ یار کے ایک دورافتادہ گاﺅں کا 41سالہ کسان غلام سرور تین ایکڑ زمین کا مالک ہے مگر اس کی اس تھوڑی سی زمین پر کیلے کے باغات اچھی پیداوار دے رہے تھے جس سے وہ خوشحال زندگی گزار رہا تھا۔ 2009ءمیں ایک وائرس کی وجہ سے اس کے یہ باغات تباہ ہو گئے اور ساتھ ہی اس کی خوشحال زندگی ویران کر گئے۔
غلام سرور کے پاس جو تھوڑی بہت جمع پونجی تھی وہ بھی خرچ ہو گئی اور وہ مقروض بھی ہو گیا۔ اس میں سکت نہ تھی کہ وہ نئے پودے خرید کر ان کی آبیاری کرتا اور پھر سے باغ اگاتا۔ پھر اسے چین کی طرف سے مفت میں جدید قسم کے کیلوں کے پودے مفت فراہم کر دیئے گئے اور آج غلام سرور کی زندگی ایک بار پھر خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق غلام سرور کا کہنا تھا کہ ”وہ میری زندگی کا بدترین وقت تھا۔ چین کی طرف سے مجھے ”ویلیم 8818نسل کے 500پودے فراہم کیے گئے اور میں اس بحران سے نکل آیا۔ رپورٹ کے مطابق غلام سرور اکیلا کسان نہیں جس کی چین نے مدد کی۔ ایسے ہزاروں کسان ہیں جو چین کی مدد سے مستفید ہو چکے ہیں۔2009ءمیں آنے والے اس وائرس نے 85ہزار992ایکڑ پر محیط باغات اجاڑ دیئے تھے۔ ان سب کو چین نے پودے فراہم کیے ہیں۔

پاکستان اور ترکی کا دفاع، تجارت، معیشت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون پر اتفاق
پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے سینئر ڈائریکٹر عبدالغفور کا کہنا تھا کہ ”2009ءمیں پاکستان اور چین نے زراعت کے شعبے میں تعاون کے لیے ساڑھے 25کروڑ روپے سے پاک چین کوآپریشن فار ایگریکلچرل ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کے قیام کا مقصد کپاس، کیلا، آئل سیڈز، مکئی ، گنے اور آبپاشی کے نظام میں بہتری لانا تھا۔ اسی ادارے کے ذریعے ان کیلے کے باغات کے مالک ان کسانوں کی امداد کی گئی ہے جو اس وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔ اس ادارے کے ذریعے چین نے گزشتہ دو سال کے دوران کیلے کی تین چینی اقسام کے 1لاکھ 30ہزار پودے کسانوں کو فراہم کیے گئے ہیں۔“

Comments are closed.

Scroll To Top