Home / Uncategorized / کس ملک کے کسٹمز افسر نے چینی شہری کے پاسپورٹ پر سٹیمپ لگانے کی بجائے یہ گالی لکھ دی اور کیوں؟ جواب جان کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے
کس ملک کے کسٹمز افسر نے چینی شہری کے پاسپورٹ پر سٹیمپ لگانے کی بجائے یہ گالی لکھ دی اور کیوں؟ جواب جان کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے

کس ملک کے کسٹمز افسر نے چینی شہری کے پاسپورٹ پر سٹیمپ لگانے کی بجائے یہ گالی لکھ دی اور کیوں؟ جواب جان کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے

ہنوئی(مانیٹرنگ ڈیسک) چین کا ویت نام، فلپائن و دیگر ممالک کے ساتھ بحرجنوبی چین کے معاملے پر تنازعہ چل رہا ہے جس کی وجہ سے ویت نام نے چینی پاسپورٹ پر اس کے شہریوں کے ویت نام میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔گزشتہ دنوں ویت نام کے ایک کسٹمز افسر نے ایک چینی خاتون کے پاسپورٹ پر مہر لگانے کی بجائے ایسی غلیظ گالی لکھ دی کہ آپ جان کر ششدر رہ جائیں گے۔ شنگھائسٹ کی رپورٹ کے مطابق چین کے پاسپورٹ پر 9ڈیش لائنیں بنی ہوئی ہیں جو بحرجنوبی چین کی نئی حد بندی کو ظاہر کرتی ہیں ۔ ان لائنوں کے ذریعے بحرجنوبی چین کا تمام متنازع حصہ چین کی ملکیت دکھایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ویت نام نے 9ڈیش لائنوں کے حامل چینی پاسپورٹ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جو چینی شہری ویت نام کی سرحد پر ویزے کے لیے پہنچتے ہیں انہیں پاسپورٹ کے بغیر الگ سے ویزہ لینے کو کہا جاتا ہے یا پھر واپسی کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے۔ ایسے ہی گزشتہ روز یہ ژونگ نامی چینی خاتون ویت نام کے شہر ’ہو چی منہ‘ کے ’تان سون نت انٹرنیشنل ایئرپورٹ‘ پر پہنچی تو اس نے اپنا پاسپورٹ ویت نامی کسٹمز آفیسر کو دیا۔ 3منٹ بعد اسے پاسپورٹ واپس دیا گیا تو اس کے 2صفحات پر غلیظ گالی لکھی ہوئی تھی۔ان دونوں صفحات پر چین کا نقشہ بنا ہوا تھا جس میں 9ڈیش لائنیں بھی شامل تھیں۔

رپورٹ کے مطابق ژونگ نے وہاں کسی ویت نامی افسر سے اس حوالے سے شکایت کرنا مناسب نہ سمجھا اور چپ چاپ چلی گئی۔ اس کا کہنا تھا کہ ”میں واپس چین جا کر نیا پاسپورٹ بنوانے کے لیے درخواست دوں گی کیونکہ اب یہ پاسپورٹ استعمال کے قابل نہیں رہا۔ ہو چی منہ میں واقع چینی سفارت خانے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ”ہم ویت نامی حکام سے رابطے میں ہیں اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کے ذمہ دار افسر کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسا واقعہ رونما نہ ہو سکے۔“

Comments are closed.

Scroll To Top