Home / Uncategorized / کرپشن، احتساب سمیت تمام معاملات پر حکومت اور فوج میں مکمل اتفاق رائے ہے، 48 گھنٹوں میں کمیشن بنانے کا اعلان: چودھری نثار
کرپشن، احتساب سمیت تمام معاملات پر حکومت اور فوج میں مکمل اتفاق رائے ہے، 48 گھنٹوں میں کمیشن بنانے کا اعلان: چودھری نثار

کرپشن، احتساب سمیت تمام معاملات پر حکومت اور فوج میں مکمل اتفاق رائے ہے، 48 گھنٹوں میں کمیشن بنانے کا اعلان: چودھری نثار

13023568_1684937211760975_606145675_n

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پاناما لیکس پر سب سے پہلے حکومت پاکستان کی جانب سے ردعمل آیا لیکن اس کے باوجود کچھ سیاسی عناصر اس مسئلے کی آڑ میں پراپیگنڈہ کررہے ہیں۔ آئین میں فوج کا کام صرف سرحدوں کی حفاظت کرنا نہیں بلکہ اندرونی معاملات میں مدد فراہم کرنا بھی فوج کا کام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ساری توجہ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال پر ہے، کرپشن اور احتساب سمیت مشترکہ معاملات پر حکومت اور فوج میں مکمل اتفاق رائے موجود ہے، کراچی میں فوج نہیں پولیس اور رینجرز کارروائیاں کررہی ہیں تاہم ڈاکوﺅں کے خلاف فوج سے مدد لینے میں کوئی مذائقہ نہیں ہے۔ حکومت نے پاناما لیکس معاملے کی تحقیقات کیلئے 48 گھنٹوں میں کمیشن بنانے کا اعلان کردیا۔
وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ پاناما پیپرز معاملے کی شفاف تحقیقات چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی کی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات سے ایسا ماحول پیدا کیا گیا جس کی وجہ سے سپریم کورٹ کے دو ریٹائرڈ ججز نے پاناما کمیشن کی سربراہی کی پیشکش قبول کرنے سے معذرت کرلی ۔ چودھری نثار کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور افراد کی جانب سے جوڈیشل کمیشن اور پارلیمنٹ سے انکوائری کے مختلف مطالبات سامنے آئے ہیں اور اب اس سلسلے میں پیشرفت ہوئی ہے۔ وفاقی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے پاناما پیپرز کے انکشاف کے بارے میں سب سے پہلے دعمل دیا اور انہوں نے خود قوم سے خطاب میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کی تجویز دی۔ نیویارک میں وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ حکومت پاناما پیپرز کی شفاف تحقیقات چاہتی ہے اور اس مقصد کے لئے کمیشن قائم کرنے کی طرف پیشرفت کی گئی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے پاناما پیپرز کے انکشاف کے بارے میں سب سے پہلے ردعمل دیا اور انہوں نے خود قوم سے خطاب میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کی تجویز دی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ اڑھائی سالوں میں امن وامان کی صورتحال میں نمایاں بہترین آئی ہے، بعض ریات دشمن عناصر مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان کی سرگرمیاں کافی کم ہوچکی ہیں۔ ’را‘ کی سرگرمیوں کے بارے میں سوال پر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکہ کے نمائندوں اور ایرانی حکومت کو بھی پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور سرگرمیوں سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ نوعیت کا مسئلہ ہے، حکومت اس کیس کی تہہ تک جائے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن کی بطور صدر متوقع نامزدگی کے حوالے سے وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کے تعلقات اور معاملات امریکہ کے سیاسی جماعتوں کے ساتھ نہیں بلکہ امریکی حکومت سے ہیں۔ دریں اثناءوفاقی حکومت نے پاناما لیکس پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاناما لیکس کے معاملے پر انکوائری کمیشن کے لئے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دینے سے متعلق کا فیصلہ وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی کے اجلاس میں تفصیلی مشاورت کے بعد کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس معاملے کے بارے میں سیاسی جماعتوں سمیت دیگر سے مزید مشاورت کرنے کی ضرورت نہیں ہے، سیاسی جماعتوں کی مشاورت کے پیش نظر معاملے کی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا جائے۔ حکومت آئندہ 24گھنٹوں میں چیف جسٹس آف پاکستان کو پاناما لیکس کے لئے انکوائری کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کی درخواست کرے گی۔ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں خواجہ آصف اور چوہدری نثار علی خان موجود نہیں تھے۔ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے کمیشن کی تشکیل کے لئے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط 2 روز میں بھجوائے جانے کا امکان ہے۔ وفاقی وزراءنے وزیراعظم نواز شریف کو پاناما دستاویزات کے معاملے پر 24 اپریل سے پہلے تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مشورہ دے دیا، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ عمران خان پاناما دستاویزات کے معاملے پر سیاست کررہے ہیں، 24 اپریل سے پہلے کمیشن تشکیل دینے کیلئے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا جائے، حکومت کی طرف سے آئندہ 24 گھنٹوں میں پاناما دستاویزات کے معاملے پر کمیشن کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کو خط لکھے جانے کا امکان ہے۔ مقامی اخبار کے مطابق جمعرات کو وزیراعظم کی وفاقی وزراءاور پارٹی رہنماﺅں سے ملاقات کے دوران وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق سمیت دیگر وزراءنے مشورہ دیا کہ پاناما دستاویزات کے معاملے پر تحریک انصاف کے 24 اپریل کو جلسے سے قبل کمیشن تشکیل دے دینا چاہیے یا پھر کمیشن کی تشکیل کیلئے کم از کم چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کو خط لکھ دینا چاہیے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ عمران خان کمیشن کے معاملے پر سیاست کرنا چاہتے ہیں ا ور کشیدگی کو فروغ دینا چاہتے ہیں، انہوں نے تجویز دی کہ کمیشن کی تشکیل اور اس میں فرانزک ماہرین سمیت تفتیش کاروں کو شامل کرنے کا اختیار چیف جسٹس آف پاکستان پر چھوڑ دینا چاہیے۔ وزیراعظم کو یہ بھی تجویز دی گئی کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور اس اجلاس میں کمیشن کی تشکیل کا اعلان کیا جائے۔

Comments are closed.

Scroll To Top