Home / Slider / کراچی کیلئے رینجرز کے خصوصی اختیارات کا نوٹیفکیشن جاری
کراچی کیلئے رینجرز کے خصوصی اختیارات کا نوٹیفکیشن جاری

کراچی کیلئے رینجرز کے خصوصی اختیارات کا نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد: صوبہ سندھ میں رینجرز کے خصوصی اختیارات پر وزارت داخلہ نے سندھ حکومت کی  درخواست پر 2 نوٹیفکیشن جاری کردیے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پہلے نوٹیفکیشن کے تحت سندھ میں ایک سال کے لیے رینجرز کو تعینات کردیا گیا ہے۔

جبکہ دوسرا نوٹیفکیشن رینجرز کے 90 روز کے اختیارات سے متعلق ہے۔

ڈان نیوز کو ملنے والی نوٹیفیکیشن کی کاپی کے مطابق وزارت داخلہ نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے رینجرز کے سندھ میں قیام میں ایک سال کی توسیع کردی ہے۔

دوسرے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق رینجرز کو کراچی میں مزید 90 روز کے لیے خصوصی اختیارات تجویز کردیئے گئے ہیں جبکہ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اختیارات صرف کراچی ڈویژن کیلئے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل میڈیا میں آنے والی رپورٹس میں کہا جارہا تھا کہ وفاق نے رینجرز اختیارات سے متعلق سندھ حکومت کی 15 شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔

رپورٹس میں مزید کہا گیا تھا کہ رینجرز اپنی کارروائیوں پر پولیس کو نہیں بتائے گی، رینجرز سرکاری دفاتر پر چھاپے کی اجازت نہیں لے گی اور رینجرز کو پٹرولنگ کیلئے بھی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

رینجرز کو کارروائی کے مشروط اختیارات سے وفاق نے عدم اتفاق کیا تھا، وفاق کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت صوبائی حکومت نے وفاق سے مشاورت ہی نہیں کی، جس کے بعد رینجرز سندھ بھر میں پرانے طریقہ کار کے مطابق کارروائیاں جاری رکھے گی۔

رینجرز اختیارات کا معاملہ قومی اسمبلی میں زیر بحث

اس سے قبل صوبہ سندھ میں رینجرز کے خصوصی اختیارات میں توسیع کا معاملہ قومی اسمبلی میں زیر بحث آیا، جہاں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین نے رینجرز کے خصوصی اختیارات کو سندھ بھر میں توسیع دینے کا مطالبہ کیا تاہم پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے اراکین نے اس مطالبے کو آئین کے آرٹیکل 147 کی خلاف ورزی قرار دیا۔

قومی اسمبلی میں پی پی پی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے کہا کہ سندھ حکومت نے آرٹیکل 147 کے تحت رینجرز کے خصوصی اختیارات میں اضافہ کردیا ہے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ رینجرز کے سندھ میں اختیارات میں ایک سال کی توسیع دیئے جانے کے باوجود وزارت داخلہ نے جاری بیان میں کہا کہ اس حوالے سے سندھ حکومت کی سمری کو قبول نہیں کیا گیا۔

انھوں نے وفاقی حکومت سے معاملے کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس طرح کے اقدامات سے فیڈریشن کمزور ہوگی’۔

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی آصف حسین کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم وہ پہلی جماعت ہے جس نے صوبے بھر میں امن و امان کے قیام کیلئے رینجرز کو خصوصی اختیارات دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ رینجرز کو کراچی کی طرح سندھ بھر میں خصوصی اختیارات دیئے جائیں۔

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی نے کہا تھا کہ کراچی میں امن و امان کا قیام رینجرز کو خصوصی اختیارات دیئے جانے کے بعد عمل میں آیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ رینجرز کو اختیارات دیئے جانے کے بعد کراچی میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ سمیت دیگر جرائم میں واضح کمی آئی ہے۔

 

یاد رہے کہ گذشتہ روز سندھ کے نومنتخب وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے صوبے میں رینجرز کے خصوصی اختیارات کی مدت میں توسیع کا معاملہ جلد حل ہونے کا اشارہ دیا تھا۔

سندھ میں رینجرز اختیارات میں توسیع کے معاملے نے رواں برس اُس وقت شدت اختیار کی، جب صوبائی حکومت نے ان اختیارات میں توسیع میں پس و پیش سے کام لیا۔

صوبائی حکومت کی جانب سے سندھ رینجرز کو کراچی میں خصوصی اختیارات دیئے گئے تھے جس کی مدت رواں ماہ 19 جولائی کو ختم ہوگئی تھی۔

کراچی میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع اور یہی اختیارات سندھ کے باقی شہروں میں دینے یا نا دینے کے لیے گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا دبئی میں ایک اہم اجلاس بھی ہوا تھا۔

رینجرز کے اختیارات میں توسیع ایک ایسے وقت میں کی گئی جب ایک روز قبل لاڑکانہ میں میروخان چوک کے قریب رینجرز چوکی کے قریب 2 بم حملوں کے نتیجے میں ایک رینجرز اہلکار ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

رینجرز پر حملے کی ذمہ داری سندھ کی علیحدگی پسند جماعت سندھو دیش ریولوشنری آرمی نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ جائے وقوع کے قریب سے برآمد ہونے والے ایک پمفلٹ میں تنظیم کا کہنا تھا، ‘ہم چاہتے ہیں کہ رینجرز سندھ کے تمام شہروں اور دیہی علاقوں سے فوری طور پر نکل جائے’۔

دوسری جانب گذشتہ ماہ رینجرز کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ستمبر 2013 سے اب تک مختلف کارروائیوں کے دوران اندرون سندھ سے 533 جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top