Home / Uncategorized / چین کو زوردارجھٹکالگ گیا، اہم ترین علاقہ ہاتھ سے نکل گیا
چین کو زوردارجھٹکالگ گیا، اہم ترین علاقہ ہاتھ سے نکل گیا

چین کو زوردارجھٹکالگ گیا، اہم ترین علاقہ ہاتھ سے نکل گیا

ایمسٹرڈیم(مانیٹرنگ ڈیسک) فلپائن کے دائرکردہ بحر جنوبی چین کے مقدمے میں عالمی عدالت انصاف نے چین کو ایک زوردار جھٹکا دے دیا ہے اور سمندر کا یہ انتہائی اہم حصہ چین کے ہاتھ سے نکلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق عالمی ثالثی عدالت نے گزشتہ روز چین کے بحر جنوبی چین کی ملکیت کے دعوﺅں کو مسترد کرتے ہوئے فلپائن کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے اور ان سمندری حدود میں چین کی فوجی تنصیبات اور مصنوعی جزیروں کی تعمیر کو بھی غیرقانونی قرار دے دیا ہے۔ نیدرلینڈ کے شہر ہیگ میں واقع عالمی ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ”ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ چین تاریخی اعتبار سے خصوصی طور پربحرجنوبی چین پر قبضے کا حق رکھتا ہے۔چین کے ان سمندری حدود کی ملکیت کے دعوے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ چین نے بحرجنوبی چین میں تنصیبات قائم کرکے سمندری ماحولیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا بھی مرتکب ہوا ہے۔“
فیصلے کے بعد اس مقدمے کی پیروی کرنے والی فلپائن کی وکلاءٹیم کے سربراہ پاﺅل ایس ریچلر کا کہنا تھا کہ ”عالمی عدالت کا فیصلہ ہماری تاریخی فتح ہے۔ مقدمے کے ہر ایک نکتے پر ہمارا موقف درست ثابت ہوا ہے اور ہر نکتے پر ہماری فتح ہوئی ہے۔“رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کی عالمی قانونی حیثیت بہت زیادہ ہے تاہم اس پر عملدرآمد کرنے کا تاحال کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔اس پر مستزاد کہ چین نے عالمی عدالت میں اس مقدمے کی سرے سے پیروی ہی نہیں کی اور شروع دن سے عدالت کے دائرہ کار ہی کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ فیصلہ آنے پر چین کی طرف سے اسے فوری طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ ” عالمی عدالت کا فیصلہ بے بنیاد ہے اورچین اسے تسلیم نہیں کرتا کیونکہ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔60سے زائد ممالک عدالتی فیصلے کو مسترد کرنے کے ہمارے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔“امریکی محکمہ داخلہ کے ترجمان جان کربے نے اس فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”واشنگٹن کو امید ہے کہ چین اس فیصلے پر عملدرآمد کرے گا۔ دنیا کی نظریں اب چین پر ہیں۔چین اپنے آپ کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کہتا ہے۔ اب دنیا کی نظریں اس پر ہیں کہ آیا وہ اپنے ذمہ دار عالمی طاقت ہونے کا ثبوت دیتا ہے یا نہیں۔“
رپورٹ کے مطابق عالمی ثالثی عدالت میں فلپائن کے دائر کیے گئے اس کیس اور اس کے فیصلے کو اس لیے بھی انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ چین تیزی سے ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے اور اسے امریکہ کا حقیقی مدمقابل سمجھا جا رہا ہے۔پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ چین کو کسی عالمی عدالت میں طلب کیا گیا ہے۔دوسری طرف چینی میڈیا بھی عالمی عدالت کے اس فیصلے کو بے معنی اور کالعدم قرار دے رہا ہے۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ”ژن ہوا“ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ”بین الاقوامی عدالت کا فیصلہ غیر قانونی، بے معنی اور کالعدم ہے۔“ چینی اخبار دی پیپلز ڈیلی کا کہنا ہے کہ ”اس فیصلے کی اہمیت ردی کے کاغذکے سوا کچھ نہیں۔“واضح رہے کہ بحر جنوبی چین کے خطے پر متعدد ممالک اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں جن میں چین، تائیوان، ویت نام، فلپائن، ملائیشیا اور برونائی شامل ہیں۔ حالیہ برسوں کے دوران ان ممالک میں اپنی اپنی ملکیت کے دعوﺅں پر کشیدگی میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکہ بھی چین کے خلاف دیگر ممالک کا ساتھ دے رہا ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top